لکھنؤ(۱۸؍دسمبر): لکھنؤ میونسپل کارپوریشن نے اتوار (17 دسمبر) کو گومتی نگر سمتا مولک چوراہے پر تجاوزات کے خلاف مہم شروع کی۔ اس علاقے کو نو وینڈنگ زون قرار دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے میونسپل کارپوریشن کے افسران نے تجاوزات ہٹانے کے لیے کارروائی کی۔ کشمیری دکانداروں کا ایک گروپ اس مقام پر کئی سالوں سے خشک میوہ جات فروخت کر رہا تھا۔ میونسپل کارپوریشن نے ان کا سامان ہٹا دیایا پھینک دیا۔ مبینہ طور پر اس کارروائی کے نتیجے میں دکانداروں اور میونسپل اہلکاروں کے درمیان تصادم ہوا۔

اس کے بعد پولیس نے سات افراد کو گرفتار کیا جن کی شناخت فیضان محمد، یاور احمد، وسیم احمد، عاشق حسین، رؤف نذیر، امیر احمد اور ادریس احمد کے نام سے ہوئی۔ یہ سبھی کشمیر کے کولگام کے رہنے والے ہیں اور انہیں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 151 (سی آر پی سی) کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک پولیس اہلکار کو ایک دکاندار کو تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اس نے دوسرے دکانداروں کو پکڑ کر پولیس وین میں ڈال دیا۔

اے پی سی آر یوپی کے نائب صدر سید محفوظ الرحمٰن فیضی کی فوری مداخلت سے تمام سات افراد کو 18 دسمبر کو ذاتی مچلکے پر رہا کرنے میں مدد ملی۔ اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے کشمیری دکانداروں کی پولیس کی طرف سے ضبط کیے گئے سامان کی بازیابی میںبھی مدد کی۔

اے پی سی آر انصاف کے اصولوں اور منصفانہ اور مساوی معاشرے کی تشکیل کے اپنے مشن کے لیے اپنی لگن کا اعادہ کرتا ہے۔ یہ تنظیم شہری حقوق کے تحفظ اور ایک ایسی کمیونٹی کو فروغ دینے کی کوشش میں مضبوط کھڑی ہے جہاں انصاف کی بالادستی ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے