عبدالرحمن عمری کی ریاض سے خصوصی رپورٹ:
روشن مستتقبل کی منصوبہ بندی، طے شدہ اہداف اور اسے پانے کی سعی پیہم یہ وہ افکار ہیں جن پر ترکیز نگاہ سے منزل آسان ہوجاتی ہے۔ ان ہی خطوط پر رواں دواں انجینئر سالم بن عامر ہیں جنہوں نے کے جی سے بارہویں کلاس تک انٹرنیشنل انڈین اسکول – ریاض سعودی عرب میں زانوئے تلمذ تہہ کیا- تعلیم کے ساتھ ساتھ اسپورٹس کی بھی ذمہ داریاں نبھائیں اور اس میں نمایاں کردار ادا کیا- جواہر لال نہرو انجینیئرنگ کالج اورنگ آباد سے بی ٹیک مکمل کرنے کے بعد ماسٹر ڈگری کے لیے کنیڈا لیمٹن کالج ٹورنٹو کا رخ کیا جسے پوری دنیا میں اہمیت حاصل ہے-
ان کے والد محترم اپنے فرزند انجمند کی لیاقت، صلاحیت اور تعلیمی سفر پر غیر معمولی شاداں و فرحاں ہیں، وہیں پر ان کی والدہ ماجدہ کی ممتا اپنے لخت جگر کے تئیں اس موقع پر یوں ابھر کر آئی کہ ع وہ کیا گیا کہ دروبام ہو گئے تاریک، میں اس کی آنکھ سے گھر کا دیا جلاتی تھی۔
تعلیم ہماری زندگیوں پر اثرانداز ہوتی ہے اور یہ حوصلہ، ہمت اور عزم راسخ کے ذریعہ ہی سے حاصل ہوتی ہے: عزم راسخ ہو تو ہوتی ہیں بلائیں پسپا، کتنے طوفان پلٹ دیتا ہے ساحل تنہا۔ جوانو! یہ صدائیں آرہی ہیں آبشاروں سے، چٹانیں چور ہوجائیں جو ہو عزم سفر پیدا۔
