بیدر۔ 21؍ڈسمبر (محمدیوسف رحیم بیدری): نام رکھنے کے معاملے میں بی جے پی جس سرعت سے کام کرتی ہے ، اتنی ہی تاخیر سے کانگریس پارٹی کام کرتی ہے۔ جو جیسا ہے اس کو ویسا ہی رکھاجائے۔ یہ طریقہ کانگریس کے کام کرنے کارہاہے۔ جب بی جے پی نے ملک میں آہستہ آہستہ قدم جمانے شروع کئے تو ’’نام رکھائی ‘‘ کاایشوچلایااور یہ ایشوکامیاب رہا۔ اسی طرح بی جے پی نے نئے اضلاع اور نئے تعلقہ جات بنانے کو بھی ترجیح دی۔جس کااثر بیدر میں بھی دیکھنے کوملتاہے۔ حال ہی میں بید رکے رنگ مندر(ثقافتی تھیٹر) کا نام لنگایت دھرم کی بھالکی سے تعلق رکھنے والی معروف تعلیمی ہستی چن بسواپٹہ دیوروکے نام پر رکھا گیا۔ جب یہ نام رکھا گیا تو کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی۔ اب بید رائرپورٹ کا نام رکھنے کے لئے کنڑی عوام میں عوامی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی حوالے سے چندمسلم احباب کا خیال ہے کہ بیدرائرپورٹ کانام مدرسہ محمودگاوان کے بانی اور بہمنی سلاطین کے وزیراعظم خواجہ عمادالدین محمودگاوان ؒکے نام پرہونا چاہیے۔ یاپھر حضرت ملتانی بادشاہ رحمتہ اللہ علیہ کے نام پر بیدرائرپورٹ کانام رکھاجائے۔
’’نام رکھائی‘‘ کے معاملے کا تعلق مرکزی حکومت سے ہے۔ اس کے لئے رکن پارلیمان بیدر سے ملاقات اور اپنی بات رکھناضروری ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ بیدر کی اقلیتی آبادی اپنی شناخت پر مصر رہتی ہے یا پھر سابق کی طرح خاموش ہوجاتی ہے۔
