• سال نو کے موقع پر نئی آواز کی 144ویں شعری نشست کا اہتمام۔
  • سماجی کارکن دھیرج گپتا نے ڈاکٹر جاوید کمال کی ادبی خدمات کے مدنظر انہیں ایک شال دے کر اعزاز سے نوازا۔ 

عبدالمبین منصوری

 سدھارتھ نگر:  سال نو کے موقع پر ادبی و سماجی تنظیم نئی آواز کا 144 ویں شعری نشست ڈاکٹر جاوید کمال کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔ اس موقع پر سماجی کارکن دھیرج گپتا نے ڈاکٹر جاوید کمال کی ادبی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ایک شال دے کر اعزاز سے نوازا۔

اعجاز سے سرفراز ہونے کے بعد ڈاکٹر جاوید کمال نے بتایا کہ دھیرج گپتا اپنی سماجی خدمات کے لیے ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ وہ درجنوں بار ڈسٹرکٹ ہسپتال میں خون کا عطیہ دے کر بہت سے مریضوں کی مدد کر چکے ہیں۔

اس کے بعد مقامی شعراء اور کویوں نے اپنی اپنی شاعری اور کویتا کے ساتھ نئے سال کا استقبال کیا اور اپنی بہت ساری تخلیقات بھی پیش کیں۔

پروگرام کا آغاز ڈاکٹر جاوید کمال نے حمد پاک سے کیا۔ اس کے بعد شعری نشست کو آگے بڑھاتے ہوئے نوجوان شاعر عبدالحکیم نے کہا-

 ہم حکومت سے آخر کہاں تک ڈریں گے

ہمیں یہ بغاوت تو کرنی پڑے گی۔

 ڈاکٹر نوشاد اعظمی –

پگھل سکتا تھا تری ایک نظر سے

میرا دل موم ہے پتھر نہیں ہے۔

نہیں جھکتا کسی باطل کے آگے

یہ میرا سر ہے تیرا سر نہیں ہے۔

 سنگھشیل جھلک-

چاند کو خود پر ناز بہت ہے

سورج کے بن چمکیگا کیا؟

 دھیرج گپتا –

استری ساتھ کہاں چھوڑتی ہے وہ تو چھوڑ دیتی ہے دنیا۔

سکون سے باتیں، جاگتی پلکوں کی جانے کتنی راتیں

 وہ چھوڑ دیتی ہے اپنا خیال، بچوں کا دلار،جانے کتنی راتیں

شیو ساگر سحر-

 اس کی بیوی خوش رہتی ہے یعنی شوہر اچھا ہوگا۔

 ایڈووکیٹ شاداب شبیری –

خدا ہی ہے کہ جو سینہ سپر پہاڑوں کے،

جگر کو چیر کے دریا نکال دیتا ہے۔

ریاض قاصد۔

حصے کا اپنے پھول بھی ہم نے خراب کر دیا

کانٹے کو اس نے کیا چھوا رشک گلاب کر دیا۔

ڈاکٹر جاوید کمال-

کچھ ایسی چلائی ہے سیاست میں ہوائیں

گونگا بھی تعصّب کے زباں بول رہا ہے۔

ڈاکٹر فضل الرحمٰن یاس۔

دل کو بت خانہ کر لیا تم نے

اور تصویر سادگی کی ہے۔

 نشست کی صدارت ڈاکٹر فضل الرحمان یاس نے کیا۔ ریاض قاصد مہمان خصوصی کے طور پر موجود رہے۔ نظامت ڈاکٹر جاوید کمال نے کیا۔ دیر شب تک نشست چلتی رہی اور سبھی شعراء اور کوی دل کھول کر سماجی، یکجہتی اور حب الوطنی سے متعلق اپنے اپنے اشعار سے سامعین کو محظوظ کرتے رہے۔

آخر میں ڈاکٹر جاوید کمال نے آ گامی ماہ تک نشست کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے