کاٹھمانڈو نیپال: جمعیت علماء روتہٹ نیپال کے ترجمان مولانا انوارالحق قاسمی نے کہا: مجھے محسوس ہوتاہے کہ سوشل میڈیا کے شروعاتی دور میں شرپسندوں اور اسلام معاندوں کی جانب سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک مکمل اور کامیاب سازش رچی گئی ہوگی، اور اس کے لیے باضابطہ کوئی ٹیم بھی عمل میں لائی گئی ہوگی،جس کا کام کثرت سے سوشل میڈیا پر عریانیت سے مملو اور حیا و پاکدامنی کو شرمسار کردینے والی ویڈیوز ہی نشر کرنا رہاہو؛مگر اب جب لوگوں کو حیا سوز ویڈیوز دیکھنے کی عادت سی ہوگئی اور ان میں اچھی بری چیزوں کے مابین تمیز کی صلاحیت بھی ناپید ہوگئی ،یہی وجہ تو ہے کہ اب بعض مسلم لڑکیاں اور لڑکے بھی غیروں کے ناپاک طریقوں کو اختیار کرکے حیا سوز ویڈیوز نشر کر رہی ہیں اور بلاجھجک اپنے جسموں کی نمایش کر رہی ہیں۔
مسلمانوں کی اس قدر تباہی دیکھ کر میرے دل میں بات آئی کہ مسلمانوں کی اصلاح و رہبری سوشل میڈیا سے بھی ممکن ہے ؛کیوں کہ وقت اور حالات اسی کا مقتضی ہے کہ اب سوشل میڈیا کو بھی اصلاحی پلیٹ فارم بنایا جائے ،اس لیے کہ اس سے بھی مسلمانوں کو راہ راست اور صراط مستقیم پر لانے کا کام بحسن خوبی کیا جاسکتا ہے۔
اسی کے پیش نظر میں نے گزشتہ سال درس احادیث کا مبارک سلسلہ شروع کیا؛مگر سوء اتفاق یہ سلسلہ تیس (30) احادیث پر ہی ختم ہوگیا؛مگرامسال پھر- احباب کے کثرت اصرار پر – درس حدیث کا سلسلہ شروع کیا۔جس میں-الحمد للہ -اب تک ایک سو چالیس (140) کا احادیث کا درس ہوچکا ہے۔ واضح رہے کہ اس سلسلہ درس احادیث کو ابھی تادیر جاری رکھنے کا عزم مصمم ہے۔ اس لیے جملہ احباب و ناظرین و سامعین سےدعاءاستقلال و دوامگی کی پرخلوص درخواست ہے۔
