عالمی شہرت یافتہ شاعر منور رانا مرحوم کے لیے

اسماعیل قمر بستوی

تھا ادب کا حسیں سالار منور رانا

خوب تھا صاحبِ کردار منور رانا

کوئی اشعار میں تمثیل کہاں سے لاؤں

تھا ہمہ جہت وہ فنکار منور رانا

سوگیا موت کی آغوش میں اتنی جلدی

چل دیاچھوڑ کےگھر بار منوررانا

دل میں سامع کے بہت جلد اتر جاتا تھا

جب سناتا تھا وہ اشعار منور رانا

اہلِ اردو نہ کوئی بھول سکےگا اس کو

خوب اردو سےکیا پیار منور رانا

اس کے جانے سے مکدر ہے فضاء عالم کی

انجمن خود میں تھا اخبار منور رانا

ہے دعا رحمتِ یزداں کا لحد پہ ہو نزول

ہے دعا قبر ہو گلزار منور رانا

اس کے حصےمیں قمرعالمی شہرت آئی

وہ تھا ا ردو کا فدا کار منور رانا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے