اسماعیل قمر بستوی
وہ بچپن کا دیا مٹی کا بھرکا یاد آتا ہے
پیالہ خاک کا اب بھی کٹورا یا د آتا ہے
مٹر کے بھوننے کا بھی طریقہ یاد آتا ہے
جو بچپن میں ہیں کھیلے گلی ڈنڈا یاد آتا ہے
لٹکنا پیڑ کی وہ ڈالیوں سے ہے نگاہوں میں
پوالوں میں کیا چھپ کر جو وعدہ یاد آتا ہے
کہاں گھر میں کسی کے تھا فریجر کوئی لوہے کا
وہ برتن مٹیوں کا گھر کا مٹکا یاد آتا ہے
وہ ملنا حسن والوں سے بڑوں کا یاد ہے اب تک
محبت کرنے والوں کا طریقہ یاد آتا ہے
کبڈی کھیلنا پوکھر سے مچھلی مارنا اب بھی
وہ چھپ کر توڑنا راتوں کو گنا یاد آتا ہے
جو پتے ماچسوں کی ڈبیوں کے ہم بناتے تھے
بڑھاپے میں ابھی تک وہ سلیقہ یاد آتا ہے
ابھی تک یاد ہے وہ مارنا پنچھی غلیلوں سے
ابھی تک گاؤں کے باغوں کا رستہ یاد آتا ہے
قمر گزرا ہوا بچپن ہمارا پھر سے کب آئے
بناتے تھے جو مٹی کا گھروندا یاد آتا ہے
