حیدرآباد: دور حاضر میں خلائی سائنس سے متعلق جس تیز رفتاری سے ترقی ہورہی ہے‘ بحیثیت مسلمان ہمیں اپنا مثبت رول ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ اس ترقی سے حسب ضروررت استفادہ کے علاوہ قابل اصلاح پہلوؤں پر انسانیت کو متوجہ کیا جاسکے۔ان خیالات کا اظہار محمد عبد اللہ جاوید صاحب ڈائریکٹر اے جے اکیڈمی نے حیدرآبا د کے معروف دینی مدارس ‘جامعۃ البنات اور ریاض الصالحات میں منعقدہ طالبات کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔
ان دودونوں دینی جامعات میں طالبات کی کثیر تعداد شریک رہی۔ فلکیات سے متعلق بنیادی تفصیلات کے علاوہ خلائی سائنس میں ہورہی ترقی اور موجودہ صورت حال سے طالبات کو واقف کرایا گیا۔مسلم مرد سائنسدانوں کے علاوہ مسلم خواتین سائنسدانوں کی کارکردگی پر بطور خاص روشنی ڈالتے ہوئے فاطمہ الفہری‘ مریم الاجلیہ‘ سوتیتہ المحملی‘ زینب الشھدہ‘گوہرنصیب سلطان اور آمنہ زاریہ کی علوم اسلامیہ ‘سائنس ‘ انجئینرنگ اور ادب کے میدانوں میں غیر معمولی کارناموں کا ذکر کیا۔اور یہ واضح کیا کہ جب دینی علم ‘ مقصد زندگی کی تکمیل اور ایک اعلیٰ وژن کے ساتھ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا خاص فضل نصیب ہوتا ہے۔ خوابیدہ صلاحیتیں جلا پاتی ہیں اور مخصوص میدانوں میں استقلال کے ساتھ موثر کارکردگی ممکن ہوتی ہے۔ہمارے اسلاف کے شاندار کارناموں سے ہمیں یہی سبق ملتاہے۔
آخر میں آپ نے بتایا کہ علم فلکیات کا اسلامی نقطہ نظر سے مطالعہ معرفت رب کا ذریعہ ہوگا۔ متعددقرآنی آیات کی روشنی میں حضرت ابراہیم ؑ کا معرفت حق کی جستجو و غور و فکر کرنے کے طریقے کا ذکر کرتے ہوئے سورہ الانعام کی آیات۷۵تا۷۹ کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا۔جس سے واضح ہوا کہ حق کی معرفت کے بغیر اللہ تعالی کی کما حقہ عبادات نہیں کی جاسکتی۔
تبادلہ خیال کے دوران طالبات نے کئی سوالات کئے جیسے کشش ثقل کے باوجود ‘خلا میں چیزیں کیسے چھوڑی جاتی ہیں؟ سیاہ شگاف کیا ہے؟ مریخ میں کشش ثقل نہ ہونے کی بنا وہاں زندگی کیسے ممکن ہوسکتی ہے؟ لگرانج پوائنٹ کیا ہے؟ پرندہ کی پرواز اور ہوائی جہاز میں مماثلت؟ ٹائم ٹراویل کیا ممکن ہے؟ برموڈاٹراینگل کی حقیقت؟وغیرہ۔
اس پرموقع جامعۃ البنات میں حافظ رفیق احمد نظامی صاحب ‘جامعہ ریاض الصالحات میں عبد الصمد عمودی صاحب کے علاوہ جامعات کے معلمین اورمعلمات شریک رہے۔
