بیدر۔ 7؍مارچ (پریس نوٹ): مادری زبان ایک دوسرے کو سمجھنے اور اپنی بات کو سمجھاکر خوش دلی کے ساتھ جینے کا ذریعہ ہے۔ زبان اگر نہ آتی تو انسان حیوان کہلاتا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زبان دے کراشرف المخلوقات بنایاہے اورساتھ ہی سب سے زیادہ سمجھ بھی دی ہے۔ اسی لئے کسی نہ کسی زبان کے ذریعہ انسان دوسرے انسان سے رابطے میں رہتاہے۔اور اس کو ضروری سمجھتاہے۔ ماہرلسانیات کہتے ہیں کہ مادری زبان انسان کے لئے بھوک پیاس کے بعد دوسری بڑی اہم چیز ہے ۔ یہ باتیں جناب محمد عارف الدین ضلع صدر AIITAبیدر نے کہی ہیں۔ موصوف نے ایک پریس نوٹ جاری کرکے ضلع بیدر کے اردو جاننے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جہاں اردو بولتے ہیں وہیں اپنے لڑکوں؍لڑکیوں کو اردو سکھائیں۔ اردو اسکول میں داخلہ دلائیں۔ اپنے کاروبار میں اردو کااستعمال کریں۔ دوکاندار اپنے سائن بورڈ پر اردو لکھیں۔اوررسائد بھی اردو زبان میں بنائیں۔ دیکھنے میں آرہاہے کہ کئی ایک دوکاندار اردو کے بغیراپنی دوکان پردیگر زبانوں میں سائن بورڈلگوارہے ہیں۔ یہ دراصل اپنی ہی مادری زبان اردو سے بے اعتنائی ہے۔ جب ہم اردو میں بات چیت کرتے ہیں، اپنے خاندان اور بچوں سے اردو بول کررابطے میں رہتے ہیںتو پھر اردوزبان کاحق ہے کہ ہم اس کو اپنے کاروبار اور دیگرمقامات پر بھی استعمال کریں۔ میری نوجوانوں سے گزارش ہے کہ وہ موبائل میں اردو کی بورڈ انسٹال کرکے سوشیل میڈیا کے تمام پلیٹ فارم پر اردو لکھیں اور رومن انگریزی لکھنے سے بچیں ۔ اپنی زبان کو کوئی دوسرا ترقی نہیں دے سکتا۔ اردو کو ترقی دینا ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ دار ی کوپورا کریں۔ اس کے لئے AIITAبیدر آپ کے ساتھ تعاون کرے گی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے