جاوید سرور۔۔۔۔۔ کشی نگری
لبوں پہ لفظ کو ہم بھی چنیدہ رکھتے ہیں
نبی کے ہجر میں خود کو تپیدہ۔ رکھتے ہیں
وہی تو ملتا ہے لکھا ہے جو مقدر میں
خدا ہی دیتا ہے جبکہ عقیدہ رکھتے ہیں
انھیں کے لطف سے لب نے ہے لب کشائی کی
بیاض_نعت میں انکا قصیدہ۔ رکھتے ہیں،،
خداۓ پاک نے بخشا نبی کی امت کو
امام و پیشوا اک برگٔذیدا رکھتے ہیں
انھیں کے آگے در_مستجاب کھلتا ہے
جو اپنی آنکھوں کو بس آبدیدہ رکھتے ہیں
رفاقتیں جو بڑھیں انکے عشق میں اے سرور
غم فراق میں ہم دل دریدہ رکھتے ہیں
