عبدالقیوم ہمدم علی نگری
لیلة القدر بھی اک نشانی ملی
کس قدر رات یہ اک سہانی ملی
آسماں سے ملائک اترنے لگے
ایسی یہ شب ہمیں اک جہانی ملی
جس کے پیش نظر جاگتے ہم رہے
ایسی شب یہ ہمیں اک سبحانی ملی
آج تاروں کی جھرمٹ میں ہے چاندنی
لیلة القدر کی شب نورانی ملی
بخشش و مغفرت ہےاسی رات میں
رات دلکش حسیں اک کہانی ملی
فیصلے ہوتے ہیں آتے ہیں جبرائیل
ان سے دعوت ہمیں اک قرآنی ملی
جاگو ہمدم تلاشو شب قدر کو
رب کی رحمت کی ہر سو روانی ملی
