بیدر۔ 20؍اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری): بیدرمیں پارلیمانی انتخابات7؍مئی کو ہونے جارہے ہیں۔ 19؍اپریل کو پرچہ نامزدگیاں داخل کرنے کی آخری تاریخ تھی۔ 22؍اپریل پرچہ نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ ہے۔ یعنی آئندہ تین ہفتوں کے دوران انتخابی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ لیکن انتخابی ضابطہء اخلاق کے پیش نظرشہر بیدر میں مسئلہ یہ پیدا ہواہے کہ عوام سے من مانی فیس وصول کرنے والے اور مفت اشتہار بازی کے چمپیئن خانگی کالجس اورخانگی انگلش اسکولوںکے اشتہار ات (ہورڈنگس ، بیانروغیرہ) اب کہیں لگائے نہیں جارہے ہیں۔ جس کی وجہ سے سناہے کہ ان مہنگے خانگی تعلیمی انگریزی اداروں کاکاروبارپوری طرح ٹھپ پڑگیاہے۔
ایک صاحب نے ہمیں ٹیلی فون پر بتایاکہ اسی وجہ سے شہرکے ایک تعلیمی ادارے نے 40روزہ مفت سمرکلاسیس کی پیش کش کی ہے۔ جو تعلیمی ادارے پیسہ کے بغیربات کرنا بھی گوارا نہیں کرتے وہ 40روزہ مفت سمرکلاسیس لے رہے ہیں۔ ایک صاحب نے بتایاکہ شہر میں لگائے جانے والے ایک ایک ہورڈنگ پر بلدیہ رقم چارج کرتی ہے ، اس کے خوف سے کوئی بھی تعلیمی ادارہ اپنے ادارہ میں داخلوں کے لئے پبلسٹی نہیں کررہاہے کیوں کہ انتخابات ہیں اور کئی آبزرور شہر پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایک خاتون نے برہمی کے ساتھ کہاکہ بلدیہ بیدر سویاہواہے۔
انتخابات سے پہلے شہر کی دیواروں اور اہم پبلک مقامات ، چوراہوں پر ہر طرف سیاسی پارٹیوں نے ہزاروں بیانر لگائے مگران سے کوئی رقم نہیں لی گئی۔ اگروہ رقم بلدیہ بیدر وصول کرتا تو لاکھوں روپئے کافائدہ ہوتاجس سے بیدر کی عوام کی ترقی ہوتی۔ اب آپ دیکھیں جیسے ہی انتخابات ختم ہوں گے پورے شہرمیں ہورڈنگ اور بیانر لگانے کی پھر ایک بار دھوم ہوگی ۔بغیر چارج والے بیانر اور ہورڈنگ لگانے والے خانگی انگریزی اسکولوں پر شکنجہ کسنے کی سخت ضرورت ہے۔ حکومت اور خصوصاً بیدربلدیہ اورمحکمہ بلدیہ کے وزیر رحیم خان ان کے خلاف کب اقدام اٹھائیں گے ؟
ہم نے چیرمین بلدیہ جناب محمد غوث سے بات کی تو انھوں نے جواب دیاکہ کوئی بھی ادارہ ہورڈنگ اور بیانر لگانے کے چارجس دفتر بلدیہ میں بھر کر اپنے ادارہ کی پبلسٹی کرسکتاہے ۔ ہم نے کہا وہ توسامنے کی بات ہے ۔ ایساکیوں نظر آرہاہے کہ جیسے ہی الیکشن کمیشن نے انتخابات کا اعلان کیاہے کسی بھی جگہ ساڑیوں ، کپڑوں ، جیولری ، تعلیمی اداروں ، اور ہوٹلوں کااشتہار نظر نہیں آرہاہیـ ؟اس پر فون خود ہی کٹ گیا۔ ہم نے بھی انہیں دوبارہ پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔
سناہے کہ محکمہ بلدیہ بیدرمیں نئے کمشنر تشریف لائے ہیں۔ ان سے ہماری گذارش ہے کہ امسال کے ابتدائی تین ماہ (جنوری ، فروری اورمارچ) میں ہورڈنگ اور بیانر کے ذریعہ محکمہ بلدیہ بیدرکو کتنی آمدنی وصول ہوئی ہے ،اس کی اطلاع عوام تک پہنچائیں توعین نوازش ہوگی۔
