بیدر۔ 21؍اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری): جناب سید مجیب ، راشٹریہ مسلم مورچہ ، انچارج جنوبی ہندنے راشٹریہ مسلم مورچہ کے واٹس ایپ گروپ میں ایک پوسٹ روانہ کی ہے، اس پوسٹ کے ذریعہ ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی پالیسی پر ایک نظر ڈالتے ہوئے بہت کچھ لکھاتھااسی کو انھوں نے پریس کے حوالے کرتے ہوئے کہاہے کہ 1947؁ء تک حکومت میں مسلمانوں کی حصہ داری %33 تک رہی لیکن 2024 تک پہنچتے پہنچتے وہ حصہ داری کتنی رہ گئی اس کا ایک جائزہ درج ذیل ہے۔

1885 سے 1947 تک ہندوستان میں مسلمانوں کی یہ پالیسی رہی کہ کانگریس کوسپورٹ کیاجائے کیوں کہ یہ انگریزوں سے لڑرہے ہیں۔ آزادی کے پانچ سال بعد 1952 سے 1980 تک ہندوستان میں مسلمانوں کی پالیسی یہ رہی کہ کانگریس کو ووٹ دو کیوں کہ کانگریس سیکولر پارٹی ہے۔ 1980 سے 2014 تک مسلمانوں کی پالیسی یہ رہی کہ کانگریس کوووٹ دو، کانگریس بی جے پی سے بہتر پارٹی ہے۔ 2014 سے 2019 تک یہ کہا گیا کہ کانگریس کو ووٹ دو، کانگریس پارٹی مسلمانوں کو بی جے پی سے بچالے گی ۔

اب 2024 کی ایک سطر ی پالیسی یہ ہے کہ کانگریس کوووٹ دو، اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ 2024 میں مسلمانوں کی سیاسی حصہ داری %33 سے گھٹ کر %1 رہ گئی ہے۔ گذشتہ 140 سال سے ہندوستانی مسلمان کس اونچائی سے کس پستی تک پہنچ گئے۔ اس تنزل کا ذمہ دار کس کو سمجھاجائے؟ اس کا حساب کتاب ہندوستانی مسلمانوں کوکرنا ہوگا۔ تب ہی وہ اپنی سیاسی اور معاشرتی پسماندگی کود ورکرسکتے ہیں۔ راشٹریہ مسلم مورچہ یہی کام انجام دے رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے