بیدر۔ 24؍اپریل (نامہ نگار): اردوزبان کسی زمانے میں اکثریت کی زبان تھی اور اکثریتی فرقہ میں بھی خصوصیت کے ساتھ برہمن، کائستھ ، وغیرہ کی زبان اردوہی تھی ۔یہ زبان اب مسلمانوں اورسکھوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔لہٰذا اقلیتی طبقات ہی کو اس کی حفاظت کے لئے آگے آنا ہوگا۔ یہ بیان جناب محمدیوسف رحیم بیدری نائب صدر ادارہ ء ادبِ اسلامی ہند کرناٹک نے جاری کیاہے۔ انھوں نے اپنے بیان میں آگے کہاہے کہ پرائمری اورہائی اسکول کے طلبہ کوگرمائی تعطیلات ہوچکی ہیں ۔ ایسے طلبہ جواردو سے دلچسپی رکھتے ہیں خصوصاً انگریزی میڈیم میں پڑھ رہے طلبہ کے لئے’’ گرمائی تعطیلاتی اردو کلاسیس‘‘ کا اہتما م اگر شاعر ، ادیب اوراردو اساتذہ یاان کی تنظیمیں جیسے انجمن ترقی اردو ہند ، ادارہء ادبِ اسلامی ہند،کراٹا ، آئیٹا وغیرہ کرتی ہیں تو یہ احسن بات ہوگی ۔ اردو کلاسیس کے ذریعہ ہم اپنی نسل کو اپنی زبان ، اپنی تہذیب ، اردوزبان وادب اور دینِ اسلام سے قریب رکھ سکتے ہیں۔ دیکھنے میں آرہاہے کہ انگریزی میڈیم طلبہ نمازیں پڑھ لیتے ہیں لیکن اسلام کا فلسفہ ء اقامت دین اوراسلامی فلسفہ ء جہانگیری وجہاں بانی سے دور ہیں۔ہمیں توقع ہے کہ اگر وہ اردو زبان سیکھ لیں گے تو بیک وقت زبان ، تہذیب ، ادب، اور اسلام سے بیحد قریب ہوجائیں گے۔ جناب یوسف رحیم بیدری نے سبھی اساتذہ کرام، شعراء اور قلمکاروں سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اپنے شہر اوردیہات میں اردو کلاسیس کا انعقاد عمل میں لائیں ۔ اسکول میں طلبہ کوپڑھاتے تو ہیں لیکن علیحدہ سے تعطیلات میں طلبہ کوروزانہ ایک دو گھنٹہ اردوپڑھانے کے لئے اردو اساتذہ آگے آئیں اوربراہ کرم اس کی منصوبہ بندی کرلیں۔اسی طرح شعراء ادبااور قلمکاروں سے بھی التماس ہے کہ شعر کہنا، افسانہ لکھنا، مضمون نگاری کرنا احسن عمل ہے لیکن طلبہ کو اردو کی تعلیم دینااس سے افضل ہے اور وقت کی ضرورت ہے ۔جناب بیدری نے ان افراد اور تنظیموں کے کام پر مسرت کااظہار کرتے ہوئے مبارک باد پیش کی ہے جو گذشتہ کئی سال سے گرمائی تعطیلات میں اردو کلاسیس کے انعقاد کا اہتمام کررہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے