ایک روشن چراغ تھا نہ رہا: ڈاکٹر منتظر قائمی
بارہ بنکی(نامہ نگار): پروفیسر سید ظہیر حسن عابدی نہ صرف یہ کہ انگریزی زبان و ادب کے ایک دانشور اور مفکر تھے بلکہ وہ ہندوستانی ادب خصوصاً اردو اور ہندی زبان سے بھی گہرا شغف رکھتے تھے۔ ان کے انتقال سے نہ صرف یہ کہ انگریزی زبان و ادب اور شعر و شاعری کی تفہیم میں ایک خلاء پیدا ہوا بلکہ ہم جیسے نہ جانے کتنے ہی شاگرد ایک شفیق، دردمند اور شاگرد نواز استاد سے محروم ہو گئے۔ یہ باتیں شعبہ اردو کے استاد ڈاکٹر منتظر قائمی نے فخرالدین علی احمد گورنمنٹ پی جی کالج محمود آباد میں مرحوم کے سانحہ ارتحال پر منعقد ایک تعزیتی میٹنگ میں کہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ مرحوم انگریزی ڈرامے جیسی مشکل صنف کے رموز و نکات بالکل پانی کی طرح عیاں کر دیتے تھے۔ کالج میں شعبہ سماجیات سے وابستہ ڈاکٹر رویش کمار سنگھ نے مرحوم کی لکھنؤ یونیورسٹی میں سرگرمیوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بہت ہی سادہ لوح اور نرم مزاج استاد تھے جو راہ چلتے ہوئے طلباء کی تعلیمی اور ادبی دشواریوں کو حل کر دیتے تھے۔ وہ یونیورسٹی کے بہت ہی ہردلعزیز اساتذہ میں شمار کئے جاتے رہے اور سبکدوشی کے بعد بھی شعبہ ان کی خدمات حاصل کرتا رہا۔ انھوں نے انٹیگرل یونیورسٹی کے ہیو مینٹیز شعبہ کے لئے کورس ڈیزائن کیا۔ اس کے علاوہ وہ متعدد یونیورسٹیز کے بورڈ آف اسٹڈیز اور اکیڈمک کونسل کے ممبر بھی رہے ہیں۔ شعبہ ریاضیات سے وابستہ ڈاکٹر ثنا پروین انصاری نے کہا کہ پروفیسر عابدی ایک بہت ہی ملنسار شخصیت کے مالک تھے انھوں نے اپنی دونوں ہی بیٹیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جس کے نتیجے میں وہ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔
شعبہ تاریخ سے وابستہ ڈاکٹر پرارتھنا سنگھ نے کہا کہ پروفیسر عابدی نے کئی کتابیں لکھیں ہیں جو کہ انگریزی زبان و ادب کی افہام وتفہیم میں ایک گراں قدر اضافہ ہیں۔ دوران تدریس وہ اردو زبان و تہذیب کی تشبیہات اور استعارات کو استعمال کرتے تھے تاکہ ہندی و اردو کے طلباء ان مشکل اصطلاحات کو آسانی سے سمجھ لیں۔
شعبہ ہندی سے وابستہ ڈاکٹر نیرج کمار نے کہا کہ مرحوم کلاس روم کی تدریس پر بہت زور دیتے تھے اور وہ خود بھی بڑی ہی ذمہ داری سے کلاس پڑھاتے تھے۔
شعبہ نباتات سے وابستہ ڈاکٹر راجیش سونکر نے بتایا کہ پروفیسر عابدی نے اپنی نگرانی میں کم ازکم پچاس پی ایچ ڈی کرائی ہے اور انھوں نے چالیس برس تک تدریسی خدمات انجام دی ہیں۔ ان کے تمام شاگرد ان کی پیشہ ورانہ خدمات کے سبب مرحوم کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
آخر میں مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کی گئی اور ان کی روح کی تسکین کے لئے سورۂ فاتحہ بھی پڑھی گئی۔
