- فوت شدہ ووٹرز کے نام بھی ووٹر لسٹ میں رہتے ہیں شامل۔
- تیز دھوپ اور گرمی میں بھی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تمام بوتھوں پر مناسب سایہ یا ٹینٹ کا انتظام نہ کرنے کی وجہ سے بھی ووٹ کا فیصد کم ہو سکتا ہے۔
(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر: الیکشن کمیشن کی تمام تر کوششوں اور ضلعی انتظامیہ، امیدواروں اور سماجی کارکنوں کی بھرپور تشہیر اور آگاہی مہم کے باوجود ووٹ کا تناسب 80-90 فیصد تک پہنچنے میں بھی ناکام ہو رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور الیکشن کمیشن کو اس بات کی تہہ تک پہنچنے کی ضرورت ہے کہ اس کی اصل وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ اور اس بات کی بھی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کے اصل ذمے دار کیا اور کون ہو سکتے ہیں؟
اکثر دیکھا گیا ہے کہ بوتھوں پر تیز دھوپ اور شدید گرمی کی وجہ سے ووٹر بوتھ پر جانے سے کتراتے ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں ووٹر صبح 9-10 بجے سے پہلے یا 3-4 بجے کے بعد بوتھ پر جانا پسند کرتے ہیں۔ ایسے میں ضلعی انتظامیہ تمام بوتھوں پر سایہ دار خیموں اور مناسب ٹینٹ کا انتظام کرنے کے ساتھ ہی ساتھ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو بھی یقینی بنائے۔ صرف تشہیر اور ووٹر آگاہی مہم چلانے سے ووٹ کا فیصد نہیں بڑھایا جا سکتا ہے بلکہ ووٹرز کے بنیادی مسائل پر بھی گہری نظر رکھتے ہوئے اسے جلد از جلد حل کیے جائیں۔ مثال کے طور پر کسی ووٹر کا نام ووٹر لسٹ میں شامل نہ ہونے کی صورت میں اگر ووٹر کے پاس ووٹر آئی ڈی اور آدھار کارڈ اور ضروری دستاویزات ہیں تو اسے ووٹ دینے سے محروم نہیں کیا جانا چاہئے۔
بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ پولنگ بوتھ پر سیکورٹی اہلکار ووٹرز کے ساتھ انتہائی سخت رویہ اپناتے ہیں جس کی وجہ سے ووٹرز میں خوف و ہراس کا ماحول پایا جاتا ہے۔ چونکہ ووٹنگ جمہوریت کے قومی تہوار کی مانند ہے جس میں ہر کسی کی شرکت خواہ وہ بچے ہوں، بوڑھے ہوں، جوان ہوں یا خواتین، ان کے جوش و خروش میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے بلکہ پولنگ پارٹیوں اور پولنگ پارٹیوں میں شامل سیکیورٹی اہلکاروں کو رائے دہندگان کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے تب ہی ووٹنگ کا فیصد بڑھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
بعض مقامات پر دیکھا گیا ہے کہ فوت شدہ افراد کا نام بھی ووٹر لسٹ میں شامل رہتا ہے۔ ان کا نام ووٹر لسٹ سے حذف نہیں کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ ووٹر لسٹ میں کچھ ووٹرز کے نام درست طریقے سے درج نہیں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے پولنگ پارٹیاں ووٹروں کو ووٹ ڈالنے سے محروم کر دیتے ہیں۔
بعض مقامات پر ووٹنگ لسٹ میں زندہ ووٹرز کے نام نہیں رہتے ہیں اور بعض مقامات پر فوت شدہ ووٹرز کے نام بھی ووٹنگ لسٹ میں نظر آتے ہیں۔
اس طرح کی تمام بے ضابطگیوں کی وجہ سے ووٹنگ کا فیصد نہیں بڑھ پاتا ہے جس پر الیکشن کمیشن اور ضلعی انتظامیہ کی توجہ مبذول کروا کر تمام مسائل کا فوری حل عوامی مفاد اور قومی مفاد میں اشد ضروری ہے۔
