رفح کے مظلومین پر مسلسل اسرائیل فوج کے تباہ کن حملے اعلانیہ درندگی!

سہارنپور(احمد رضا): بڑی حیرت کی بات ہے کہ غزہ، رفح اور علاقہ فلسطین پر اسرائیلی وزیراعظم اور اس کی آرمی کے ذریعہ اہل ایمان کے خلاف اجتماعی قتل عام کے خلاف جب جب میرے وطن عزیز میں کوئی آواز بلند ہوتی ہے تو کچھ بھگوا کارکنان اس آواز کے خلاف نفرت بھرے طنز کرتے ہوئے دکھائی پڑتے ہیں، ایسے ایسے بیہودہ جملہ استمعال کرتے ہیں کہ انسانیت شرمسار ہو کر رہ جائے اس عمل پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہاں بھی اسرائیل کی ناجائز اولادیں موجود ہیں کہ جو ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے میں سرگرم عمل ہیں، پوری دنیا تماشائی بنی ہوئی ہے جبکہ اسپتالوں اور پناہ گزین کیمپوں پر اسرائیل کی درندگی، فرعونیت، دہشت گردی اور تباہ کن بمباری سات اکتوبر 2023 سے آج تک مسلسل جاری ہے، لگاتار معصوم بچے، خواتین اور مرد و جواں جام شہادت پی رہے ہیں، پوری دنیا اسرائیلی درندگی کے خلاف دہشت کے خلاف سڑکوں پر ہے مگر نتن یاہو اور اس کی آرمی بے لگام اہل ایمان کو مٹانے پر بضد ہے، اسرائیل اپنے ناخداؤں کے بھروسہ اہل فلسطین اور معصوم مسلم عوام کو فنا کرنے کا جو خواب اپنی منحوس آنکھوں میں سجایا ہوا ہے وہ خواب ہی رہ جائیگا، اہل ایمان کو مٹانے والے خود ہی مٹ جائیں گے، بھلا اجتماعی قتل عام کرکے ازل سے آج تک سبھی قومیں جان چکی ہیں کہ اہل ایمان اور اہل اسلام کو مٹانا ممکن ہی نہیں، جتنا قتل عام کرو گے یہ قوم اتنی ہی بڑھے گی۔ لا الٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کہنے والوں کو یہ زمانہ مٹا دے ممکن ہی نہیں!

واضح رہے کہ اسرائیل فلسطین جنگ 235 ویں دن میں شامل ہو چکی ہے، نیتن یاہو پاگل دیوانہ بنا ہوا ہے، امریکہ کی شہ پر اور 57 مسلم ممالک کی کم ہمتی اور نا اہلِی کے نتیجہ میں ابھی تک چالیس ہزار سے زیادہ خواتین، بچوں، جوانوں اور بزرگوں کو شہید کر چکا ہے، ایمان کی کمزوری اور خود پرستی کے جال میں الجھ کر ہم مسلمان آج پوری دنیا میں خود کو ذلیل و خوار، پست اور بے بس محسوس کر رہے ہیں، دنیا بھر میں دو ارب سے زائد مسلمانوں کا مفاد پرستی، لالچ، ذات برادری اور مسلکی منافرت کے سبب تماشا بنا ہوا ہے، حماس معصوم فلسطینی عوام کے ساتھ تن تنہا ظالم جابر اسرائیل کا مقابلہ کرتا آرہا ہے، اسرائیل اب وہاں سازش کے تحت مسلم افراد کا اجتماعی قتل عام کرنے پر اتر آیا ہے، اسپتالوں، مساجد، مدارس کے ساتھ ساتھ اسکولوں اور اسپتالوں پر بم برسا رہا ہے، رفاہی کیمپ میں بھوکے پیاسے مسلم بچو ں اور خواتین کو بارود سے خاک کر رہا ہے، پوری دنیا بالخصوص مسلم ممالک تماشائی بنے ہوئے ہیں، خون کے آنسو بہاتے ہوئے اب کچھ مغربی ممالک نے اعلانیہ طور سے اسرائیل کو جنگی جرائم کا قصور وار ٹھرایا ہے اور اس کے پاگل پن پر لگام کسنے کی مانگ اٹھائی ہے، یوروپین ممالک نے فلسطین کو خود مختار ریاست تسلیم کرتے ہوئے اپنے سفارت خانہ فلسطین میں کھول بھی لیئے ہیں اس لئے اسرائیل پاگل ہو اٹھا ہے اور اہل فلسطین کے قتل عام پر اتر آیا ہے، کچھ مغربی اور مسلم ممالک نے اور ہندوستان کے درجن بھر علماء کرام نے بھی اپنی اپنی تنظیم کی جانب سے فلسطینی ریاست کے لئے مالی امداد کے ساتھ ساتھ کھانے، کپڑے اور دوائیوں کا بندوبست بھی کیا اور فوری طور سے پاگل نیتن یاہو اور اس کی آرمی پر لگام کسنے کی مانگ اٹھائی ہے، فلسطین کے علاقے میں آباد معصومین کے لئے اہل سنت، اہل تشیع اور بریلوی مسلک کے پیروکار سب سے زیادہ ہمت دکھا رہے تھے، آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے کوئی مسلک يا ذات برادری سامنے نہیں آئی، اسرائیل کی فرعونیت کو للکارنے کی کسی مسلم ملک نے ہمت نہیں دکھائی، جن افراد نے ملت اسلامیہ کے اتحاد اور سدھار کے لئے کچھ بھی تعاون کیا وہ لائق تحسین کارکردگی ہے!

حالات حاضرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے کہا کہ آج اگر ایران نے1700 كلو میٹر کا سخت ترین سفر طے کرتے ہوئے اسرائیل کے سینہ پر لات مار دی تو اس بات کو شیعہ اور سنی کے نظریہ سے پیشِ کرنا ملت اسلامیہ میں موجود آپسی خلوص اور بھائی چارے کو ضرب لگانے جیسا عمل ہے، آج پستی سے نکلنے اور ظالموں کو سبق سکھانے کے لئے لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان رکھنے والوں کو متحد ہونا ہی پڑیگا۔

محمد علی نے صاف شفاف الفاظ میں کہا کہ مسلکی منافرت پھیلانے والے بیان اور تحریریں ملت اسلامیہ کو خسارہ پہنچانے کے سوائے کچھ بھی نہیں دے سکتی؟ اسلئے ہم سبھی کے لئے اشد ضروری ہو گیا ہے کہ ہم خدارا صرف صرفِ اہل ایمان کی حیثیت سے زبان کا استعمال کریں، یہی ملک و ملت اور اہل اسلام کے لئے سب سے بہتر عمل ہوگا، یہ موقع ایک دوسرے کی تنقید یا مخالفت کا نہیں، خدارا اپنا وزن اور اپنی حیثیت پرکھو، متحد ہو جاؤ، جگہ جگہ اسرائیلی سوچ اور کردار کے لوگ موجود ہیں !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے