پہلے کشمیر فائیل پھر کیرالہ اسٹوری اب ہم دو ہمارے بارہ جیسی فلمیں بنانا ملت اسلامیہ کے خلاف نفرت کا زہر پھیلانیکا خطرناک کھیل!
سہارنپور ( احمد رضا): اس بات کو کہنے میں ہم کو کچھ بھی ڈر یا خوف نہی کہ تعصب پسند اور مسلم آبادی سے نفرت رکھنے والے افراد نے صدی پرانی سو چ کو بھاجپا کے 2014 میں اقتدار میں آجانے کے بعد عوام پر رائج کرنے کی پلاننگ سے یکایک مسلم افراد پر حملہ شروع کر دئیے مدارس اسلامیہ کے ساتھ ساتھ آزان نمازِ مساجد اور خاننقا ہون کو نشانہ بنایا جا نے لگا، اجتماعی تشدد کے واقعات نے سیکڑوں مسلم افراد کو جام شہادت پینے کو مجبور کر دیا، مرکزی سرکار اور ریاستیی بھاجپا سرکاروں نے ہندو شدت پسندی کی پشت پناہی کر تے ہوئے اعلانیہ مسلم آبادی پر ظلم کے پہاڑ توڑے، گھروں کو مٹی بنا دیا، مخالفت کرنے والے اداروں اور تنظیموں کے افراد کو بلا قصور جیلوں میں ٹھونس دیا، دس سالوں سے 20 فیصد مسلم آبادی ہندو شدت پسندی کا لقمہ بنی ہوئی ہے، سرکاری مشینری مسلم افراد کے خلاف بلڈوزر چلا کر زمین دوز کر دیتی ہے مگر ظالم ہندو شدت پسند افراد کو گرفتار کرنا تو دور کی بات ان کے خلاف شکایت تک درج نہیں کرتی، بھاجپا کے اقتدار والے علاقوں میں ہزارون مسلم خواتین کو بربادی کے دہانے پر کھڑا کیا جا چکا ہے مظلوم مسلمانوں کے پاس ظالموں سے مقابلہ کے لئے ہمت اور سیاسی قوت نہیں ہے، یہاں ملک میں مسلسل دس سالوں کے دوران جو نفرت اور زہر مسلم آبادی کے خلاف پھیلایا گیا اس کی کسی دیگر مقام پر کوئی مثال نہیں ملے گی لیکن اب پانی سر سے گزر گیا ہے، آواز حق اٹھانے کا وقت آگیا ہے، اب ظالم اور جابر افراد پر اللہ نے اپنا عذاب ناکامی کی شکل و صورت میں نازل کر دیا ہے، اقتدارِ کے تکبر نے ظالمین کو سڑک پر لاکھڑا کیا ہے، وقت رہتے ان کے ظلم و جبر کے خلاف متحد ہوکر آواز بلند کریں یہی جمہور ی نظام کا تقاضہ ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے نفرت کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور کہا ہے کہ’’ہمارے بارہ‘‘ جیسی فلموں کو انتہائی لغو، لچر، گمراہ کن، فرقہ وارانہ، اشتعال انگیز ،کذب و افتراء پر مبنی، ملک کی سالمیت اور بھائی چارہ کو نقصان پہنچانے والی اور اسلاموفوبک مانتا ہے۔ بورڈ حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس فلم کی نمائش پر فوری پابندی لگائے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں اس بات پر انتہائی حیرت اور تعجب کا اظہار کیا کہ کس طرح فلم سنسر بورڈ نے اس لغو، گمراہ کن، اشتعال انگیز اور ملک کے ایک فرقہ کو بدنام کرنے والی فلم کی نمائش کی اجازت دی ہے۔ اس سے خود سنسر بورڈ کی غیر جانب داری پر سوالیہ نشان کھڑا ہوجاتا ہے۔ فلم کے ٹائٹل، اس کے تھیم، اس کی پوری کہانی اور مکالموں کے ذریعہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کی شبیہ ہی بگاڑنے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ یہ فلم مذہب اسلام اور اس کی تعلیمات پر بھی جارحانہ حملہ کرتی ہے۔
بورڈ کے ترجمان نے کہا یوں تو ہندوستانی فلموں میں کئی بار اسلام اور مسلمانوں کی تصویر کو مسخ کیا گیا تاہم ان دنوں تو ایسا لگ رہا جیسے ایسی بدنام زمانہ فلموں کی باڑھ سی آگئی ہو۔ کیرالہ اسٹوری اور کشمیر فائلس کے ذریعہ مسلمانوں کو دہشت گرد اور اسلام کو دہشت کو فروغ دینے والے مذہب کے بطور پیش کیا گیا۔ اب اس فلم کے ذریعہ قران مجید کی ایک آیت کو توڑ مروڑ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ اسلام میں عورت ایک بے وقعت مخلوق ہے انہوں نے آگے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مردم شماری کے سرکاری اعداد و شمار یہ بتا رہے ہیں کہ مسلمانوں کی شرح پیدائش بہت تیزی سے اور مسلسل گھٹ رہی ہے لیکن ہمارے بارہ جیسی فلمیں اس کے برعکس اکثریت کے دلوں میں مسلم آبادی کے اضافہ کا خوف پیدا کررہی ہیں۔
ڈاکٹر الیاس نے مطالبہ کیا کہ ہمارے بارہ جیسی شر انگیز، من گھڑت اور اسلامو فو بک فلم پر فوری پابندی لگائی جائے اور فلم کے پرو ڈیوسر، ڈائریکٹر اور کرداروں پر ایک طبقہ کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام کے تحت مقدمہ چلایا جائے!
