• اللہ کو قربانی پسند ہے۔
  • دنیا بھر میں امن اور خوشحالی کے لیے مانگی گئیں دعائیں
  • لوگ دن بھر خوشیاں بکھیرنے میں رہے مصروف
  • بچوں نے بڑھائی عید کی رونق
  • سخت گرمی نے عید گاہوں کی جگہ مساجد میں بھی نماز عیدالاضحی کی ادائیگی پر کیا مجبور

سنت کبیر نگر(رپورٹ ظفیر علی کرخی /محمد رضوان ندوی):

ضلع کے تمام شہر قصبہ اور د یہی اور مسلم اکثریتی علاقہ میں پیر کے روز عیدالاضحی کی دو رکعت خصوصی نماز ادا کی گئی۔اس موقع پر دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔رحمت کی بارش کے لیے بھی دعا ہوئی۔
تمام عیدگاہوں اور مساجد میں جانے کا سلسلہ صبح سے ہی شروع ہوگیا، نئے اور رنگ برنگے کپڑوں میں عیدگاہوں اور مساجد میں پہلے سے اعلان کے مطابق سب نے اجتماعی طور پر عیدالاضحیٰ کی دو رکعت نماز ادا کی۔ لوگوں نے اکٹھے ہو کر دنیا میں امن و خوشحالی کے لیے اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعائیں کیں، اولاد کی کامیابی، گناہوں کی معافی اور پریشانیوں سے نجات کی دعا بھی کی۔
ضلع کی سب سے بڑی جامع مسجد سمریاواں میں مولانا محمد ارشد قاسمی نے مقررہ وقت کے مطابق نماز پڑھائی۔اس موقع پر علاقہ بھر کے کثیر تعداد میں لوگوں نے نماز ادا کی۔۔


علاقے کی مساجد اور عید گاہوں میں جہاں ایک طرف ملک میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے دعائیں مانگی گئیں وہیں دوسری جانب اللہ تعالیٰ سے گرمی سے نجات اور رحمت کی بارش کے لیے بھی اجتماعی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا جس میں کثیر تعداد میں بزرگ بچّے اور سبھی شامل تھے۔

پیر کی صبح موسم خوشگوار تھا۔ دریں اثناء صبح 6 بجے سے 7،30 اور 8 بجے تک مساجد اور عیدگاہوں میں عید الاضحی کی خصوصی دو رکعت نمازیں ادا کی گئیں اور بقرعید کے موقع پر مساجد اور عیدگاہوں میں بارش کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ جامع مسجد، علاقے میں واقع چھوٹی بڑی مساجداور عید گاہوں میں شدید گرمی راحت اور رحمت کی بارش کی دعائیں مانگی جا رہی ہیں۔ جمعہ کے روز اور روزانہ کی پانچ وقت کی نماز کی ادائیگی کے بعد خصوصی دعائیں کی جا رہی ہے۔
سورج طلوع ہونے کے بعد گرمی اپنا اثر دکھا نا شروع کر دیتی ہے۔ دس سے گیارہ بجے تک موسم کا رنگ بدلنے لگتا ہے ۔
موسم کی سختی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ گرمی سے ہر کوئی پریشان ہے۔ لوگ دوپہر سے شام تک گھروں میں چھپنے پر مجبور ہیں۔ سڑکوں اور چوراہوں پر خاموشی چھائی رہتی ہے۔اس شدید گرمی سے نہ صرف انسان بلکہ جانور اور پرندے بھی متاثر ہوتے ہیں۔
کھیتوں میں لگائی گئی دھان کی نرسریاں بھی خشک ہونے لگی ہیں، گرمی کی وجہ سے کاشتکار ہر روز کھیتوں میں پانی بھرنے پر مجبور ہیں۔ اور شام میں موسم کی تبدیلی کے لیے امید بھری نظروں سے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔اور اللہ سے رحمت کی بارش کے لیے دعا کرتے ہیں۔

مسلم اکثریتی علاقہ تپہ اجیار میں یہاں یہاں ہوئی نماز

ضلع بھر میں پیر کو بقرعید کا تہوار پرامن ماحول میں منایا گیا، شہر کے ساتھ ساتھ ترقیاتی بلاک سمریاواں ،دودھا را، باغ نگر کے دور دراز کے دیہی علاقوں میں بھی صبح ہی سے بقرعید کی رونق نظر آئی دریا آباد، کرہی، دانوکوئیاں، کوہریاوان، اسرہ شہید، بگرا میر، تلجا، اگیا، پوروا، اونچھارا، صالح پور، چھتونہ، چھپیا مافی، تنہری مافی، سہونڈا، پرسا ،لوہرولی ،سیسوا جیسے مقامات پر واقع مساجد اور عیدگاہوں میں نماز عقیدت کے ساتھ ادا کی گئی۔

بچوں نے خوب خریدے من پسند کھلونے

علاقہ کی تمام عید گاہوں کے قریب مختلف قسم کی دکانیں سجائی گئیں اور عید گاہوں پر لگے میلوں میں بچوں کی کافی بھیڑ رہی ۔ بچوں نے گھروں سے ملنے والی عیدی سے پسندیدہ کھلونے، آئس کریم، قلفی، غبارے، پتنگ، جہاز، جے سی بی مشین، کاریں اور گڑیاں خریدے۔ پھلوں اور مٹھائی کی دکان پر بھی ہجوم تھا بچوں نے خوب مزہ کیا اور سارا دن جشن منایا۔ظفیر علی نے بتایا کہ اب مٹی سے بنے کھلونے اور برتن میلوں میں نہیں دکھائی دیتے۔ریڈی میڈ بنے پلاسٹک کے کھلونوں سے بازار گلزار رہے۔
عیدالاضحی کی نماز ادا کرنے کے بعد لوگ اللہ اکبر کی صدا بلند کرتے ہوئے گھروں کی طرف لوٹ گئے، بقرعید کے پہلے روز اور دوسرے روز تپہ اُجیار کے تمام گاوں میں بڑی تعداد بکروں کی قربانی کی گئی۔ دن بھر عید کی خوشی منانے میں لوگ مشغول رہے۔

پولیس انتظامیہ الرٹ

بقرعید کو پرامن طریقے سے منانے کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس انتظامیہ اور پولیس اہلکار صبح کے وقت سے ہی الرٹ رہے، تحصیلدار اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جامع مسجد سمر یا واں اور دیگر عیدگاہوں کے قریب پولیس کے جوان موجود رہے۔پورے علاقہ میں امن اور خوشگوار ماحول میں نماز ادا کی گئی اور قربانی کی گئی۔

نوجوان سارا دن سوشل میڈیا پر رہے مصروف

نو جوان طبقہ نے بقرعید کے موقع پر خوب خوشیاں منائیں۔سارا دن سوشل میڈیا کے ذریعے ملک بیرون ملک دوست احباب عزیز اقارب اور رشتہِ دار وں سے خوشیاں شیئر کیں ۔ٹولی بناکر خوب یادگار سیلفی لیے۔ گاؤں میں اہل خانہ، رشتہ داروں، بھائیوں اور دوستوں کو عید کی مبارکباد کا سلسلہ اور سیلفی اور فوٹو شوٹ کا سلسلہ جاری رہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے