پرفتن حالات میں مسلم علماء کرام اور مسلم قائدین کا متحد رہنا بیحد ضروری! نظام الدین مصباحی
سہارنپور(احمد رضا): مدیہ پردیش کے علاقہ منڈیلہ میں بلاوجہ گھر میں گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں درجن بھر مسلمانوں کے گھروں کو بلڈوزر چلا کر زمین دوز کر دیا گیا اور ہندو شدت پسند افراد نے گھروں کا قیمتی سامان بھی خرد برد کردیا اسکے علاوہ تلنگانہ کے علاقہ مینڈک میں مسلح ہندو شدت پسند افراد نے جلوس کی شکل میں آکر مسلم افراد کے گھروں اور دکانوں پر حملہ کرتے ہوئے بری طرح سے مارپیٹ کی اور قیمتی سامان بھی لوٹ لیا اسکے علاوہ ریاست کی راجدھانی لکھنؤ میں اکبر کے سیکڑوں پچاس سال سے بھی پرانے مکانات و دکانات کو تیوہار کے مقدس موقعے پر بلڈوزر چلا کر زمین دوز کر دیا گیا بھا جپائی خوشیاں مناتے نظر آ رہے ہیں پولیس اور سرکار مسلمانوں کی تباہی دیکھ کر راحت محسوس کر رہی ہے دس سال سے ملک کے بیشتر علاقوں میں مسلم آبادی کے خلاف یہی سب کچھ حکمتِ عملی کام کر رہی ہے مسلم مفکر اور سیاسی قائد تماشائی بنے ہوئے ہیں اب تو ہندو شدت پسند افراد کی ہمت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ وہ کھلے عام کہتے ہیں کہ "حج کے موقع پر دہشت گردوں کے حملہ نہی ہو تے” اس جملہ کے بعد آگے بڑھ کر پاگل ہندو شدت پسند کہتے ہیں” نماز پڑھنی ہے یا آزان دینی ہے تو پاک جاؤ” ٹوئیٹر اور فیس بک کے ساتھ ساتھ انسٹاگرام پر ہندو شدت پسند لگاتار صاحب مزارات کی شان میں دین اسلام اور قرآن کریم کی شان میں مسلسل نازیبہ حملہ کرتے ہیں بلکہ یہ بھی اعلانیہ لکھتے ہیں کہ ہندو علاقہ میں مسلم نظر آئے تو سبق سکھانے کی غرض سے اس پر ٹوٹ پڑو نیز”مسلم لڑکیوں کو جبریہ اغوا کرو اور ہندو رواج کے مطابق شادی کرو سرکار ،سرکاری مشینری اور پو لیس آپکو تحفظ فراہم کرائے گی” اسکے علاوہ ایک ریاست کے چیف منسٹر اعلانیہ لاکھوں کے مجمع میں اعلان کر رہے ہیں کہ "ہم نے مسجدوں سے نکلنے والی چینخ بند کرادی ہے کچھ دن میں یہ اس چینخ یعنی کہ آزان کو بھول جائیں گے ” اسکے علاوہ بہت سے باتیں اور شکا یات ہیں مگر سب سے اہم یہ ہے اتر پردیش میں گزشتہ 6 ماہ سے مسلم خواتین یا تو اغواء کی گئی ہیں یا وہ جبریہ طور سے ہندو بدمعاشوں کے قبضہ میں ہے پولیس کے پاس شکایتیں موجود ہیں مگر ہندو شدت پسند افراد کے خلاف کوئی بھی کاروائی یہ بھاجپا سرکار کرنے کو راضی نہی ہے ایسے حالات میں ملک کا مسلمان خون کے آنسو پینے کو مجبور ہے اتنا زیادہ خسارہ اور ظلم و جبر ہونے کے بعد بھی مسلم طبقہ سڑک پر اتر کر حق کی لڑائی لڑ نے کو تیار نہیں ہیں خد غرض اور مردہ ضمیر ہوکر رہ گیا ہے! اس طرح کے حالات مزید بگاڑے جائیں گے اب اہل ایمان کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ مجاہد بن کر زندگی گزارنے والا بنے حق کی بات کرے اللہ حق کا ساتھ دینے والوں کے ساتھ ساتھ ہے یاد رکھیں کہ اصل موت وہی سے اسکے حکم سے آتی ہے آپکو وقت سے قبل دنیائے فانی کی کوئی بھی طاقت ہلاک نہی کر سکتی ہے اللہ رب العالمین کی طرف سے جب حکم آئیگا تبھی موت آئیگی پھر زمانہ کے فانی آقاؤں سے کیسا خوف آؤ قرآن مجید کے حقوق کے مطابق زندگی جیؤ اور رب العالمین کے احکامات کی اتباع کرو وہی مالک الملک اور خالق حقیقی کائنات ہے زمین اور آسمانوں کا خالق اور حقیقی مالک وہی رب العالمین ہے آؤ بلند آواز سے کہو ” لا ا لہ اللّہ محمد الرسول اللہ” اسی مضمون کی روشنی میں اسلامی اسکالر اور عالم دین مولانا نظام الدین مصباحی نے اپنے گہرے مشاہدہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ پر فتن دور میں اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ وبقاء کے لئے اور حالات حاضرہ کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم سبھی کو ایک پلیٹ فارم بنانے کی سخت ضرورت ہے اور اس سے بھی زیادہ ضرورت مسلم تنظیموں کے علماء ومشائخ وعوام کو ایک ساتھ جوڑنے کی بھی ہے علماء کرام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب ہوتے ہیں انکی رہنمائی بہت ضروری ہے مسلم مفکر نظام الدین مصباحی نے کہا کہ جیسے سنی جمیعت العلماء ہند یا رضا اکیڈمی یا علماء ومشائخ بورڈ یا رضاء مصطفی بریلی شریف تب کہیں جاکر اسلام اور مسلمانوں کا تحفظ ہوپائے گا ورنہ دن بدن حالات اور خراب ہوجارہے ہیں اور امت مسلمہ کے تحفظ وبقاء کے لئے مختلف نشست کی سخت ضرورت ہے جوبھی تنظیمیں ہیں کم زیادہ کرکے اپنے اپنے علاقے میں کام کررہی ہیں جیسے علماء بندیل کھنڈ تنظیم المدارس سنی جمیعت العلماء ہند تنظیم المکاتب تحریک پیغام انسانیت مہراج گنج،رضااکیڈمی بمبئی اس وقت اکابرین علماء کرام وفقہاء عظام ودانشوران کی امت مسلمہ کے جان ومال عزت وآبرو کے تحفظ وبقاء کے لئے ایک نشست کی سخت ضرورت ہے اصل میں بھی بہت کچھ کرنے کیلئے سوچتا ہوں مگر مالی تعاون کی کمی کی وجہ سے ارادے پورے نہیں ہوپاتے ہم اور آپ کو سیاسی پارٹیوں کے خلاف بولنے کے بجائے اپنا پلیٹ فارم بناکرقوم وملت کے لئے کام کریں ہمارا کام ہی جواب بن جائے گا ان شاءاللہ عزوجل اویسی صاحب کے اندر ایک بہت بڑی کمی ہے کہ جو بات اپنے کے بیچ میں کرنے کی ہوتی ہے وہ مجمع عام میں بول جاتے ہیں اس کی وجہ سے بھی مسلمانوں کو پریشانی لاحق ہوجاتی ہے بہرحال ہم اور آپ کو حالات سمجھ کر اپنے اپنے علاقے میں کام کریں اور علماء کرام وعوام کو سیاست میں آنے کی سخت ضرورت ہے تب کہیں جاکر قوم وملت کا بھلا ہوگا اگر آج بھی آپ ایک پلیٹ فارم پر نہی آئے تو پھر آپکے پاس پچھتا نے کے سواۓ کچھ بھی چارہ نہیں بچیگا۔
