ذی الحجہ کے 12 دن بڑی عظمت والے ہیں ہم عبادت و ریاضت سے رب کا فضل طلب کریں! پیر جی حسین احمد
سہارنپور(احمد رضا): لاکھوں مومن مرد اور خواتین کا بيخوف خانہ کعبہ میں حاضر ہونا اور میدان عرفات میں حاضر رہ کر خطبہ حج سننا اللہ رب العزت کا لاثانی معجزہ ہے جو اہل ایمان کی سر بلندی اور نجات کا واحد ذریعہ ہے! ملک بھر میں عزت و احترام سے دیکھی جانے والی خانقاہ”فیض العلوم خانقاہ بوڑیہ کی تاریخی مسجد جامع عبدالکریم ” کے ممبر سے ہفتہ واری خطاب کرتے ہوئے ادارہ کے روح رواں رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ارشاد فرمایا کہ یہ ہجری مہینہ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ چل رہا ہے جو بڑی فضیلت کا حامل عشرہ ہے ان ایام کو فضلیت والے ایام کہا گیا ہے کیونکہ ان ہی ایام میں یوم عرفہ جو حج کا اہم ترین دن ہے، ایام قربانی،نماز عیدالاضحیٰ اور ایام تشریق ہیں یعنی 9 ذی الحجہ کی فجر کی نماز سے 13 ذی الحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد مرد حضرات کے لئے بلند آواز سے اور عورتوں کے لئے تکبیرات تشریق آہستہ سے پڑھنا واجب ہے،
حضرت پیر صاحب نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر امام صاحب پڑھنا بھول جائیں تو مقتدی حضرات بلند آواز سے پڑھیں اور اس بات کو اختلاف کا ذریعہ نہ بنائیں کہ امام نے کیوں نہیں پڑھی؟ حالانکہ امام بھی انسان ہے بھول ہوسکتی ہے آپ نے بیان جاری رکھے ہوئے مزید فرمایا
ان ایام میں نیک اعمال کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور ان دنوں کی عبادت کی بہت زیادہ فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے، چاہے یہ عبادات ذکر و اذکار کی صورت میں ہوں، یا قیام اللیل کی صورت میں یا روزوں کی صورت میں بہر صورت اللہ کے نزدیک حد درجہ پسندیدہ اور باعث اجر و ثواب ہیں،
احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ذی الحجہ کے ابتدائی ایام میں ہردن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر اجر رکھتا ہے، اور بطورِ خاص یومِ عرفہ (9 ذی الحجہ)کے روزے کی یہ فضیلت بیان کی گئی ہے کہ اس دن کا روزہ ایک سال قبل اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ ہے۔۔
حضرت پیر صاحب نے فرمایا کہ صاحب نصاب شخص پر قربانی واجب ہے اور قربانی وہ نیک عمل ہے جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوتاہے اللہ کی رحمت متوجہ ہوتی ہے اور قربانی کرنے والے کو دنیا وآخرت کی بھلائیاں نصیب ہوتی ہیں۔
یہ عمل جتنا عظیم الشان ہے اتنا ہی احتیاط کا متقاضی ہے ایک طرف ہم یہ عبادت کرکے اللہ کا تقرب حاصل کررہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف اپنے پڑوسی کو تکلیف پہونچا رہے ہوتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ہم ممنوعہ جانوروں کی قربانی ہر گز نہ کریں اور جن جانوروں کی قربانی کی جاسکتی ہے اس کو بھی صفائی ستھرائی اور پردہ کے ساتھ کریں اس سلسلہ میں حکومت کی گائیڈ لائن بہت مفید ہوتی ہے اس کا پالن کرنا ضروری ہے حضرت پیر صاحب نے آخر میں فرمایا کہ 17 جون کو نماز عید الاضحیٰ ادا کی جائے گی اس لئے ضروری ہے کہ ہم عیدالاضحیٰ کی نماز اپنے اپنے مقام کی عید گاہ میں ادا کریں بلاعذر مقامی مسجد میں عیدین کی نماز پڑھنا درست نہیں ہے انہوں نے فرمایا کہ نماز بھی احاطۂ عید گاہ میں ادا کی جائے روڈ پر اور عوامی مقامات پر نہ پڑھیں یہی حکمت کا تقاضہ ہے اور آپ نے پوری دنیا خصوصاً ملک عزیز ہندوستان میں امن و امان خیر وسلامتی اور ترقی کے لئے دعائیں مانگی!
