محمد یوسف رحیم بیدری ، بیدر ، کرناٹک
۱۔ شمولیت 
مجیب احمد نے افسوس سے کہا’’انسان عجیب چیز ہے۔ کسی دوسرے کو اس کااپنامقام یا حق مل جائے تو جلنے لگتاہے۔ صرف جلتاہی نہیں احتجاج میں لگ جاتاہے ‘‘
ابراراکرام نے پیشانی پر بل ڈالتے ہوئے پوچھا’’کیا مطلب مجیب احمد؟‘‘ مجیب احمد نے کہا’’اب اسی معاملہ کو دیکھ لو، یوپی اے سکنڈ حکومت نے 371(J)قانون بنایاتھاتاکہ پسماندہ علاقہ حیدرآباد کرناٹک ترقی کرسکے ، لیکن اب اس قانون کو ہٹانے کامطالبہ بنگلور میں ہورہاہے ‘‘
ابراراکرام کی سمجھ میں ہی نہیں آیاکہ مجیب احمد نے کیاکہاہے ۔ انھوں نے کہا’’ایساکیوں ؟‘‘
مجیب احمد ہنس کر بولے ’’ایسااسلئے کہ حرص وہوس انسان کواندھا بنادیتی ہیں۔ حیدرآبادکرناٹک کی پسماندگی نظر آنے کے بجائے انہیں اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر ہے ۔ چاہے وہ مستقبل دوسرے بچوں کے مستقبل کی میت پر کھڑا کرنا پڑے ‘‘ابراراکرام نے کہا’’یہ تو غلط اور غیرانسانی بات ہے ‘‘
مجیب احمد نے اس کی آ نکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا’’پھر تو اس غیرانسانی اور غلط بات کے خلاف احتجاج میں شامل ہوجاؤ‘‘
۲۔ ظالموں میں سے 
اس نے ہمت کرلی تھی کہ دنیاسے جاؤں گاتو رب کائنا ت سے کہہ دوں گاکہ تو نے جو چاہا میرے ساتھ کیا۔ مجھ پر میرااختیارہی نہ تھا۔ہرچیز یہاں تک کہ درخت کا پتہ تک تیرے حکم کے بغیر ہل نہیں سکتا۔
پیرومرشد کوپتہ چلاتو انھوں نے ایک موقع پر اس سے کہاکہ میاں! کہاں تمہاری بے بس اور حقیر زبان اور کہاں وہ ہستی جس کے عشق میں اربوں کروڑبندوں نے خود کے نفس کو مارڈالنا پسند کیا اور
 کچھ وہ بھی تھے جنہوں نے اپنی گردنیں کٹاڈالیں ۔تم کس طرح کہوگے وہاں ؟وہاں کسی میں کچھ کہنے کایارا نہیں ہوگا۔
وہ بولا’’ایک میرے جیسا بھی ہونا چاہیے نا پیرومرشد، میں ضرور کہوں گا‘‘ پیرومرشد نے کوئی جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ انھوں نے خودکلامی کے انداز میں کہا’’بڑی سرکار آپ کا کھیل آپ جانیں ، میں تو ظالموں میں سے ہوں ‘‘
۳۔ چلاجاؤں یا ۔۔۔۔۔؟
سب جارہے ہیں تو ایسا لگ رہاہے دنیا خالی ہورہی ہے۔اُسے اس کااحساس تھا۔ لیکن اس احساس کے دائیں جانب سے ایک آواز یہ ابھری کہ تم دنیا داری کے جھمیلے چھوڑ کر بیٹھے ہوورنہ دیکھ لو ، لوگوں کے جانے سے دنیا خالی نہیں ہورہی ہے بلکہ دنیا میں بہت زیادہ لوگ پدھار رہے ہیں۔ اسی لئے تو اپنے ملک کی اور پوری دنیا کی آبادی بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔
اس کی آنکھیں جیسے کھل گئیں۔ واقعی ، دنیا خالی نہیں ہورہی ہے بلکہ یہ گڑھا تو بھرا جارہاہے۔ اس کو افسوس ہواکہ وہ تو دنیا کوخالی سمجھ رہاتھامگر یہ تو ہرآن بھری جارہی ہے۔ اپنی رنگینیوں سے نئی نسلوں کواپنی طرف بلارہی ہے، متاثر کررہی ہے۔ انسانی غول ہیں کہ دنیا کی طرف چلے آرہے ہیں۔ وہ سوچ رہاتھاچلاجاؤں یا کچھ اور سال دنیا میں ٹہر جاؤں؟
۴۔ سناٹا
وہ پھر اچانک مل گیاتھا۔ بہت سی میٹھی میٹھی باتیں ہوئیں ۔ مجھے یقین ہے کہ اب وہ پھر دوتین سال بعد ملے گا۔ حالانکہ اس نے یقین دِلایاہے کہ اب روزملتارہے گا۔میراموبائل نمبر بھی اس نے لے لیاہے۔ میرے اندر کوئی ہنس رہاہے اور کہہ رہاہے کہ ’’آج کے بچے اپنے والدین سے روز نہیں مل رہے ہیں، وہ تو پھر بھی دوست ہے ۔ اور ایسے دوستوں کاکیااعتبار جو دوستی کی قدر کرنا نہیں جانتے ؟وہ پھر نہیں ملے گا۔ تم دیکھ لینا‘‘ میرے پاس کو ئی جواب نہیں ہے۔ دیر سے سناٹا چھایاہواہے۔
۵۔ ہمت کی بیساکھیاں 
وقت گزر تاہے تو ایسے سن سے گزر جاتاہے جیسے بندوق کی کوئی گولی بالکل قریب سے اچانک نکل پڑی ہو جس کی آواز سے کمزور دل ہول کھارہاہے؟ آخرمیری بزدلی کو ہمت کی بیساکھیاں کب ملیں گی کہ میزائل بھی بازو سے گزرے تو ہول کھانا دور کی بات ہے ، اس قلندرپر کسی زائیں شائیں جیسی پچاسوں آوازوں کاہرگز ہر گز کوئی اثر نہ ہو۔
۶۔ بولتی بند 
وہ مائیک پر بہت بولتارہا۔ اسکو تقریر کے دوران ہر پانچ دس منٹ بعد کچھ یادآتا، اوروہ زور دار آوازمیں وہ نکات بھی بولتاچلاجاتا۔ لوگ بھی کوئی انٹلکچول نہیں تھے۔ سیدھے سادے تھے ، تالیاں بجادیتے جس کے نتیجہ میں اس پر تالیوں کانشہ چڑھ جاتا۔ وہ اور بولنے لگتا۔
جب ایک گھنٹہ ختم ہواتب سچائی سامنے آئی کہ اس نے تاریخ کے البم سے جو کہانی پیش کی وہ کسی کو معلوم ہی نہیں تھی اور انسان سدا ہی سے کہانیوں کاشائق رہاہے۔ گویا وہ کوئی داستان گو تھااور ہمیں ہماری تاریخی کہانی سنارہاتھا۔ واقعی سچائی جب سامنے آتی ہے تو بدقماش افراد کی بولتی بھی بند ہوجاتی ہے۔ وہاں ایساہی کچھ منظردیکھنے کوملا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے