محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔ 
۱۔ مستحکم پوائنٹ 
’’مہنگا  بسکٹ ہے ۔ میں کافی دیر سے نزاکتوں کے ساتھ کھارہاہوں ۔ اگر پانچ روپئے والا ہوتاتو دومنٹ میں پیٹ کے حوالے ہوجاتا‘‘
وہ میرامنہ دیکھ رہاتھا۔ میں نے آگے کہا’’اسی طرح بیوی اگر اچھی ہو، ساتھ نبھانے والی ہوتو نباہ بھی لطف کے ساتھ ہوتاہے ورنہ کسی بھی قسم کی گفتگو، کام ، محبت ،اور بحث پانچ منٹ میں ختم کرکے شریف آدمی اپنی ڈیوٹی نباہنے ، واک پر جانے یاپھر سونے چلاجاتاہے‘‘
وہ نیادولہا بیچارا کچھ بھی سمجھ نہیں سکاکہ میں کیاکہہ رہاہوں ۔ بعد میں پتہ چلاکہ وہ سبھی کچھ جانتاہے کیوں کہ اس نے بڑی عمرمیں شادی کی ہے۔ لیکن میراخیال ہے کہ بڑی عمر پلس پوائنٹ ضرور ہے تاہم تجربہ بڑی عمر سے بھی بڑااورمستحکم پوائنٹ ہے۔
۲۔ کہانی ایک قتل کی 
نئے دور والے لسانیات کے ماہرین نے اپنے منصوبہ کے مطابق اردو زبان کے املا سے ڑ، ط، ء کو نکالنا شروع کردیاتھا۔ ڑ کی جگہ ’ر‘ سے کام چلانے کی بات مسلسل لکھی جارہی تھی۔ ط کو ت سے بدل دیاگیاتھااور بیچاراہمزہ (ء) توقیمتی خزانے کی طرح غائب ہی کردیاگیاتھا۔
اچانک ہی بریکنگ نیوزسامنے آئی کہ اردو زبان کے ماہرلسانیات کے اجلاس میں ابھی ابھی ایک قتل ہوگیااور یہ قتل منصوبہ بند اس لئے نہیں کہاجاسکتاکہ قاتل نے قتل کے لئے کوئی خطرناک ہتھیار ساتھ نہیں لایاتھابلکہ اس نے فریق کا گلا گھونٹ کر مارڈالا۔جب کہ اجلاس کے شرکاء نے قاتل کے ہاتھوں سے مقتول کا گلا چھڑانے کی لاکھ کوشش کی ۔قاتل نے مقتول کاگلاتب تک نہیںچھوڑاجب تک کہ اس کی جان چلی نہیں گئی۔ قاتل گرفتار کرلیاگیاہے۔
بریکنگ نیوز میں قتل کی وجہ نہیں بتائی گئی تھی۔فوری طورپر اجلاس کے مقام پر فون کئے گئے ۔مختلف موبائل پر رابطہ کرنے کے بعد قتل کی جوکہانی بنی وہ یہ تھی کہ ’’اردو حروف تہجی سے متعلق لسانی اجلاس طلب کیاگیا تھا۔اور یہ معمول کااجلاس تھا۔حروف کے حذف واضافہ پر بحث ہورہی تھی۔ ڑ، ط، الف مقصورہ اور ء کو حروف تہجی سے نکال باہر کرنے کی کثرت رائے پر مبنی سفارشات سامنے آئی تھیں۔
اسی اثناء میں پروفیسر سمیر سود نے اردو حروف تہجی کے پہلے حرف الف (۱) کو نکال دینے کی تجویز پیش کی۔اور کہاکہ حروف تہجی کی بسم اللہ ب سے کی جائے۔ وہ اپنے دلائل دیتے رہے ، اسی اثناء میں مفتی غفورثوری نے الف کو حروف تہجی سے نکالنے کی تجویز پر سخت ترین احتجاج کیا۔اور اپنے دلائل پیش کرتے رہے۔بات جب نہیں بنی تو نوبت ہاتھاپائی تک پہنچ گئی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے سمیرسود مفتی غفور ثوری کے ہاتھوں پرلوک سدھارے ۔ مفتی غفور ثوری گرفتار کرلئے گئے۔
بعدازاں مفتی غفورثوری نے پریس سے بات کرتے ہوئے کہاکہ’’ پروفیسر سمیر سود ایک ملحد شخص تھے۔ اس کے باوجود میں ان کا احترام کرتارہاہوں لیکن جب انھوں نے اردو حروف تہجی سے الف نکالنے کی تجویز پیش کی تو میں سمجھ چکاتھاکہ وہ اللہ کے کتنے بڑے دشمن ہیں۔ وہ دراصل اللہ کااملا الف سے نہیں ے سے لکھنے کی سفارش کررہے تھے ۔یعنی اللہ نہیں بلکہ آئندہ سے ’’ یللہ‘‘ لکھاجائے۔ اس طرح وہ اپنے خفیہ ملحدانہ منصوبے پر کام کررہے تھے۔ اس سازش کوکل ہند لسانی اجلاس سمجھ نہ پایا۔ ان کی تجویز سے میری مخالفت اللہ کے لئے تھی اور ہے ۔ چاہے مجھے جو سزادی جائے ۔ میں آج بھی حروف تہجی سے الف کونکالنے کے خلاف ہوں ، تاقیامت خلا ف رہوں گا‘‘
۳۔ نئے دیشی قوانین 
ملک میں نئے قوانین آج ہی سے لاگو کئے گئے تھے ۔ کہاجارہاتھاکہ انگریز وں کے زمانے کے قوانین ختم کردئے گئے ہیں۔ا ب جو بھی قانون ہے دیشی ہے۔
بھوجبل یادو نے پوچھا’’اب کیاکوئی آدمی کسی کمزور طبقہ کے آدمی کے منہ پرپیشاب نہیں کرے گا؟‘‘
سنتوش چودھری کاسوال تھا’’کوئی ایک دن ایسا مثال کے طورپر بتایاجاسکے گاکہ اس دن عصمت ریزی نہیں ہوئی ؟‘‘
انجینئر شول نے بھی فکرمندی سے ہی پوچھا’’دیشی قانون ہم دیش والوں کو ودیشی تو ثابت نہیں کرکے سزا نہیں دے گانا؟‘‘
ان کے سوالات کا جواب دینے والا کوئی نہیں تھا۔ میڈیا نئے قوانین کی تعریف کرتے ہوئے نہیں تھک رہاتھا۔ عوام فکرمندتھی کہ آخر ہماراکیاہوگا؟ دیش
کاکیاہوگا؟ نیاقانون دیش کواکھنڈ بنائے رکھے گا؟
صحافت کے میدان کے مسیحا اپنے اپنے چینل پر کہہ رہے تھے ’’خبرچلاکر غائب ہوجانے والے لوگوں سے کوئی جواب ملنا مشکل ہوتاہے۔ پھر بھی توقع ہے کہ نیاقانون بڑی تبدیلی لائے گا۔ اور اگر ایسا نہیں ہوگاتو بڑی تباہی لائے گا۔ یہ تباہی کس کس کی ہوگی یہ تووقت بتائے گا‘‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے