محمد یوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک

۱۔ نفاذی عزم
کسی چیز کانفاذ آسان یامشکل تب ہوتاہے جب کام کیاجائے یاپھر نہ کیاجائے ۔ کام کریں گے تو سب کچھ آسان ہوگااور اللہ کی مدد ضرور آئے گی۔ یہ کہہ کراس نے قرآن اٹھایا اور اس کے نفاذ کے لئیچل پڑا۔

۲۔ کورونا سانپ
ضلع کے تمام جنگلوں میں پائے جانے والے مختلف سانپوں کے زہر جان لیوا نہیں تھے، سوائے دوسانپوں کے۔ لیکن یہ بات عوام کومعلوم نہیں تھی۔ وہ یہی سمجھتے رہے کہ ہرسانپ زہریلا ہوتاہے اور کاٹ لے تو آدمی کی موت واقع ہوجاتی ہے۔
آج بھی اس ضلع میں لوگ خصوصاً کسان سانپ کاٹتے ہی مرجاتے ہیں لیکن یہ سانپ زہریلے نہیں ہوتے۔ آگاہی کانہ ہونا گویا موت کودعوت دیناہے۔جاننے والے بھی آنکھیں موندے ہوئے ہیں اورانسانوں کے مرنے کاتماشہ دیکھ رہے ہیں۔ میں ان میں شامل نہیں ہوں ۔

۳۔ ٹھنڈے بستہ کی رپورٹ
’’کنڑوورسی یہی تھی کہ وہ زمین کو اپنی زمین سمجھتے تھے۔ اس پر دوسروں کے حق کے انکاری تھے۔ پھر جوگھمسان کارن پڑاہے تو انسانی نعشوں کو چیل کووؤں نے بھی کھانے سے صاف انکار کردیا۔ تب عقل آئی کہ زمین، علاقہ، وطن، میراوطن یہ سب مہنگے شوق ہیں۔ سچائی یہی ہے کہ انسان ہے تو قابل احترام ہے، چاہے زمین کے جس قطعہ پر رہے۔ اس کو جنگل راج میں بدلنے سے گریز کرنا چاہیے، پوری دنیا کے انسانوں سے یہی کچھ اپیل ہے، ورنہ نقصان انسانوں ہی کاہے‘‘
کمیشن نے یہی رپورٹ دی تھی۔جو برف دان کی نذر کردی گئی۔ مذکورہ رپورٹ کبھی ٹھنڈے بستے سے باہر نہیں آ ئی

۴۔ محسوس کرنا
اس کااستفسار تھا’’پل کب ٹوٹتے ہیں؟‘‘ آسان ساجواب تھا’’جب اعتماد متزلزل ہوجاتاہے۔دونوں جانب میں سے کسی جانب کی زمین اپنے کندھے پر پاؤں رکھنے نہ دے تو پل ٹوٹ جاتے ہیں‘‘پوچھاگیا’’اور کوئی جواب؟‘‘جواب دیاگیاکہ ’’نیتیں جب رقم لوٹنے کی ہوں، تو پھر پل ٹوٹ جاتے ہیں‘‘
مزید استفسار پر کہاگیا’’پل دراصل سڑکوں کادل ہوتاہے۔یہ ٹوٹ جاتاہے تو رابطے منقطع ہوجاتے ہیں۔ آبادی کی آبادی ایک دوسرے سے لاتعلق ہوجاتی ہے‘‘
پھر وہ یہ کہہ کر رونے لگاکہ’’دل جہاں ہوتاہے وہاں سب کچھ جڑا رہتاہے۔ اسی طرح پل جہاں کہیں تعمیر ہوتاہے وہاں کا ہر پل نفع بخش ہوتاہے، اس کو محسوس کرناچاہیے، مگر….. مگر…..‘‘بات ہچکیوں تک پہنچ چکی ہے

۵۔ خوشی اور پریشانی
وہ قرآن سب کے واسطے لئے بیٹھا ہے اور خوش ہے-دنیا قرآن سے دور ہے اور پریشان ہے۔
میں نے کہہ دیا، اس سے مل لو، ساری پریشانی دور ہوجائے گی….!!
پھر میں روٹی روزگار میں لگ جاتا ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے