جلسہ رسمِ اجراء میں مجتبی حسین کی ادبی خدمات کو زبر دست خراج تحسین 
وہاب عندلیب، مجید بیدار، صابر علی سیوانی، اکرم نقاش ، ماجد داغی اور اسماء تبسم کے خطاب 
گلبرگہ 3/ جولائی.  (ڈاکٹر ماجد داغی): انجمن کا مجتبی حسین نمبر دستاویزی و تاریخی نوعیت کا متحمل ہے جس کے لئے مدیران امجد جاوید اور ڈاکٹر ماجد داغی کے بشمول ادارتی بورڈ کے تمام ممبران کی مساعی قابلِ تحسین ہے ان خیالات کا اظہار مجتبی حسین کے دیرینہ رفیق ڈاکٹر وہاب عندلیب سابق چیرمین کرناٹک اردو اکاڈمی نے انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کے خواجہ بندہ نوازؒ ایوانِ اردو میں "مجتبیٰ حسین نمبر” کی رسمِ اجراء کے بعد اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مجتبیٰ حسین کے فن و فکر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مجتبی حسین بلا کی ذہانت غضب کا مشاہدہ اور واقعہ کے مثبت پہلو کو اجاگر کرنے کا کمال رکھتے تھے۔ اس خصوص میں مشتاق احمد یوسفی کے حوالے سے مجتبی حسین کی تین انفرادی خوبیوں کا ذکر کیا جن کی وجہ سے ان کی شگفتہ تحریروں کو عالمی مقبولیت حاصل ہوئی ۔ وہ قلم برادشتہ لکھتے ، ان کی تحریریں نقائص سے پاک تھیں اور ان کی تحریروں میں ہمیشہ تر و تازگی برقرار رہتی تھی ۔
ڈاکٹر وہاب عندلیب نے مزید کہا کہ مجتبی حسین پر آنے والی نسلیں ہی فخر نہیں کریں گی بلکہ ان کے ہم عصر ادباء و شعراء کو بھی ان پر بڑا فخر تھا ۔ انجمن کی نو منتخبہ باڈی کا یہ پہلا جلسہ تھا جو غیر معمولی کامیاب رہا جلسہ میں مختلف شعبہ ہائے حیات کے معززین و دانشوران ، ادباء و شعراء نے شرکت کی۔ جلسہ میں مقررین نے مجتبی حسین کی ادبی خدمات کو زبر دست خراجِ تحسین پیش کیا اور مجتبی حسین کو عالمی شہرت یافتہ مزاح نگار و قابلِ فخر فرزند گلبرگہ قرار دیا. قبل ازیں کارروائی کا آغاز مولانا محمد نوح صدر انڈین یونین مسلم لیگ کی قرآتِ کلامِ پاک سے ہوا. ڈاکٹر صابر علی سیوانی اسٹنٹ پروفیسر سنٹر فار اردو کلچر اسٹڈیز مانو حیدر آباد نے انجمن کے مجتبی حسین نمبر کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ پدم شری مجتبیٰ حسین کے فن اور شخصیت پر جتنا عمدہ ذخیرہ جمع کر کے انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ نے شائع کیا ہے، اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ انہوں نے مجتبیٰ حسین نمبر کو دستاویزی اور استنادی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ خصوصاً ڈاکٹر ماجد داغی کی کوششوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، جنھوں نے  مجتبیٰ حسین نمبر کی ترتیب و اشاعت میں انتھک محنت اور جاں فشانی سے کام لیا اور ایک دستاویزی مجلّہ منظرِ عام پر لاکر قابلِ تحسین ولائقِ تقلید کارنامہ انجام دیا ہے۔
ڈاکٹر صابر علی سیوانی نے مجتبی حسین نمبر کے مشمولات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نمبر میں شامل قلمکاروں کے مضامین و مقالات سے ظاہر ہے کہ کیسے ناموار شخصیات و قلمکاروں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ ڈاکٹرصابر علی سیوانی نے انجمن کے مجتبی حسین نمبر سے مجتبیٰ حسین و دیگر کے 8 مضامین کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ان مضامین کے نہایت اہم اور دلچسپ اقتباسات سنا کر حاضرین کو محظوظ کیا اور پروفیسر مجید بیدار، وہاب عندلیب، ڈاکٹر ماجد داغی، امجد جاوید کے بشمول بعض مضمون نگاروں کے مضامین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مضمون نگاروں نے مجتبی حسین کی زندگی اور ان کی ادبی کاوشوں کے تمام پہلووں کو قارئین کے روبرو کیا ہے. پروفیسر مجید بیدار سابق صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد نے اظہار خیال کرتے ہوئے۔ مجتبی حسین کی ادبی قد و قامت کا تفصیلی جائزہ لیا اور ان کے مضامین کے دلچسپ طنزیہ جملے بیان کرتے ہوئے حاضرین کو بےحد محظوظ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجتبی حسین کا مشاہدہ، مطالعہ اور تجربہ نہایت وسیع تھا مجتبی حسین کو سنجیدہ مرحلہ میں بھی مزاح کا لطف پیدا کرنے کا کمال حاصل تھا اور وہ اپنی مزاح نگاری سے ہر انسان کو متاثر کرنے کا ہنر خوب جانتے تھے۔
پروفیسر مجید بیدار نے موجودہ نامساعد حالات میں زندگی میں صبر و استقامت کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجتبی حسین نے اپنے قارئین میں صبر و استقامت کا جذبہ پروان چڑھانے کے لئے طنز و مزاح کا سہارا لیا پروفیسر مجید بیدار نے گلبرگہ کو اردو کا اہم مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج میں کرناٹک اور مہاراشٹر دونوں ریاستیں سب سے آگے ہیں۔ انہوں نے انجمن ترقی اردو گلبرگہ کی سرگرمیوں کی بھی بھر پور ستائش کی ۔ڈاکٹر اکرم نقاش صدر انجمن نے جلسہ کی صدارت فرمائی اور اپنے صدارتی تقریر میں انجمن کے مجتبیٰ حسین نمبر کو تاریخی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے اس کی اشاعت اور ترتیب کے لئے امجد جاوید اور ڈاکٹر ماجد داغی کو مبار کباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ انجمن کا مجتبی حسین نمبر مجتبی حسین پر شائع کئے گئے خصوصی نمبرات میں غیر معمولی اضافہ ہے جو مجتبی حسین کی شخصیت اور فن پر نہایت اہم علمی ، ادبی سرمایہ ہے ۔
ڈاکٹر اکرم نقاش نے کہا کہ مجتبی حسین صرف تحریروں کی حد تک مزاح نگار نہیں تھے بلکہ وہ ہمہ وقتی مزاح نگار تھے اور ان کی بذلہ سنجی کی باتیں محفلوں کو زعفران زار بنا دیتی تھیں ۔ ڈاکٹر ماجد داغی معتمدِ انجمن و مدیر "مجتبی حسین نمبر” نے گزشتہ زائد از تین برس قبل کوویڈ۔19 کے نامُساعِد حالات اور طویل مُدتی لاک ڈاؤن کی غضبناک صورتِ حال اور سنگین ماحول میں مُجتبیٰ حُسین نمبر کی ترتیب و اشاعت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انجمن کا خصوصی شمارہ 13 "مجتبیٰ حسین نمبر” کی تین برس قبل طباعت کے باوجود اس کی رسمِ اجراء اللہ تبارک و تعالیٰ نے دو چند و دو بالا مَسَرَّتوں کی خُوش گوار گھڑیوں میں لکھی تھی سو آج انجام پا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انجمن کے مجتبی حسین نمبر کی ترتیب و اشاعت کا بیڑو انجمن کے جن مدیران نے اٹھایا تھا، آج انجمن کے مجتبی حسین نمبر کے اجراء کا خوشگوار فریضہ انجام دینے کا اعزاز بھی انہیں کو حاصل ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر ماجد داغی نے مجتبی حسین کی ادبی زندگی کے آغاز اور ارتقاء کے مراحل کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ روز نامہ سیاست حیدر آباد میں مزاحیہ کالم نگاری سے مجتبی حسین ادبی دنیا سے متعارف ہوئے اور بلند پایا عہد ساز و رجحان ساز مزاح نگار کی حیثیت سے عالمی شہرت حاصل کی۔ سابق صدر انجمن امجد جاوید موظف پرنسپل نیشنل پی یو کالج گلبرگہ نے جلسے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجتبی حسین اپنی تحریروں کو زندہ رکھنے کے آرٹ سے خوب واقف تھے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر بلند پایہ قلم کاروں کی تخلیقات بھی ماند پڑھ جاتی ہیں لیکن مجتبی حسین ایسے عظیم قلم کار تھے کہ جن کی اول تا آخر ہر تحریر زندہ جاوید ہے ۔ امجد جاوید نے کہا کہ قرطاس پر زندہ تحریریں قلمبند کرنا مجتبی حسین کی خاندانی شناخت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشاہدہ ، مطالعہ وسیع ہونے اور فکر و شعور کی بلندی سے ہی تحریروں میں جان ڈالنے کا مزاج پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس فن کار کا ترسیل ابلاغ جتنا وسیع ہوگا وہ فن کار اتنا ہی عظیم ہوگا.
ڈاکٹر اسماء تبسم شریک معتمد انجمن نے خیر مقدم کرتے ہوئے مجتبی حسین کو عالمی شہرت یافتہ مزاح نگار قرار دیا اور نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ کارروائی چلائی، ڈاکٹر افتخار الدین اختر نائب صدر انجمن نے آخر میں شکر یہ ادا کیا ۔ اکرم نقاش صدر انجمن ، ڈاکٹر ناصب قریشی نائب صدر انجمن محمد صلاح الدین خازن انجمن ، ولی احمد ، ڈاکٹر رفیق رہبر ، ڈاکٹر محمد علی نے مہمانانِ خصوصی کو تہنیت پیش کی۔ جلسہ کے اختتام سے قبل سابق صدر انجمن جناب امجد جاوید و مدیر اعلیٰ "مجتبیٰ حسین نمبر” نے دخترِ مجتبیٰ حسین محترمہ رشیدہ صمدانی اور ان کے خاندان کی جانب سے مرسلہ مکتوب پڑھ کر سنایا جس میں محترمہ راشدہ صمدانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "میں اپنے مرحوم والد مجتبیٰ حسین کے اعزاز میں شائع "مجتبیٰ حسین نمبر” کی رونمائی کی تقریب منعقد کرنے پر منتظمین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں۔ ڈاکٹر ماجد داغی کی کاوشوں کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے بیان کیا ہے کہ یہ واقعہ ادب میں مجتبیٰ حسین کی پائیدار وراثت اور خدمات کا ثبوت ہے۔
اس تقریب کے انعقاد کے لئے ڈاکٹر ماجد داغی کی جانب سے کی گئی کوششوں، جدوجہد، لگن اور محتاط منصوبہ بندی سے میں بہت متاثر ہوئی ۔ مجتبیٰ حسین کے کام کو محفوظ رکھنے اور جشن منانے کے لئے ماجد داغی کے عزم نے نہ صرف مجتبیٰ حسین کی یاد کا احترام کیا ہے بلکہ ہمارے خاندان کے لئے بھی بے پناہ سکون فراہم کیا ہے۔ محترم جناب وہاب عندلیب صاحب کا ان کی کبھی نہ ختم ہونے والی رہنمائی اور بے لوث حمایت پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے مجتبیٰ حسین کی زندگی کے کام کا جشن منانے کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے اور اس بامقصد رسمِ اجراء کے ذریعہ مجتبیٰ حسین کی روح کو تسکین پہنچانے کے لئے اپنا بھرپور تعاون فرمایا جس کے لئے آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں ۔ مجتبیٰ حسین کی خدمات کے لئے انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کی حمایت اور تعریف ہمارے لئے روحانی تسکین کا باعث ہے، جس کے لئے مجتبیٰ حسین کا خاندان انجمن کا بےحد ممنون و مشکور ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے