از: مولانا عبدالرشید سمیع سلفی، ممبئی
دوسروں کے یہاں علمی شخصیات پر سوانح نگاری کا جو ذوق و مزاج ہے، وہ ہمارے یہاں مفقود تو نہیں البتہ نایاب ضرور ہے، اس طرح ہمارے اسلاف اور جماعت کی علمی و عبقری شخصیات کی زندگیاں نسیا منسیا ہوتی جارہی ہیں، خلَف کو سلَف سے مربوط اور جوڑنے کا بہترین طریقہ ہے کہ سلف کے روشن اور قابلِ رشک کارناموں کو اجاگر کیا جائے، ان کی سوانح عمری لکھی جائے، ان کے سبق آموز ، دل پذیر تاریخی قصص و حکایات اور علمی نگارشات کو منظر عام پر لایا جائے جو نوجوانان ملت کے لیے مشعل راہ ثابت ہو۔ زیر مطالعہ کتاب "علماء اہل حدیث بستی و گونڈہ” اسی جہت کی ایک کامیاب کوشش ہے، اس کتاب کو جماعت کے کہنہ مشق قلم کار، کئی کتابوں کے مصنف و محقق اور انتہائی سنجیدہ عالم دین ڈاکٹر بدرالزمان نیپالی، مدنی/ حفظہ اللہ و رعاہ نے تصنیف کیا ہے، اس کتاب میں آپ نے اپنے وضع کردہ اصول وضوابط کی بنیاد پر بستی و گونڈہ کے 100 نامور شخصیات کے حالات زندگی کو حروف تہجی کے اعتبار سے قلم بند کئے ہیں، باذوق ارباب قلم ڈاکٹر صاحب کے اس منصوبہ اور سوانحی خاکہ کی تکمیل کی کوشش کریں، صحیح اور مستند معلومات فراہم کرکے اضافہ کریں۔

ضلعی جمعیت اہل حدیث سدھارتھ نگر، یوپی نے اس کتاب کو طبع کرا کر قابل تحسین کارنامہ سرانجام دیا ہے، یہ بات واضح اور ذھن نشین رہے کہ یہ کتاب وطن عزیز ہندوستان میں پہلی بار ضلعی جمعیت سدھارتھ نگر کی طرف سے شائع ہوئی ہے۔ اس کا پہلا ایڈیشن پڑوسی ملک سے 1990ء میں مخیر جماعت محبان حاملین کتاب وسنت جناب ضیاء اللہ کھوکھر رحمہ اللہ کی خصوصی توجہ اور ندوة المحدثين، اسلام آباد، گجرانوالہ، کے زیر اہتمام شائع ہوا ہے۔
فضیلۃ الشیخ/ وصی اللہ عبدالحکیم مدنی/ حفظہ اللہ (ناظم ضلعی جمعیت اہل حدیث، سدھارتھ نگر، یوپی) نے خاکسار تک یہ وقیع کتاب پہونچا دی ہے۔ فجز اه الله أحسن الجزاء.
شیخ محترم! انتہائی مخلص، متواضع، کم سخن اور گوناگوں صفات کے مالک ہیں، جماعت کے کاز کو لے کر ہمہ وقت فکرمند اور کوشاں رہتے ہیں، قامع بدعت، حامی سنت، ضیغم جماعت رئیس العلم والقلم شیخ محمد رئیس ندوی رحمہ اللہ(٢٠٠٩ء) کے حالات و خدمات پر مشتمل ایک مبسوط کتاب کی ترتیب و تدوین اور معیاری اشاعت کی تیاری کی کوشش کررہے ہیں۔
اللہ آپ کی مسلکی و جماعتی دینی و دعوتی علمی و سماجی اور رفاہی خدمات اور آپ کے نیک ارادوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے، حالیہ گاوں کے سفر میں شیخ محترم سے چند لمحوں کی ملاقات نے دل و دماغ پر دیرپا نقوش مرتب کیا ہے، میں اب تک شیخ محترم کے اخلاق کریمانہ اور اطوار شریفانہ کے سحر میں گرفتار ہوں، عہد ہ و مناصب کے نخوت زدہ دور میں کسر نفسی کی یہ نظیریں خال خال نظر آتی ہیں، جمعیت اور جماعت کے مشن کے لیے ایسی بے لوث شخصیات کچھ کرکے دکھاتی ہیں، اللہ شیخ محترم کی شبانہ روز کاوشوں کو شرف قبول فرمائے اور برادران یوسف کے الطاف و عنایات سے ہمیشہ محفوظ رکھے، آمین۔
