از: راشد حسن مبارک پوری
استاذ حدیث و عقیدہ جامعہ اسلامیہ، فیض عام، مئو
_____________
گزشتہ دنوں استاذ گرامی حضرت مولانا وصی اللہ عبد الحکیم مدنی/ حفظہ اللہ ورعاه کی طرف سے ان کی چند تالیفات موصول ہوئیں، اس توجہ کے لیے میں مولانا موصوف کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے اس بے نوا کو اپنی توجہات میں شامل رکھا، ملنے کے بعد ہی ارادہ ہوا کہ تشکر وامتنان کے طور پر حرفِ اعتراف ثبت کر دیا جائے لیکن افسوس وقت گزرتا گیا اور قدرے تاخیر بھی ہوئی ع
ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا۔
ایک مدرس کے لیے اور خصوصاً اس مدرس کے لیے جس پر نوع بہ نوع ذمہ داریاں ہوں، تصنینف و تالیف کے لیے وقت نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے، اس لیے کہ اس عمل شاق کے لیے انتہائی ارتکاز اور یکسوئی کی ضرورت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا حفظہ اللہ کو یہ توفیق دی کہ مختلف ادارتی ذمہ داریوں اور الجھنوں کے باوجود انہوں نے اپنا علمی و تحریری سفر جاری رکھا اور متعدد علمی و قیمتی اور نصابی کتابیں آپ کے قلم سے نکل کر اہلِ علم سے خراج تحسین پا چکی ہیں اور ہند و نیپال کے مکاتب اسلامیہ، بورڈنگ اسکولز اور مراکز و معاہد میں داخل نصاب ہیں۔
ان میں چند ایک جو خاکسار کو موصول ہوئیں وہ کتابیں یہ ہیں:
۱- امام ابو عیسیٰ ترمذی اور ان کی جامع۔
۲- قطف الثمر فى مصطلح أهل الأثر۔
۳- شيعہ اور امام غائب۔
٤- تنویر الإيمان (سوال وجواب کے انداز میں علامہ محمد اسماعیل شہید کی انقلابی کتاب تقویة الإيمان کی تسہیل ہے)
۵- مأثور دعائیں: حصہ اول۔برائے درجہ: دوم، سوم
٦- مأثور دعائیں: حصہ دوم۔برائے درجہ:چہارم، پنجم
ان مذکورہ کتابوں میں اول الذکر کتاب نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی، اس کی ایک وجہ اس موضوع سے طبعی مناسبت ہے اور دوسری یہ کہ جامعہ اسلامیہ، فیض عام، مئو میں”جامع ترمذی” خاکسار کے ہی زیرِ تدریس ہے، کہنے کو تو یہ کتاب صرف 63 صفحات پر مشتمل ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ اختصار کے باوجود طلبہ علم اور اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے باذوق اہل علم کے لیے یہ ایک بیش قیمت علمی تحفہ ہے، کتاب کے شروع میں جماعت کی علمی و عبقری شخصیت اور باکمال خطیب حضرت مولانا عبد المنان سلفی/ رحمہ اللہ کی تقریظ بجائے خود کتاب کی اہمیت کو دوچند کرتی ہے، شروع میں امام ترمذی کے مختصر حالات زندگی درج ہیں، ساتھ ہی ان کی کتاب "جامع ترمذی” کا مختصر تعارف ملحق ہے، پھر امام موصوف رحمہ اللہ کے رموز و اصطلاحات پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔طلبہ و طالبات کے افہام و تفہیم کی خاطر کتاب کے اخیر میں مشقی سوالات بھی دئے گئے ہیں، اس طرح یہ کتاب دراصل بطور "معاون نصاب” کتاب کے طور پر تیار کی گئی ہے، لہذا طلبہ علم و شائقین علم حدیث اس سے بقدر ضرورت اچھے انداز میں استفادہ کر سکتے ہیں۔مسلک سلف کے مناد و پاسبان مولانا عبدالمنان سلفی/ رحمہ اللہ کی دلی رغبت و ایماء پر میرے استاد محترم/حفظہ اللہ نے دیگر کتب ستہ،شارح صحیح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی اور صاحب مشکاة خطیب تبریزی کا بھی اسی انداز پر تعارف نامہ اور ان کی کتابوں کا اسلوب و منہج تیار کیا ہے، جو ترتیب و تنقیح کے آخری مرحلہ میں ہے، اس طرح کے علمی کاموں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، مزید برآں انہوں نے جس "غیر علمی” ماحول میں ہوتے ہوئے اس طرح کے علمی سفر کو جاری رکھا وہ حیرت انگیز بھی ہے۔ قابلِ ستائش بھی۔ وگرنہ اس طرح کے احوال و ظروف میں انسان کی علمی زِندگی بجھ جاتی ہے، اور وہ بھی دیگر کی طرح تن آسانی کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے، مگر شیخ محترم نے اپنے عزم و حوصلے کو جوان رکھا، علمی غذا فراہم کرتے رہے، دنیائے علم و شعور اور وادی فکر و فن سے پیوستہ رہ کر کچھ نہ کچھ علمی دنیا کو تحفہ دیتے رہے، اگر حالات سازگار ہوں، بےلوث قلمی و مادی معاونین ہوں، حوصلہ افزائی ہوتی ہو، علمی استعداد و لیاقت بھی تو کام کرنا بہت مشکل نہیں ہوتا، بس جستجو اور شوق کو مہمیز دے کر سفر جاری رکھنا ہوتا ہے لیکن اگر یہ سب چیزیں مہیا نہ ہوں تو ایک قدم بھی آگے بڑھانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوتا، لہٰذا قابل مبارک باد ہیں وہ اہل علم جو وسائل کی قلت کا شکوہ کئے بغیر،کسی سے صلہ کی تمنا کی چاہت کے بغیر،دعوتی وتدریسی اورعلمی کاموں میں مصروف ہیں اور میں ذاتی طور سے شیخ محترم کا شمار معدودے چند اہلِ علم میں کرتا ہوں۔
شیخ محترم/حفظہ اللہ عالم اسلام کی عظیم یونیورسٹی "جامعہ اسلامیہ”، مدینہ طیبہ کے "كلية الحديث الشريف و الدراسات الإسلامية ” سے فارغ التحصیل ہیں، وہاں کے علمی، حدیثی اور روحانی ماحول نے آپ کے اندر علمی جوت جگائی، بحث و تحقیق اور تخریج حدیت کا خصوصی ملکہ پیدا کیا اور مثالی تدریس و افادہ کا ہنر اور سلیقہ دیا ، اس عظیم یونیورسٹی سے فراغت کے بعد – جس کا فیضان دنیا بھر میں عام ہے – آپ نے ظلمت کدۂ نیپال میں واقع عظیم عالمی شہرت یافتہ سلفی دانش گاہ مادر علمی جامعہ سراج العلوم السلفیہ، جھنڈا نگر،نیپال اور اس کی نسواں شاخ "كلية عائشة للبنات” کو اپنے علمی جولان گاہ کے طور پر منتخب کیا، اور وہیں رہ کر حدیث و سنت، عقیدۂ صحیحہ اور اصول کی امہات الکتب مثل: صحیح بخاری، سنن أبوداود ، سنن ترمذی، مشکاة المصابيح ، بلوغ المرام، العقيدة الواسطية، بداية المجتهد جیسی اہم و بنیادی کتابیں پوری لگن اور محنت کے ساتھ پڑھاتے ہیں نیز اپنی تمام دیگر مفوضہ ذمہ داریوں کو بھی بہحسن و خوبی سر انجام دینے کی سعی پیہم کرتے ہیں۔
میری نظر میں مولانا موصوف کا مقام نمایاں ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو متعدّد صفات و خصوصیات کا حامل بنایا ہے، علم و فضل اور عقل و شعور کی پختگی کے دوبدواعلی اخلاق واقدار اور عمدہ سیرت و کردار سے فیض یاب ہیں۔
۲٦نومبر۲۰۲۰ء ۹/ربیع الأول ١٤٤٢ھ بروز جمعرات "جمعیت اہل حدیث، سدھارتھ نگر”یوپی کی نظامت کا بھی بوجھ ہے، جس کی وجہ سے آپ کی مصروفیات دوچند ہوگئی ہیں۔ آپ اس بندۂ خاک سے بھی مشفقانہ تعلق رکھتے ہیں، علمی کاموں کی خبرگیری اور مسلسل حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں، آج کے دور میں ایسے محبین و مخلصین کہاں ملیں گے؟۔
آپ جس خلوص و اپنائیت اور تعلق خاطر کا مظاہرہ فرماتے ہیں کہ بسااوقات مجھے ندامت و شرمندگی محسوس ہونے لگتی ہے، یہ دور مادیت پرستی، دنیاداری، مفاد پرستی، اور ذاتی اغراض کے حصول کی خاطر حد سے آگے بڑھ جانے کا دور ہے، وفا شعار اور اہل اخلاص کی کمی ہے، حاسدین اور شر انگیز طبیعتوں کی کثرت ہے، دوسروں کی علمی قدر و قیمت ہضم کرنے والوں کا ایک جم غفیر ہے، دوسروں کے محاسن اور خوبیوں کے اعتراف سے دلوں کو انقباض ہوتا ہے، ایسے مفاد پرستانہ ماحول اور حاسدانہ ظروف میں استاذ گرامی کا وجود غنیمت ہے، ابھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہمت دی ہے، بلند حوصلہ دیا ہے، کچھ کرنے کا عزم ہے، اللہ تعالیٰ اسے جوان رکھے، برادران یوسف کے الطاف و عنایات سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور آپ سے دعوتی کام کے ساتھ علمی کام بھی لیتا رہے، اس تحریر کے ذریعے میں شیخ گرامی اور ان تمام اہل علم کو مبارک باد اور دعائیں پیش کرتا ہوں، جو اپنی زِندگی کو کچھ اس انداز سے گزارتے ہیں:
ہَوا ہے گو تُند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے۔
وہ مردِ درویش جس کو حق نے دیئے ہیں اندازِ خسروانہ۔
