محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
۱۔ کوششِ مسیحائی
بڑے خواب چھوٹے لوگ دیکھ نہیں سکتے۔مگر اس چھوٹے سے قدکے نوجوان نے بڑا خواب دیکھاتھاجس کااظہار کرتے ہوئے وہ پوچھ رہاتھا’’میں 100کروڑ افراد کے دل جیتناچاہتاہوں۔
آپسی نفرتوں کوختم کرنا چاہتاہوں۔اُن کامسیحا بننا چاہتاہوں ۔ یہ کام کس طرح انجام دے سکتاہوں اس بارے میں مشورہ دِیاجائے ‘‘
جواب مِلا’’100کروڑ افرادکے ڈرائنگ روم یااُن کے ہاتھوں میںقرآن پہنچادو،اِن شاء اللہ تمہاراکام بن جائے گا، دل بھی جیت لوگے ، آپسی نفرتیں بھی ختم ہوں گی اور تم مسیحا بھی بن جاؤگے‘‘
تب سے وہ مختلف زبانوں میں قرآن کے تراجم لوگوں تک پہنچانے کی کوشش میں لگاہواہے۔
۲۔ بچ گیاملک 
لاکھ کوشش کے باوجود 30سے زائدپارٹیاں ملک کربھی اس کی قیادت میں وہ جادوئی فیگرپھر سے نہیں بناپائے ، جس کے ہوتے کوئی بھی ملک پر راج کرسکتاہے۔ اسلئے راج پاٹھ چھوڑ کر جاناپڑا۔
مگر اس بات کو تاریخ میں اس طرح لکھاگیا’’اُس کافخر وغرور اسکو لے ڈوبا لیکن شکر ہے کہ صرف وہ ڈوبا ، ملک بچ گیا ‘‘
۳۔ ٖسیاسی غلامی 
ایشوراور رحیم کی جوڑی بن گئی تھی۔ دونوں ایک ساتھ بڑے نہیں ہوئے۔ ایک ساتھ سیاست میں داخلہ بھی نہیں لیالیکن اتفاق سے دونوں ایک ساتھ وزیر بن گئے تھے۔  عوام نے دیکھاکہ ایشور ہمیشہ آگے آگے رہتاہے اور رحیم اس کاسایہ بنااس کے ساتھ لگے رہنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتا۔
رحیم کے ماننے والوں کواس سے بڑی تکلیف تھی ۔ اسلئے یہ با ت مشہور ہوگئی تھی کہ رحیم ایشور کاغلام بن گیاہے۔ ایک دن رحیم نے تقریرکرتے ہوئے اس الزام کاجواب کچھ اسطرح دِیا’’اگرمیں ایشورسر کاغلام بن گیاہوں تو اس میں برائی کیاہے ؟ وہ مجھ سے سینئر ہیں‘‘
دوہفتوں بعد اس کے ماننے والوں نے اس کے بنگلہ پر پہنچ کر اس کو سمجھایاکہ کم ازکم اپنے نام کی لاج رکھ لو۔ تمہیں اپنی غلامانہ حرکتوں سے باز آتے ہوئے وزیرانہ حرکتیں اپنانی چاہیے، ہمیں ہی نہیں تمہاری اپنی قوم کو بھی یہ سب اچھا نہیں لگ رہاہے۔ سینئر کو بڑا ماننااچھی بات ہے مگر غلام کی طرح پیچھے پیچھے چلنااچھانہیں ، اس سے نقصان ہوگا۔ مرکزی وزیر رحیم نے اپنے حامیوں کی بات نہیں مانی ۔
سناہے کہ انتخابات آنے والے ہیں اورمرکزی وزیر رحیم کے ماننے والے مسٹر رحیم کو پارلیمنٹ کے بجائے گھر بھیجنے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں تاکہ ایشور سر کی بلاشر ط کی جانے والی غلامی ختم ہوسکے اور رحیم کے ماننے والے آزادانہ طورپر سانس لے سکیں۔
۴۔ غائب دانشور  
اندازہ لگایاگیا’’لگتا ہے تم بیرون ِ ملک رہتے ہو‘‘ اس نے ثبات کیا۔ تو کہاگیا’’ملک واپس چلے آؤ۔ تمہاری دانشورانہ صلاح سے لگتاہے مجھے کہ تم جیسے لوگ اپنے ملک واپس آؤگے تب ہی  یہاں کے حالات سدھر سکتے ہیں۔ عوام میں حوصلہ پیدا ہوگاوہ ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے ‘‘
پچھلے تین دِن سے اس نے کوئی جواب نہیں دیاہے۔ روز وہاٹسپ گروپ چیک کیاجاتاہے ۔لیکن وہ ندارد ہے۔
۵۔ لوٹری کلب 
لوگ مہذب ہوگئے تھے۔ کھانا پھینکانہیں جانے لگاتھا۔ کچرادانیاں صاف ستھری ملاکرتی ہیں۔ تب سے اس شہر میں کھاناناپھینکنے کا ٹرینڈ شروع ہوا، کچھ لوگ بھوکے مررہے ہیں۔ وہ ایسے بھوکے ہیں کہ اس مہذب عمل کے خلاف وہ کسی سرکاری دفتر کے سامنے احتجاج بھی نہیں کرسکتے کہ شہریوں سے ہمارامطالبہ ہے ، کھاناکچرے دانیوں میں پھینکے ورنہ ہم بھوک ہڑتال کردیں گے۔
وہ بھوکے سوچ رہے تھے اور جگہ جگہ کہہ بھی رہے تھے کہ’’ شہری تو مہذب ہوگئے لیکن اتنے مہذب بھی نہیں ہوئے کہ نہ پھینکے جانے والے کھانے کے پیسے ہمارے گھروں تک پہنچائیں۔ لوٹری کلب والے بھی ہماری طرف سے بیگانے ہیں‘‘مجھے حیرت ہوئی کہ کچرے دانی سے کھانا نکال کرکھانے والوں کو’’لوٹری کلب‘‘ کے کام کابھی پتہ ہے۔اور اس سے شکویٰ بھی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے