محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک
۱۔ موجودہ نسل 
وہ معصوم سی لڑکی جسے کل تک ہم دیکھاکرتے تھے ، اب وہ پوری طرح جوان ہوچکی ہے۔
  کسی نے فیس بک پر کیاخوب لکھاہے کہ اب وہ سابقہ معصوم لڑکی ،سوشیل میڈیا کو اپنی بالغ اداؤں سے اور بھی جوان رکھے گی اور جو نوجوان ہیں ان کے دل ونگاہ اور نیت کومزید خراب کرے گی ۔اس کے سوااور کوئی کام موجودہ نسل اچھے سے کربھی نہیں سکتی ۔لہٰذا لمحہ ء فکریہ کے عنوان کی ضرورت ہرگز نہیں ہے۔
۲۔ مسترد خوشبوئیں 
عبدالمجید شاہی کے لئے عورت ہمیشہ سے ایک عجیب وغریب چیز رہی ہے۔ آج وہ کہہ رہے تھے کہ ’’عورت کو خوشبو پسند نہیں ہوتی‘‘ میں نے احتجاج کیا’’کیابات کہہ رہے ہیں آپ؟ عورت تو ہمیشہ سے خوشبوؤں کی دلدادہ رہی ہے، دیکھتے نہیں کتنا ڈھیر سارا سینٹ لگائے تقاریب کا حصہ بنتی ہے ‘‘
عبدالمجید شاہی نے تقریباًیوٹرن لیتے ہوئے کہا’’شاید میں غلط کہہ گیا۔ مجھے یہ کہناچاہیے کہ عورت عطر کی خوشبو کو پسند نہیں کرتی ۔ جو بھی عطر اس کو بتایاجائے وہ ناپسندکرے گی۔ اس کے بعد کسی خیالی عطر کوتلاشنے لگائے گی ُُ‘‘
میں نے کہا’’میں سمجھانہیں ‘‘ عبدالمجید شاہی بولے’’میں جب بھی عطر خرید کرلاتاہوں ، میری اہلیہ کو وہ عطر پسند نہیں آتا۔ اوراگر میں تین چار عطر کاٹسٹ کرکے کوئی ایک عطر لے آتاہوں تو اس کو وہ عطر پسند آتاہے جس کی ٹسٹ شدہ خوشبو میرے ہاتھوں پر کہیں بسی ہوتی ہے ، اب وہ کون سی خوشبو یاعطر ہے ، مجھے  پتہ نہیں ہوتاہے ،اس لئے میراخیال ہے کہ عورت کو خوشبوپسند نہیں ہے ۔ ہر خوشبو کی وہ جیسے دشمن ہے ‘‘
مجھے مذاق سوجھاتو میں نے مسٹر شاہی سے پوچھا’’شاہی بھائی ، کیاعورت کڑک کڑک نوٹوں کی خوشبو کی بھی دشمن ہوگی ؟‘‘
عبدالمجید شاہی بے ساختہ بولے ’’یہی تو ایک خوشبو عورت کوپسند ہے مگر افسوس اب نوٹ بھی ڈیجیٹل ہوگئے ہیں، ساری دنیا ہی اس کی دشمن ہوگئی ہے اور وہ خوشبو کی دشمن ‘‘
۳۔ آدھی رات کا شور 
رات بھیانک نظارہ پیش کررہی تھی۔کتوں کے بھونک بھونک کر اور روروکر آسمان سرپراٹھالیاتھا۔ ایسالگ رہاتھا جیسے کئی ایک چڑیلیں اور بے شمار آسیب نکل کر گلی میں داخل ہوگئے ہوں جس پر کتے احتجاج میں لگے ہوں ۔
میںجو تہجد کے لئے اٹھاتھا، ڈرساگیا لیکن پھر بھی ہمت کرکے وضو کیااور نیت باندھ کرنمازشروع کردی۔ چار رکعت تہجد پڑھنے کے دوران کتوں کابھونکنا اوررونا ڈرانا ختم ہوکر رہ گیا۔
زمین پر سررکھ کربلاؤں سے حفاظت اور ان پر قابوپانے کی دعا مانگنے لگا تو آنکھوں سے آنسوبہہ بہہ نکلے۔ دل گویاہلکا ساہوگیا۔
۴۔ فہرستیہ 
میں سسٹم پر بیٹھا کچھ پڑھ رہاتھاکہ سبسکرائب کئے گئے ہندی اخبار نے اچانک ہی اطلاع دی ’’ مہنگی ہو ئی دالیں‘‘ میرے منہ سے بے ساختہ نکلا’’پھرسستاکیاہواہے ؟‘‘میرے ضمیر نے جواب دیا’’جوضروری ہے وہ چیز مہنگی ہے اور جو ضروری نہیں ہے وہ سستی ہے ‘‘
میں نے پوچھا’’غیرضروری سستی چیزیں کیاہیں، بتائیں ؟‘‘ ضمیر نے بے بسی سے کہا’’یار، بازار میں تم پھرتے ہویامیں ؟اصول میں نے بتادئے ہیں ان کے مطابق سستی چیزوں کی فہرست خود دیکھ لو‘‘
میں نے سوچا کہہ دوں کہ ’’مجھے فہرستیہ سمجھ رکھاہے کیا؟ ‘‘ پھر خوف آگیاکہ ضمیر ہے ، کچھ بھی بول سکتاہے ۔ کچھ الٹاپلٹا بول دیاتو خود مجھے مرچی لگے گی اور کیا
۵۔ تنہابادشاہ
موسم سہانا بلکہ بے حد سہاناتھا۔ بادشاہ چاچا نے کھڑکی سے موسم پرنظر ڈالی اور پھرپلٹ کر اپنے بیڈروم کے خالی بیڈکودیکھا۔وہاں سے کچن روم آئے ۔وہاں بھی کوئی نہیں تھا۔ پھر ڈرائنگ روم پہنچے، ڈرائنگ روم جیسے سنسان پڑاہواتھا۔
انھیں اچانک خیال آیاکہ ارے ، میں توعرصہ سے تنہاہوں۔ وزیربیگم کواس بے رحم دنیا سے گزرے شاید ڈھائی سال ہوگئے ہیں۔دنیا کی بے ثباتی روزکھل رہی ہے۔
بادشاہ چاچاپھوٹ پھوٹ کررونے لگے۔ کچھ یادیں انسان کو بے بس اور مزید تنہاکردیتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے