محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ ٹوٹتے پہاڑ
میں نے اس نوجوان صحافی کوانگریزی زبان میں ترجمہ ء قرآن پیش کیاتھا۔ یہ تین چار ماہ پہلے کی بات ہے۔ آج اس نے مجھ سے فون پر بات کی اور کہاکہ ’’اجی حضرت ،کس قرآن اور کس اسلام کی با ت کی جائے۔ آپ کی مسلم قوم کے لوگ شہر کے اطراف واقع پہاڑوں کوتوڑکر قدرتی خوبصورتی کوبڑھاوادینے والوں میں شامل ہوگئے ہیں۔ بڑی تعدادمسلمانوں کی ہے۔ پہاڑوں کو توڑ کر ، ماحولیات کو نقصان پہنچاکربھی اسلام کی بات کس طرح کی جاسکتی ہے ؟‘‘ مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی، میں اس بات کے لئے تیار تھا۔ میں نے کہا’’کیاپہاڑ شکن افراد نے آپ سے کہاہے کہ پہاڑتوڑنا اسلام میں جائز ہے؟ ‘‘
وہ نوجوان صحافی بولا ’’حضرت، یہ بات ان لوگوں نے نہیں کہی لیکن میرے ذہن میں خیال آیاکہ قرآن جیسی انقلابی کتاب رکھنے والے جب ماحولیات کو خراب کرنے اور زمینی جغرافیہ اور اسکی ہئیت تبدیل کرنے پر تل جائیں توپھر اسلام کا کام کس طرح ہوگا؟ کل کو مسلمان اگر اسلام کی تعریف کریں گے اور اس کو ہم جیسے افرادتک پہنچانے کی کوشش کریں گے تو کون سمجھے گاکہ اسلام واقعی انسانیت کی بات کرتاہے ؟‘‘
نوجوان صحافی کی بات درست تھی۔ پہاڑ وں کوتوڑکر زمین کے برابر کرنے والوں کو میںکہاں سے سمجھاپاتا۔ یہ کام شاید میرانہیں تھا۔ قانون نافذ کرنے والوں کواس طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ یاپھر مسلمانوں کی دینی جماعتیں ایسے افراد کواس عمل سے باز آنے کی ترغیب دیں ۔
۲۔ تاریخ، ماحولیات ، جغرافیہ اور اراضی
’’چند لوگوں نے تاریخی فصیلوںکوتوڑتاڑ کر اس پر قبضہ کیا ۔ پھرپانسات افراد تالابوں کی طرف بڑھے، پہلے تالابوں کے پانی کے سوتے خشک کئے گئے اور پھر ان تالابوں پروہ لوگ قابض ہوگئے۔
ایسے لوگ بلکہ مافیا بھی یہاں ہے جس نے جنگلوں کو توڑ تاڑ کر برباد کر دیاہے، ہرن اور دیگر قیمتی جانوروں کاشکار اور ان کی اسمگلنگ میں لگے ہوئے ہیں ۔اورکچھ لوگ وہ ہیں جو آج کل خریدے ہوئے پہاڑوں کواپنی ذاتی جائیداد کہہ کر ا ن پہاڑوں کوتوڑکر زمین کے برابر کرتے چلے جا رہے ہیں، ہمارے شہر پر ہونے والاظلم کسی کو نظر نہیں آرہاہے ‘‘ اس نے گویاشکویٰ کیاتو میں سلگ اٹھا۔
کہاکہ ’’بھائی جان ، وہ لوگ کیاکررہے ہیں، اس سے پہلے سوال یہ اٹھتاہے کہ قانون کے محافظ کیاکررہے ہیں ؟ سورہے ہیں یاموٹی میٹھی رشوت کھاکراپنی شوگر میں مسلسل اضافہ کرتے چلے جا رہے ہیں ؟‘‘ میرے سوال کاکوئی جواب اس کے پاس نہیں تھا۔اس کا یہی کہناتھاکہ تاریخ، ماحولیات ، جغرافیہ اور اراضی کو اپنی شرطوں پر نیست ونابود کرنے والے شہر میں پیدا ہوگئے ہیں ۔ انھیںاس کی سزا ملنی چاہیے۔
میرااپناپختہ خیال ہے کہ سزا وزا کیاملے گی ؟آئندہ دس بیس سال میں ہماراشہر عمارتوں کاجنگل بن جائے گا۔ عمارتوں کاجنگل ہی ترقی کی نشانی ہے۔ جنہیں یہ ترقی منظور نہیں ہے وہ یہاں سے اٹھیں اور گاؤں کی طرف واپس چلے جائیںاور کیا۔ شہری ظلم پر بہت کم توجہ حکومتیں دیتی ہیں اسلئے کہ حکومتوں کو عمارتوں کاجنگل کھڑا کرنے سے ٹیکس کی شکل میں بے شمار رقم ملتی ہے۔جب حکومتیں لالچ میں آجاتی ہیں، شہری ترقیاتی منصوبہ بند ی نہیں کرتی ہیں یا مستحکم نہیں ہوتی ہیںاو رڈھیلاڈھالا انتظامیہ ہوتاہے تو ایسے کام شہروںکے اطراف واکناف میں بڑی تیزی سے انجام دئے جاتے ہیں ۔
خیریہ تو میری بات تھی ۔آپ بھی اسی شہر سے ہیں۔ آپ کیاسوچتے ہیں ؟ کیاآپ اپنے شہر کی تاریخی اشیاء ، اپنے شہر کا ماحولیاتی ماحول، جغرافیائی خوبصورتی اور اراضی کوبچانا چاہیں گے ؟یا گھر گرہستی آپ کوان واقعات کی جانب سے آنکھیں موند لینے پر مجبورکرتی ہے ؟
۳۔ اتوار کامقرر
آج اتوارہے اور آج وہ تقریر کرے گا، اس خیال سے کرے گاکہ کوئی اُسے بڑا مان لے ۔ اس کاسکہ چل سکے۔ خاندان میں بھی اور خاندان کے باہر بھی۔ خیر خاندان والے تو اپنے ہوتے ہیں ،اس کو ہمیشہ سیدھاسادا اور بھولا بھالا ہی کہیں گے(اورکہتے رہتے ہیں) لیکن خاندان کے باہروالوں کاخیال ہے کہ وہ ایک نالائق اور بے وقوف قسم کاآدمی ہے۔ اس کی ساری تقریریں ملک وقوم کے موٹی ویشن کے لئے نہیں بلکہ اپنے آپ کو متعارف کرواتے ہوئے خود کو مستحکم کرنے اور منوانے کے لئے ہوتی ہیں۔ اور یہی حرکت معاشرے کو ناپسند ہے۔
اس بے وقوف مقرر کویہ بات کون سمجھائے گا؟ خیرآج تقریر سن لیں ۔ برداشت کرلیں ، وہ بھی تو سماج کا ایک فرد ہے ۔ اتنے سارے بھانڈ ، مافیا ، بہروپیوں ، وقف املاک کے قابضین اور رشوت خوروں کو برداشت کیاجارہاہے تو پھر اس ایک مقرر کو برداشت کرنا کون سا مشکل ہوگا
۴۔ آزاد بندہ
’’گناہ میں شرکت انسان کوگنہگار بنادیتی ہے ، ایسے ہی نیکیوں میں شرکت یا نیک پروگراموں میں شرکت نیک بناسکتی ہے ‘‘ میں نے انہیں گویا اجتماع کی دعوت دی ۔ وہ گرم ہوگئے اور کہا’’ہمیں سب پتہ ہے کہ اجتماع کرنے والے کتنے نیک ہوتے ہیں۔ نما زپڑھنا فرض ہے اور چوری کرناپیشہ ، اس قسم کے لوگ ہوتے ہیں ‘‘
میں جانتاتھاکہ وہ براکہیں گے لیکن ایسی بات کہیں گے اس کاانداز ہ نہیں تھا۔ پھر بھی خود کو سنبھالتے ہوئے کہا’’اجتماع نیکی کے لئے ہے ، اگر وہاں سے کچھ لوگ نیک نہیں بن سکتے ہیں تو انھیں درگزرکرتے ہوئے نیک افراد کو پیش نظر رکھیں‘‘ وہ شاید ماننا نہیں چاہتے تھے ۔ کہا’’کسی شاعرنے کیاخوب کہاہے ؎
شیخ صاحب تمہاری بھی اچھی کٹی
خوب سجدے کئے ، خوب دھوکے دئے
میں نے کہا’’شاعر نے اس شعر میں خوب اجتماع کئے تو نہیں کہانا،‘‘ بہرحال میری باتوں کاکوئی اثران پرنہ ہوسکا۔اپنی ریٹائرمنٹ کے 15سال بعد بھی وہ اجتماعیت سے آزاد ہیں۔
۵۔ پہاڑ سیٹھ
پہاڑ سیٹھ سے پنگا لینامہنگاہی نہیں موت کو دعوت دیناہے اس بات کاسبھی کو پتہ ہے لیکن میں پنگالینے کے بجائے انھیں سمجھاناچاہتاتھا۔پہاڑ سیٹھ سے ملاقات کی اور کہاکہ’’ شہر کے اطراف میں جو پہاڑ ہیں، وہ اگر ویسے ہی رہیں جیسے ہیں تو اس سے شہر کے باہر کی خوبصورتی بنی رہے گی۔پہاڑ وں سے جوفائدے انسان اٹھاتاہے ، اس طرح کے فائدے مسطح زمین میں نہیں ہیں‘‘پہاڑ سیٹھ نے اپنی دونوں آنکھیں باہر نکال نکال کرسادہ لوحی سے مجھے دیکھااور پھرپوچھا’’تم آخر کہناکیاچاہتے ہو؟‘‘ میں نے کہا’’یہ ایک فصیل بند تاریخی شہر ہے ۔اس کے اطراف میں ڈھلان ہے ۔ اور ڈھلان کے درمیان میں چھوٹے چھوٹے پہاڑ واقع ہیں جو اس علاقے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں اور اس کی آب وہوا کو بہتربنانے میں ان پہاڑوں پر اُگی جھاڑیوں کابڑاہاتھ ہے۔ اسی طرح یہاں کے تالاب بھی شہری زندگی کو آسان بناتے ہیں۔ اتنی ہی گزارش ہے کہ پہاڑ نہ کاٹیں، تالاب کوسوکھنے نہ دیں ‘‘ پہاڑسیٹھ فوری بپھر گئے اور بولے ’’ مجھے پہاڑ سیٹھ ایسے ہی نہیں کہاجاتا۔ پچاسوں پہاڑ زمین بوس کرچکاہوں۔ میں جب تک زندہ رہوں گا، پہاڑ کٹتے رہیں گے۔ کسی ماں نے ایسا لال نہیں جنا جو مجھے روک سکے ۔ہر حکومت اور ان حکومتوں کے وزیر میرے غلام ہیں‘‘ پھر مجھے پہاڑ سیٹھ کو روکنے کے لئے اس کی ساری سانسوں پر قبضہ کرنا پڑا۔ آج تمام پہاڑ وں پر میرااور میرے ا نتہائی شریف ساتھیوں کاقبضہ ہے۔جن کاماننا ہے کہ پہاڑ شان اور قدرومنزلت کانشان ہوتے ہیں، پہاڑوں کوزندہ رکھنا انسانیت ہے۔
پہاڑوں سے متعلق کیس عدالت میں زیردوراں ہے کہ اتنے سارے پہاڑ آخر کس کے ہیں ؟ملکیت ثابت کرنے کے لئے پہاڑ سیٹھ کے پاس ثبوت ہیں مگر ناکافی ہیں۔ پچاسوں پہاڑوں کاقاتل پہاڑسیٹھ زمین پرآچکاہے۔اور ثبوت کے نام پردراصل ہر دِن خود اپنی ذلت تلاش رہاہے۔ بوڑھا بھی ہوچکاہے ۔ ایک دفعہ فالج کاشدید حملہ ہوچکاہے۔ہمیں یقین ہے کہ وہ عنقریب ہمیں لکھ کر دے گاکہ میں پہاڑ جوں کے توں رکھوں گا۔ جس دن وہ یہ تحریر لکھ دے گاہمیں پہاڑوں سے قبضہ چھوڑنا ہی ہے۔ اسی میں ہماری شرافت پوشیدہ ہے۔
