ابو احمد مہراج گنج

متحدہ ہندوستان میں جب سے مسلمان آباد ہیں کسی نہ کسی شکل میں وہ آزمائش سے گزرتے رہے ہیں کبھی وہ ملیچھ بتاے گیےتھے تو کبھی حملہ آورں کے محافظ توکبھی دین الہٰی کے جال میں پھنسانے کی کوشش ہوئی تو کبھی شدھی تحریک سے ڈرانے کی شازش غرضیکہ کوئی بھی دور ہو بھارت میں مسلمانوں کو آزمائش سے نجات نہ ملی ۔ ملک کی تقسیم کے بعد تو یہ سر زمیں مسلمانوں کے لیے ایک امتحان گاہ میں ہی تبدیل ہو کر رہ گیا ہے ۔مسلمان ہر سال کہیں نہ کہیں فسادات کا شکار ہیں۔ کہیں کہیں مذہبی غنڈوں کی غنڈہ گردی کا شکار ان کی مساجد ومدارس ہیں تو کہیں کہیں پوری کی پوری بستی ان کے نشانے پر ہے ۔یہ سب آزمائش اور امتحان تو وہ ہیں جن کو ہم اپنی آنکھوں سے روز بروز دیکھتے ہی رہتے ہیں ۔

لیکن حالیہ برسوں میں بھارت کے مسلمانوں کی آزمائش کاایک نیا دور شروع ہوگیا ہے ۔ اور وہ ہے "مسلم ماؤں بہنوں بیٹیوں کے جسم اور ایمان کا تحفظ” کچھ سالوں پہلے بھارت میں مسلمانوں کو اپنے ماؤں بہنوں بیٹیوں کے تحفظ کا احساس اور خیال بھی نہیں گزرا ہوگا۔مگر حالیہ برسوں کے دوران رونما ہونے والے واقعات کی ایک سیریز نظروں کے سامنے ہے ۔جس میں ہمارے دشمنوں نے ہماری ماؤں بہنوں بیٹیوں کو ٹارگٹ بنایا ہے اور اس مشن پر روز افزوں ترقی کی راہ پر گامزن ہیں ۔

کبھی ہم فخر سے کہہ سکتے تھے کہ ہمارے معاشرے اور سماج کی تشکیل اور تعمیر کی سب سے مضبوط پائیدار اور قابل اعتماد کڑی ہماری مائیں بہنیں اور بیٹیاں ہیں ۔لیکن حالات نے جس تیزی سے کروٹ بدلا ہے اور مادیت نے ہماری ماؤں بہنوں بیٹیوں کو جس طرح ہم سے دور کیا ہے یہ غور وفکر کا متقاضی ہے اور ہمارے لئے تازیانہ عبرت بھی ،کہ دشمن اب ہم سے آمنے سامنے لڑنے کے بجائے ہمارے گھروں اور ہماری نسلوں میں سیندھ لگانے کی براہ چنا ہے جس میں وہ کامیاب ہوا جارہاہے اور ہم ہاتھ پہ ہاتھ رکھے منتظر فردا ہیں ۔

حالات کی سنگینی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ہمارے بیڈ روم میں سوئی ہوئی میری بیوی کسی غیر کے بستر میں حرارت پیدا کررہی ہے ۔میرے آنگن میں محفوظ رہنے کی دعویدار میری بہن اور بیٹی غیروں کے شانوں پر سر رکھ کر تو کبھی لگژری گاڑیوں اور خوشنما ہوٹلوں کے کمروں میں ان کی رات کو رنگین بنارہی ہیں اور ہم مسلمان اپنی مردہ ضمیری پر افسوس تو دور اس پر غور و فکر کرنے سوچنے سمجھنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں ۔

ایک طرف دشمن جہاں ہماری معصوم بہنوں بیٹیوں کو اسکول کالج اور کوچنگ سینٹرز سے بہلا پھسلا کر سنہرے خوابوں میں الجھا کران کا مستقبل سیاہ اور برباد کر رہے ہیں تو دوسری طرف ہماری ماوں اور بہنوں کو مالی مشکلات سے نجات دلانے کے لئے شہر در شہر قصبہ در قصبہ گاوں در گاؤں "سموہ” بناکر انکو بےحیائی اور عیش کوشی کے دلدل میں اتارتے جارہے ہیں ۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ہم ان سرگرمیوں سے آگاہ ہوکر بھی اس سے نظریں چرا رہے ہیں لیکن آخر کب تک؟ اب تو ہمارے نسلوں کے تحفظ کے آخری حصار میں بھی نقب زنی اور سیندھ ماری ہوچکی ہے اور ہم اپنی آنکھیں موند کر خطرے کو ٹالنے میں مست ہیں ۔

آنکھوں کو موند لینے سے خطرہ نہ جاے گا ۔

وہ دیکھنا پڑے گا جو دیکھا نہ جائے گا۔

اللہ پاک ہمارے عزت و عصمت کی حفاظت کا سامان پیدا فرمائے۔ ہمارے نسلوں کے تحفظ کا ہم میں جذبہ پیدا کرے آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے