(ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے مختلف اختلافی اور جانبدارانہ فیصلوں کے پس منظر میں لکھا افسانہ)
ڈاکٹر انجم شکیل احمد، مدینہ المنورۃ
نورخاں اور صالحہ کے ازدواجی زندگی کے پانچ چھ سال بہت ہی خوشگوار گذرے۔ دونوں کی جوڑی دوست احباب اور خاندان میں مثالی سمجھی جاتی تھی۔ شادی کے فوراً بعد ہی صالحہ کے پاس ایک کے بعد دو اور دو کے بعد تین خوشخبریاں آگئیں۔ وہ بے حد خوش اپنی چھوٹی سی گرہستی میں مطمئن رہتی تھی۔ نور خان بھی اپنی خوشگوار زندگی سے مطمئن تھا۔ گاڑی اچھی ڈگر پر چل رہی تھی کہ اچانک صالحہ کو کچھ نہ سمجھنے والا مرض آ گھیرا۔ وہ روز بروز کمزور ہونے لگی، وزن میں روز روز کمی آنے لگی اور ہلکا ہلکا بخار تنگ کرنے لگا۔
فیملی ڈاکٹر، اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کے مشوروں اور مختلف معائنوں کے بعد پتہ چلا کہ اسے خون کا کینسر ہوگیا ہے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ چند دنوں میں اپنے میاں اور تین چھوٹے چھوٹے بچوں نادیہ، نازنین اور احمد کو روتا بلکتا چھوڑ کر اس دارِفانی سے کوچ کرگئی۔ نورخان کی جیسے دنیا ہی لٹ گی، دن رات بیچین غمگین رہنے لگا، نہ کسی سے بات چیت کرتا نہ ہی بھائی بہنوں میں بیٹھ کر ہنس بول لیتا۔ کبھی کبھار بچوں کے ساتھ بیٹھ کربادل نخواستہ چھوٹے موٹے کھیل کھیلتا اور اس دوران اسکی آنکھیں اور بھی نم ہو جاتیں۔ بھائی بہنوں اور دوستوں کے اصرار پر کہ نئی شادی کا سوچو، بھائی بہنوں کی بہت ساری دلیلوں اور سمجھانے کے بعد کہ اتنی بڑی عمر اکیلے کانٹنا محال ہے، اور ایک عورت کے گھر آنے سے بچوں کی دیکھ بھال بھی اچھی ہوجائیگی اور پھر خود بھی اپنی جسمانی ضروریات کا خیال کرتے ہوے نئی شادی کے لئے تیار ہوگیا، اور دیکھ بھال کرکے ذولیخا سے نکاح کرلیا۔
ذولیخا گھر آگئی۔ گھر کی ذمہ داری سنبھال لی۔ شروع شروع میں بچوں کا خیال اچھی طرح سے رکھنے لگی۔ ایک سال بعد جب اسکی گود ہری ہوی تو بچوں کے تعلق سے اسکا رویہ بدلنے لگا۔ دوسرے بچوں پر اسکے اپنے بیٹے خالد کی ترجیحات اور خواہشات مقدم ہونے لگیں۔ اسکا رویہ سوتیلے بچوں کے ساتھ سخت اور غیرمحسوس طریقہ سے نفرت آمیز ہونے لگا۔ معصوم بچے اپنی چھوٹی موٹی ضروریات اور بعض دفعہ بچکانی ضد لیکر ذولیخا کے پاس جاتے تو وہ انھیں جھڑک دیتی یا پھر غصہ ہوجاتی۔ بچے منہ بسور کر ایک دوسرے کو دیکھتے رہ جاتے۔ نور خان کے سامنے  اسکا رویہ بچوں کے ساتھ اسکے اس رویہ سے بلکل مختلف ہوتا ۔نور خان سمجھتا تھا کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ اسی نفرت، محبت کے ماحول میں بچے بڑے ہوتے گئے۔
نادیہ نویں، نازنین آٹھویں اور احمد پانچویں جماعت میں آگئے۔ انکے ساتھ ساتھ چھوٹا خالد بھی تیسری جماعت میں آگیا۔ خالد کو گورنمنٹ اسکول میں داخل کرایا گیا تھا۔ اسکے چونچلے الگ تھے۔ اسکے لئے روز ہی نئی نئی چیزیں لی جاتیں تھیں، اسکا ٹفن ،اسکا بیگ وغیرہ سبھی الگ اسٹانڈرڈ کے ہوتے۔ دوسرے بچے سرکاری مدرسوں میں پڑھ رہے تھے۔ نادیہ اور نازنین حالات سے ایڈجسٹ ہو رہیں تھیں، مگر کبھی کبھی احمد ضد پر آجاتا، وہ اپنے آپ کا خالد سے تقابل کرنے لگتا۔ اور اسکے جیسے ہی چیزوں کے لئے فرمائش شروع کردیتا۔ جو کہ پوری نہ ہوتیں اور نازنین اسے اسکولوں کے اسٹانڈرڈ کا فرق بتا کر سمجھا منا لیتی۔
اسکول کے لیے آج خالد کو نیا بیگ لایا گیا تو احمد مچل گیا۔ دونوں بہنوں کے سامنے اپنے آنسو نہ روک پایا۔ وہ تینوں مل کر ذولیخاکے پاس گئے، نازنین بہت ہی سلجھے ہوے لہجے میں کہنے لگی، امی دیکھیں ہم حالات سے ایڈجسٹ کر رہے ہیں، میں اور نازنین کبھی آپ سے بیجا فرمائش نہیں کرتے مگر یہ احمد ابھی چھوٹا ہے اسمیں اور خالد میں فرق تو نہ کریں۔ ہمارے لئے خالد اور احمد دونوں ایک ہی ہیں۔ ہم خالد کو کبھی کم پیار تو نہیں کرتے بلکہ گھر کا چھوٹا ہونے کی وجہ سے ہم اسے زیاد ہی پیار کرتے ہیں۔ ذولیخا انکی باتوں کو بہت غور سے سنی۔ پھر بولی بچو میں تمہاری باتوں کو سمجھتی ہوں اور تم لوگوں کا اپنی حسبِ بساط خیال بھی رکھتی ہوں مگر میں یہ نہیں سمجھتی کہ یہ مجھ پر لازم ہے کہ میں جو خالد کے لئے کروں وہی احمد کے لیے بھی کروں اور جب میں اسے لازم نہیں سمجھتی تو بات ختم۔ سب کچھ جیسا چل رہا ہے چلنے دو۔ تینوں بچے ذولیخا کے فیصلے سے مایوس اپنے کمرے میں آگئے۔ تینوں خاموش اپنے اپنے میں اسکا حل سوچتے رہے، اچانک نازنین کہنے لگی آپی ایسا کرتے ہیں ،ہم ایک درخواست لکھ کر ابو کو دیتے ہیں۔ اپنے ساتھ جو یہ حق تلفی ہو رہی ہے اسکا ذکر کرتے ہیں۔ تینوں اس تجویز پر متفق ہو گئے۔ نازنین اپنی نویں جماعت کی صلاحیت کے لحاظ سے ایک مختصر درخواست والد کے نام لکھی اور جیسے ہی وہ دفتر سے آئے ذولیخا کی نظروں سے بچا کرانکے ہاتھ میں تھما دیا۔ وہ چپکے سے بیٹی کو دیکھے، کاغذ کو اپنی پتلون کی جیب میں رکھ لئے اور حسبِ معمول اپنے کمرے میں چلے گئے۔
بچے منتظر تھے کہ کچھ تو حل نکلے۔ روز باپ کی صورت دیکھتے۔ مگر کچھ اشارہ نہیں پاکر خاموش ہوجاتے۔ دو تین دن گذر جانے کے بعد بھی نورخان نے اس موضوع پر بات نہیں کی تو نازنین جسکی تجویز پر یہ درخواست لکھی گی تھی بولی آپی لگتا ہے ابو پہلے ہی کی طرح’’ ہوں‘‘ کہکر چپ ہو جایئنگے۔ چھوٹا احمد مایوس لہجے میں بولا’’ میں نے کہا تھا نہ کہ درخواست ورخواست مت دو۔ ابو کے فیصلوں سے واقف نہیں ہو کیا۔  مجھے خدشہ ہے کہ وہ یہی کہیں گے کہ بچو مصلحت سے کام لو، ایڈجسٹ ہونا سیکھو، ایڈجسٹ کرنے ہی میں زندگی اچھی گذرتی ہے‘‘
پھر وہ بڑی بہن نادیہ کو دیکھتے ہوے بولا آپی میں کب تک ایڈجسٹ کروں۔ اسکے سوال میں چھپے درد کو محسوس کرکے نادیہ کے پلکوں پہ رکے آنسوؤں کا بند ٹوٹ گیا اور وہ احمد کو گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے