محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر،کرناٹک 
۱۔ مقتول قلمکار  
وہ ایک معروف قلم کار تھے۔سبھی انہیں جانتے تھے اور ان کی تحریروں کے عاشق تھے۔ ایک دن میں نے پوچھا’’اپنے قلم سے روزکسی نہ کسی معاملہ کو قتل کردیتے ہیں آپ ، اس قدر قتل وغارت گری اچھی ہے کیا؟‘‘ انھوں نے مجھ سے سوال کیا’’تمہارے بقول میں معاملہ کوقتل کرکے اپنے نزدیک سے ہٹادیتاہوں ، لیکن وہ معاملہ پھر ایک مسئلہ بن کر جوں کاتوں کھڑا رہ جاتاہے ۔ اسلئے ایسے قتل کاکیافائدہ ؟‘‘
میں بھی سوچ میں پڑگیا۔ واقعی مسئلہ جوں کاتوں رہاکرتاہے۔بڑے بڑے مصنفین کے لکھنے پربھی متعلقہ ارباب مجاز اس کے حل کی طرف توجہ نہیں دیتے۔تو کیاواقعی ہتھیارہی مسئلہ کاحل ہے  ۔۔۔۔۔‘‘اس سے زائد سوچنے کی ہمت مجھ میں نہیں تھی۔
۲۔ دودھ کاجلا 
کہانی میں موڑ آگیا ہے۔ روز اس سے ملاقات کرآتاہوں۔آج شام پتہ چلاکہ وہ مجھ سے نہیںملتاہے ، دراصل اس کو میری دولت اور سماج کے مختلف افراد سے میرے جو تعلقات ہیں وہ بے حد بھاتے ہیں ،وہی مطلوب ہیںاور بس۔
مجھ سے بڑا بے وقوف اور کون ہوگا؟،جو میر انہیں ہے اس کو میں اپناسمجھ کر مل آتاہوں لیکن اب ایسانہیں ہے۔ ایسے لوگ چھوڑ دئے ہیں میں نے ، اب تو مجھے چاہنے والے سچے لوگوں سے بھی ڈر لگتاہے۔ اسی لئے ہرطرف آواز سنائی دے رہی ہے کہ اس کو چھوڑ دویار ، وہ سماج سے خوف کھایاہوا، ہارا ہوا فرد ہے۔ایسے لوگوں سے دوستی گھاٹے کاسوداہواکرتاہے۔
اب کہانی یہ ہے کہ میرے دوست گھاٹانہیں چاہتے اور میں بھی اپناگھاٹانہیں چاہتا۔گویا کانٹے کی ٹکر ہے۔
۳۔ آپ کیا بولتے ہیں؟
اپنی بہن کی غیرمسلم نوجوان سے شادی کرنے کے اصرار پر مسلم نوجوان بھائی نے اور اپنی بیٹی کی مسلم نوجوان سے شادی کی ضد پرہندو باپ کی جانب سے بیٹی کے قتل کی خبریں وائرل ہورہی ہیں۔غیرت کی بابت یہ دونوں قتل چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ سماج کو ایک دوسرے کے طبقہ میں لڑکیوں کی شادی منظور نہیں ہے۔ وہ بھی سوچ رہاہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اس طرح کاعشق نہ ہواور اس طرح کاقتل بھی ناقابل قبول ہے۔
آپ عوام ہیں، آپ جو سوچیں وہی قانون سمجھیں۔ لیکن اس غریب بیچارے کی سوچ کو کون جانے گا۔ ویسے وہ بھی چپکے چپکے دیگر طبقہ کی لڑکی سے عشق میں مبتلا ہے ، لیکن ڈرکے مارے اس لڑکی سے کہتانہیں ہے۔ اور محسوس کیا ہے کہ لڑکی بھی اس پر بری طرح عاشق ہے لیکن سیدزادی ہونے کے ناطے خاموش ہے۔ اب اللہ جانے اس عشق وعاشقی کا انجام کیاہوگا۔ ہر نوجوان لڑکااور لڑکی عشق میں مبتلا ہوں گے تو یہ عشق نہیں ہوس ہی تو کہلائے گا۔ آپ کیابولتے ہیں ، ضرور بولیں ، ایک دنیا آپ کو سنے گی۔
۴۔ زبان درازی 
زبان پھسل گئی تھی۔ لیکن دونوں ماننے کوتیار نہیں تھے۔ تیسرے نے سمجھانے کی کوشش کی ۔جب کچھ نہ بن پڑاتوسمجھانے بجھانے کے چکر میں تیسرے کی زبان بھی پھسل گئی۔ تیسر اشخص اللہ والا تھا، لاحول پڑھ کر وہاں سے چل دِیا۔ اس کو پتہ چل چکاتھاکہ وہ شیطانی چکر میں پھنس چکا ہے۔ حالات مزید بدتر اور زبان مزید کم تر درجے پر آسکتی ہے۔اس سے بہتر ہے کہ خود ہٹ جاناچاہیے۔ راوی کہہ رہاہے کہ دونوں اشخاص کی لڑائی زوروں پر ہے اور کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہے۔
۵۔ سروے کاشوق 
حسن اپنی جگہ خاموش نہیں رہ سکا۔ عشق نے بھی اپنادھندا اٹھالینے کو عزت سادات تصور کیا۔ تاریخ میں لکھاہیکہ اس دور کی عورتیں انتہائی حرافہ تھیں۔ اور بازاروں میں عام حمامات تھے اور اس میں حسن وعشق اٹکھیلیاں کرتے ہوئے غسل فرماتے تھے ۔روک ٹوک کرنے والے کو سخت سزائیں ملتی تھیں۔ ملک کیاتھا، عشرت کدہ تھا۔ اور وہاں حسن کو دست درازی کی عادت پڑچکی تھی۔اس ملک کے یوسف کنعان تھرتھر کانپاکرتے تھے ۔
تاریخ اپنے آپ کو دوہر ارہی ہے۔ حسن کودست درازی کاموقع عطاکرنے نئے نئے قوانین ہمارے ملک ِ عزیز میں بھی بن چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے کئی نوجوان جیل کی سلاخوں کے پیچھے جاچکے ہیں۔ اگر آپ لوگ سروے کرنا چاہیں تو شوق سے کرسکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے