از: پروفیسر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی
 کامل الحدیث جامعہ نظامیہ ، M.A., M.Com., Ph.D (Osm)

دین اسلام میں آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے جس سے کسی لمحہ دستبرداری اختیار نہیں کی جاسکتی چونکہ آزادی مضبوط، پائیدار اور صحت مند سماج کی تشکیل کے لیے از حد ضروری ہے۔ قرآن مجید کے مطابق انسان کی حیثیت پابند محض کی نہیں بلکہ اسے ارادہ و اختیار کی آزادی دی گئی تاکہ راہ ِ ہدایت کے انتخاب پر اسے مستحق اجر و ثواب اور راہ ضلالت اختیار کرنے پر موجب سزا قرار دیا جاسکے۔ اسی لیے اللہ تعالی نے اپنے ہر بندے کو ذمہ داری نبھانے اور اپنے حقوق کو حاصل کرنے کی قدرت عطا فرمائی جسے حریت یعنی آزادی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس میں کسی طرح کی دخل اندازی اللہ تعالی کی حکمت بالغہ کے خلاف اقدام تصور کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں انسان کی ہر لحاظ سے آزادی کو بڑی اہمیت دی گئی ہے جس کا بھرپور اظہار دین اسلام کے عقیدہ توحید اور ارکان اسلام یعنی نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج سے ہوتا ہے جس پر دین اسلام کی عمارت کھڑی ہوئی ہے۔ اگر اس میں کسی قسم کا رخنہ پیدا ہوگا تو اسلام کی عمارت کمزور ہوجائے گی۔

اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو عقیدہ توحید اپنانے میں مکمل آزادی مرحمت فرمائی ہے جس کے بغیر معروفات و منکرات شرعیہ کا پاس و لحاظ اور عظیم و معیاری اعمال صالحہ بھی اکارت و بے معنی ہوجاتے ہیں۔ لفظ کن سے وسیع کائنات کو وجود بخشنے والی ذات کے لیے کچھ مشکل نہ تھا کہ فرشتوں کی طرح ہر انسان کو معصوم عن الخطا ، صاحب ایمان بنادے تاکہ روئے زمین پر کوئی منکر حق باقی ہی نہ رہے ۔ شبانہ روزکوششوں کے باوجود کفار و مشرکین کی دین اسلام سے وابستہ نہ ہونے کی المناک صورتحال تاجدار مدینہؐ کے قلب شفیق پر انتہائی گراں گزرتی اور آپؐ بہت زیادہ مغموم ہوجاتے ایسے عالم میں اللہ تعالی نے اپنے حبیبؐ کو تسلی دینے کے لیے ارشاد فرمایا کہ اگر چاہتا آپ کا رب تو ایمان لے آتے جتنے لوگ زمین میں ہیں۔
اس فرمانِ کردگار سے یہ صراحت ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی کی مشیت و حکمت اور تکوینی مصلحتیں اس بات کی متقاضی تھیں کہ انسان کو رشد و ہدایت اور گمراہی و ضلالت سے آگاہ کردیا جائے ، اسباب خیر و شر کی نشاندہی کردی جائے، صلاحیتوں سے بہرہ ور کرکے غور و فکر کرنے کی دعوت دینے کے بعد عمل کرنے یا نہ کرنے کی مکمل آزادی عطا کی جائے تاکہ وہ اکراہ و جبرکے باعث گھٹن محسو س نہ کرے اور وسیع کائنات  کی مخلوقات سے مرعوب ہوکر ان کی پرستش میں عافیت نہ سمجھے بلکہ ظواہر طبعی و صحیفۂ کائنات اور اس کے عدیم النظیرنظام کے مطالعہ سے حاصل ہونے والی معرفت کے سبب انسان کو ایمان کی لذت و مٹھاس نصیب ہوپھر وہ اس آزادی کا صحیح استعمال کرکے شرف ایمان سے مشرف ہونے، دنیا و عقبی کو سنوارنے کے لیے از خود نیکیوں کی طرف مائل اور حسن و شباب، مال و دولت، عہدہ و منصب کی ساری اشتعال انگیزیوں پر قابو پاکر برائیوں سے متنفر ہوجائے۔ جو لوگ اللہ تعالی کے الطاف و عنایات کا آزادانہ استعمال اپنے ذاتی مفادات یا نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے کرتے ہیں ایسے آزاد لوگ غلاموں سے بدتر ہوتے ہیں چونکہ وہ گناہوں کی نحوست سے یا تو ایمان کی دولت سے محروم ہوجاتے ہیں یا پھر گناہوں کے دلدل میں دھنس کر آخرت کو برباد کرلیتے ہیں۔ یہ سنت الٰہی ہے کہ جو لوگ عقل و شعور کا استعمال کرتے ہوئے کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں اللہ تعالی ان کے قلوب و اذہان کو نور ایمانی سے منور فرمادیتا ہے اور جو لوگ ہوائے نفسانی کے اسیر ہوکر زندگی بسر کرتے ہیں اللہ تعالی انہیں کفر و شکر اور سرکشی و نافرمانی کی گندگی میں پڑے رہنے دیتا ہے (العیاذ باللہ)۔
اسی طرح ارکان اسلام کی روح کو مد نظر رکھا جائے تو بھی یہ بات اظہر من الشمس و ابین من الامس ہوجاتی ہے کہ ہر انسان کو سماجی مساوات، معاشی خوشحالی، جرائم سے پاک اور پر امن فضا میں زندگی گزارنے کا آزادانہ حق حاصل ہے۔ اگر کوئی طاقت ان اہداف و مقاصد کے حصول میں رکاوٹ بنتی ہے یا انسان کی آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش کرتی ہے تو دین اسلام اپنے ماننے والوں کو ان کے خلاف جہاد کرنے کا حکم فرماتا ہے تاکہ انسان کی آزادی کو یقینی بنایا جاسکے۔ لفظ آزادی میں ایسی فطری کشش ہے جس کے باعث اسے ہر مذہب اور مکتب فکر نے سراہا اور تائید کی ہے چونکہ ہر لحاظ سے انسان کی آزادی کا شمار انسانی معاشرہ کی اہم ترین قدر میں ہوتا ہے جس کے بغیر انسانیت کاتحفظ، مضبوط و مستحکم اور صالح معاشرے کی تشکیل کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
آزادی کا تعلق صرف جسم سے قطعی نہیں ہے ۔بہت سارے ہمارے اسلاف اور بزرگان دین ایسے گزرے ہیں جو قید و بند کی صعبوتیں برداشت کرتے ہوئے بھی آزادی کی لو کو دھیمی ہونے نہیں دیا اور استقلال و استقامت کے ساتھ اپنے افکار و خیالات کو عملی جامہ پہناتے ہوئے باطل طاقتوں کا مقابلہ کیا اور انسانی معاشرہ میں انقلاب لایا ایسے آزادی کے پروانوں کو دنیا آج بھی سلام کرتی ہے۔ اس کے برعکس بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو جسمانی طور پر آزاد ہونے کے باوجود ذاتی مفادات و نفسانی خواہشات کی اسیری کے سبب اعلی اور قابل فخرمناصب و عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود ذلت و رسوائی کی زندگی گزارتے ہوئے گوشتہ گمنامی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ انتہائی کر و فر کے ساتھ موقتی زندگی کو ترجیح دینے والے ایسے لوگوں میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس کو دنیا نے فراموش نہ کردیا ہو۔ لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ نعمت آزادی سے صحیح طور پر مستفید ہونے کے لیے تعلیمات اسلامی کے مطابق زندگی گزاریں ورنہ بے مہار آزادی کے مطابق زندگی گزارنے سے انسانی معاشرہ فتنہ و فساد، جرائم و بدامنی کی آماجگاہ بن جائے گا۔ شریعت مطہرہ کے دائرہ میں رہتے ہوئے آزادی کا استعمال اسلامی و صالح معاشرے کی تشکیل کا اہم سبب ہے جبکہ آزادی کی نعمت کو ذاتی مفادات اور نفسانی خواہشات کے حصول کے لیے استعمال کرنا انسان کو اعلی علیین سے اسفل سافلین میں پہنچادیتا ہے۔ دین اسلام ہر طرح کی غلامی بالخصوص ذاتی مفادات اور نفسانی خواہشات کی اسیری کا شدت سے مخالف ہے چونکہ اس سے انسان کا استحصال ہوتا ہے، انسانیت شرمسار ہوتی ہے اورانسانی معاشرے میں بے چینی اور بدامنی پھیل جاتی ہے۔ مثلاًعدل عام و تام اور مقدمات کے صحیح فیصلوںکا مدار صرف گواہی پر ہے۔ عدالتیں جو بھی فیصلہ صادر کرتی ہیں وہ گواہوںکے دیے گیے بیانات کے مطابق ہوتے ہیںاگر گواہ ذاتی مفادات یا نفسانی خواہشات کا اسیر ہو تو پھر عدل و انصاف کا قتل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ظالم کے حوصلہ بلند ہوجاتے ہیں، وہ برائیوں کا ارتکاب کرنے اور حقوق پامال کرنے میں مزید جری ہوجاتا ہے تو دوسری طرف مظلوم حقوق سے محروم ہونے کی وجہ سے اس کے اندر انتقامی جذبات کے ابھرنے کے امکانات بڑی حد تک بڑھ جاتے ہیں یہ دونوں صورتیں انسانی معاشرے میں برائیوں کو تیزی سے پھیلانے کا سبب بن جاتی ہیں۔
قرآن مجید یہ بھی بیان کرتا ہے کہ یہودی رشوت لے کر فیصلہ بدل دیا کرتے تھے جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے ان پر ذلت و مسکنت کو مسلط کردیا۔ اسی نحوست سے بچانے کے لیے قرآن مجید نے ایمان والوں  کو پابند بنایا کہ وہ ذاتی مفادات اور نفسانی خواہشات کا شکار ہوئے بغیر محض اللہ ذو المجد والعلی کے لیے انصاف پر مبنی گواہی دیںاور تمام معاملات میں انصاف کو قائم رکھیں۔ ہمیں پتہ ہے کہ اللہ تعالی ہمارے ہر عمل سے باخبر ہے اس کے باوجود ہم اداء شہادت حق کا تقاضہ پورا کرنے کے بجائے نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے جھوٹی گواہیاں دیکر حق کے اظہار سے اعراض کررہے ہیں اور انصاف کا گلا گھونٹ کر یہودیوں کی پیروی کررہے ہیں۔ طرفہ تماشہ یہ کہ ہم ہر نماز میں ان ہی یہودیوں کی روش پر نہ چلانے کی اللہ تعالی سے دعا بھی مانگ رہے ہیں۔  مخلوق کی خوشنودی کے لیے جھوٹی گواہی دیکر ہم دنیاوی قوانین سے کھلواڑ کرکے بچ تو سکتے ہیں لیکن جھوٹی گواہی دیکر احکم الحاکمین کو ناراض کرکے اس کے عتاب و عذاب سے کیسے بچ سکیں گے؟ دین اسلام میں استحکام فی الشہادۃ کی تاکید اس حد تک کی گئی کہ مسلمانوں کو حکم دیا گیا گواہی دیتے وقت رحمت کے جذبات و احساسات کو بھی خاطر میں نہ لائو اور اگر تمہاری گواہی تمہارے ذاتی مفادات ، تمہارے والدین، تمہارے قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، ان نازک حالات میںبھی تم پر لازم ہے کہ بڑی سچی کے ساتھ گواہی دیں۔ افسوس صد افسوس دنیا کی کونسی ایسی عدالت ہے جہاں مسلمان ذاتی مفادات کے حصول اور نفسانی خواہشات کی موقتی تسکین کے لیے جھوٹی گواہیاں درج نہ کروارہے ہوں؟
دنیا و عقبی میں صلاح و فلاح کی ضامن شہادت حق سے انحراف کا نتیجہ ہے کہ حقدار کی حق تلفیاں ہورہی ہیں، مجرموں کے حوصلے بلند ہورہے ہیں، نفرت و عداوت ہر سو عام ہورہی ہے نتیجتاً ہر کوئی خوف کے عالم زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے ۔ خوف کے سایہ میں رہنے والا نہ آزاد انسان کہلایا جاسکتا ہے اور نہ ہی وہ مادی کامیابی و روحانی ارتقا پانے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔جب فرعون کے جادوگروں نے اپنے ساحرانہ کمالات کا شدت کے ساتھ اظہار کیااور لاٹھیوں ورسیوں پر جادو منتر پڑھ کر میدان میں پھینکا تو وہ جادو کے اثر سے غصہ پھنکار نے والے سانپ محسوس ہونے لگے تو حضرت سیدنا موسیؑ نے بمقتضائے جبلت بشری اپنے دل میں کچھ خوف محسوس کیا ۔رب کائنات نے آپؑ کی طرف وحی فرمائی کہ مت ڈرو یقینا تم ہی تن تنہا ان سب پر غالب رہو گے۔اس واقعہ سے یہ درس ملتا ہے کہ جب انسان خوف سے آزاد ہوجاتا ہے تو انسان میں نہ صرف باطل سے تن تنہا مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا ہوجاتا ہے بلکہ باطل کو شکست فاش ہوتی ہے اس کے برعکس اگر انسان خوف و ہراس شکار ہوجائے تو اس کی آزادی سلب ہوجاتی ہے ، وہ ہر شئی سے مرعوب ہوجاتا ہے اور اس کی پوری حیات غلامی سے عبارت ہوجاتی ہے۔  آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بطفیل نعلین پاک مصطفی اس ماہ ِمبارک میں تمام مسلمانوں کو اپنی رحمت، مغفرت سے سرفراز فرمائے اور دوزخ سے نجات عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طہ و یسین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے