مغربی چمپارن(بہار): جامعہ ابوبکر الصدیق الاسلامیہ، مغربی چمپارن، بہار میں یوم آزادی کی مناسبت سے اپنی دیرینہ روایات کے مطابق شاندار پروگرام کاانعقاد ہوا جس میں قریہ برندابن اور قرب و مضافات کے بہت سارے افراد نے شرکت کی۔واضح ہوکہ بانی جامعہ مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کے جد امجد شیخ بخشش کریم نے علاقہ میں سب سے پہلے انگریز سے ٹکرلیا تھا اور سالہا سال مقدمات کا سامنا کیا تھا۔ جامعہ کے کیمپس میں منعقد اس جشن یوم آزادی میں سب سے پہلے پرچم کشائی کا عمل علاقہ کے معروف سماجی کارکن جناب جواد حسین کے ہاتھوںانجام پایا، اس کے بعد جامعہ کے طلبہ اور کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات کی طالبات نے رنگارنگ اور معنیٰ خیز تعلیمی اور ثقافتی مظاہرہ پیش کیا جسے حاضرین نے خوب پسند کیا اورطلبہ و طالبات کی دل کھول کر تعریفیں کی۔اس موقع پر پروگرام میں شریک لوگوں نے ادارے کے بانی حضرت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی اور رئیس مولانا محمد اظہر مدنی کو بھی ڈھیرساری دعاؤں سے نوازا کہ انہوں نے اس دور دراز علاقے میں جامعہ ابوبکر الصدیق الاسلامیہ جیسا ایک معیاری ادارہ قائم کیا ہے جس میں بچے نہ صرف یہ کہ معیاری تعلیم حاصل کررہے ہیں بلکہ یہاں کے فارغین مختلف مجالات میں کارہائے نمایاں بھی انجام دے رہے ہیں۔
پروگرام کی شروعات محمد فرہاد استخار علی کی تلاوت کلام پاک سے ہوئی، پھر رزینہ خاتون طوفان علی نے حمدباری تعالیٰ پیش کیا، رضیہ اور نکہت نے ترانہ ہندی ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں‘‘نہایت ہی مترنم اور خوش کن آواز میں پڑھا،بعد ازاں، ام حبیبہ، فردوس، روبینہ، خوشبو،تمنا اور دیگر طالبات کلیہ نے مختلف عناوین پر لب کشائی کی۔اس کے علاوہ سہیل امین انصاری، عالمگیر جہانگیر عالم اور محمد عرفان نے بہت ہی عمدہ انداز میں تمثیلیہ پیش کیا۔ شہاب النساء، عصمت انظار حسین، آمنہ فخر الدین اور صبیحہ علیم اللہ وغیرہم نے بھی انگریزی، ہندی اور اردو میں تقاریر پیش کیں جنہیں حاضرین نے دلجمعی سے سماعت کیا اور طلبہ و طالبات کو اپنی نیک دعاؤں سے نوازا اور ذمہ داران کے بہتر مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
اس کے بعد علاقہ کے معزز شخصیات نے اس خوبصورت اجلاس کو خطاب کیا جن میں جواد حسین، ماسٹر داود حسین، ماسٹر اکرام الحق، محمد نسیم الحق، محمد زبیر، علی حسین، صدر عالم، محمد ارشاد، جودھا شاہ اور رامائن شاہ اہم اور قابل ذکر ہیں۔
اس مناسبت سے جامعہ کے رئیس مولانا محمد اظہر مدنی نے پروگرام سے ٹیلی فونک خطاب کیا اور سب سے پہلے تمام اہل وطن کو یوم آزادی کی دلی مبارک باد پیش کی اور مولانا نے کہا کہ آزادی کا دن ہمارے لئے خوشی کا دن ہے کیونکہ اسی دن ہمارا ملک انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا۔ اس آزادی کے حصول کے لئے ہم نے لمبی مدت تک جدوجہد کی اورپھر کہیں جاکر ہمیں یہ آزادی نصیب ہوئی۔
مولانا نے کہا کہ ہم ہندوستانی ہیں اور اپنے وطن سے ہم محبت کرتے ہیں، اس مبارک موقع پر عہد کرنا چاہئے کہ ہم وطن سے متعلق اپنے حقوق کو ادا کریں گے، اس وطن کے واسیوں سے محبت کریں گے، کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے وطن کی شان پر حرف آئے اور ہم ہمیشہ وطن کی تعمیر و ترقی میں ممکنہ کوششیں صرف کریں گے۔
مولانا علاء الدین فیضی نے بھی اس موقع سے حاضرین کو خطاب کیا اور اس موقع پر جنگ آزادی میں علمائے کرام کی سرفروشانہ کردار پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر مولانا نے ادارے کے بانی مولانا اصغر علی امام مہدی اور رئیس مولانا محمد اظہر مدنی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس علاقہ کے باشندگان کے لئے جامعہ ابوبکر اور کلیہ عائشہ کی صورت میں طلبہ و طالبات کی دینی تعلیم و تربیت کا عمدہ بندوبست کیا ہے،چنانچہ ادارے کے باشندگان کو اس کی قدر کرنے کی ضرورت ہے اور ادارے کی ترقی میں اپنا سرگرم رول نبھانے کی ضرورت ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق جامعہ ابوبکر صدیق الاسلامیہ کے زیراہتمام چلنے والے مختلف تعلیمی اداروں میں جشن یوم آزادی کا انعقاد ہوا اور پورے جوش و خروش اور والہانہ انداز میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی جن میں ہزاروں طلبہ و طالبات اور بچوں کے والدین اور گارجینس نے شرکت کی اور دیش سے اپنی الفت و لگاؤ کا مظاہرہ پیش کیا۔
جشن یوم آزادی کی اس تقریب میں جن اہم ترین نے شرکت فرمائی ان میں مولانا ذکی احمد فیضی، مولانا سیف اللہ تیمی، عبدالغفار سلفی، ماسٹر نورالعین، ماسٹر ظہیر احمد، ماسٹر مجیب الرحمان، محمد ظفیر، مولانا عبیدالرحمان، قرۃ العین، بودھن، علقمہ وغیرہ اہم اور قابل ذکر ہیں۔
پروگرام کے بعد حاضرین کے مابین شیرینی تقسیم کی گئی۔
