سہارنپور(احمد رضا): گز شتہ شب جشنِ آزادی کی نسبت سے *بزمِ عزیزانِ سخن* کے زیرِ اہتمام اردو ادب کی ایک شام جشنِ آزادی کے نام سے بیحد خوبصورت، شاندار، باوقار و عظیم الشان شعری نشست کا پر جوش انعقاد نواب پبلک اسکول سہارنپور میں انعقاد کیا گیا جسکی صدارت حاجی محمود سا مانی نے فرمائی شمع روشن کے فرائض ثروت جمال نے نبھائے۔
شعری نشست کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر رئیس کمال رہے مہمانِ ذی وقار ڈاکٹر راؤ اصغر علی کے ساتھ ساتھ ادبی نشست کے صدر محترم حاجی محمود سا مانی نے شعرو ادب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ہم سب لوگوں کو اردو زبان کو زندہ رکھنے کیلئے اکثر اس طرح کی محفلوں کو منعقد کرتے رہنا چاہئےجس سے اردو کا پیغام دور دور تک پہنچ سکے آج کی مصروف ترین زندگی سے کچھ وقت نکال کر ہم سب لوگوں کو ایک جگہ یکجا ہوکر شعر و ادب کا مزا اٹھانا چاہئے یہی آپسی بھائی چارہ اور پیار محبت کا اظہار ہوگا اور اردو زبان میں اردو دوستوں کا یہ پیغام دور دراز تک پہنچ جائیگا بس یہی ادب کی بڑی خدمت ہوگی!
شعری نشست کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر رئیس کمال نے جشنِ آزادی 15 اگست کی سبھی لوگوں کو مبارکباد دی نو منتخب بزمِ عزیزانِ سخن سہارنپور* کے متعلق سامعین کو تفصیل سے بتاتے ہوئے ڈاکٹر رئیس کمال نے کہا کہ یہ بزم مرحوم حضرت صوفی الحاج عبدالعزیز قادری شریفی الرحمہ صاحب کی اردو زبان کے تئیں خدمات و فروغ کا احاطہ کرتے ہوئے وجود میں لائی گئی ہے صوفی عزیز رح کی پوری زندگی عشق نبی اور اللہ کی وحدانیت کے پیغام کو عام کرنے میں گزری ہے صوفی عزیز رح کی اردو کی سبھی اصناف، رموز اور اوزان پر مضبوط پکڑ تھی! *بزمِ عزیزانِ سخن* کے وجود میں آنے پر صوفی عزیز رح کے معتقدین، چاہنے والوں اور مریدین کے اندر زبردست جوش و خروش پایا جارہا ہے بزم کے باقی عہدیداران کا تقرر بہت جلدی عمل میں لایا جائیگا۔اور ایک شاندار، وسیع اور عظیم الشان کا منی مشاعرے کا انعقاد بھی کیا جائیگا۔
نشست کی شمع روشن کرنے والے ثروت جمال وائس پرنسپل الپائن اسکول نے کہا کہ آج ہمارے بچّے اردو شعروادب سے ناواقف ہیں،اُن میں ذوق و شوق پیدا کرنے کیلئے وقتاً فوقتاً اسکولوں میں شعر و ادب کی محفلیں منعقد کرتے رہنا چاہئے مہمانِ ذی وقار ڈاکٹر راؤ اصغر نے ہندی کے توسل سے اردو زبان کے فروغ و ارتقاء پر زور دیتے ہوئے کہا اردو زبان کو عام لوگوں تک پہنچانے کیلئے اگر ہندی زبان کا بھی سہارا لیا جائے تو کچھ غلط نہیں پروگرام کی بہترین اور کامیاب نظامت کے فرائض خرّم سُلطان صاحب نے ادا کئے محفل میں استاد الشعرا سکندر حیات صاحب، صاحبِ دیوان شعراء ہارون صابر صاحب و فیاض ندیم صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں اپنے کلام پڑھے اور سامعین سے خوب داد و تحسین حاصل کی ڈاکٹر رئیس کمال صاحب، آصف شمسی صاحب، ڈاکٹر راؤ اصغر، دانش کمال ،فراز احمد فراز صاحب سیّد راشد، ڈاکٹر نوشاد حامی، گلُ محمد، ایڈوکیٹ ساجد علی کے کلام کو سامعین نے خوب سراہا اور داد و تحسین سے نوازا۔
ادبی تنظیم بزم عزیزانِ سخن کی تشکیل نو پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سوشل رہبر اور سنجیدہ مزاج شاعر افضال امیر نے کہا ہے کہ ڈاکٹر رئیس کمال کی محنت اور بزرگوں سے عقیدت رکھنے کی لاجواب عادت کسی بھی صورت بھلائی نہی جا سکتی ہے. … آج کی محفل میں معزز شعراء اکرام کے منتخب اشعار:
جبینِ لوح پہ محفوظ نام ہے تیرا
کہاں کھڑا ہے کہاں پر مقام ہے تیرا۔
(ہارون صابر)
تری اوقات بہت جلد بتا دیگا جہاں
ہم نے دیکھے ہیں ترے جیسے سکندر کتنے
(ڈاکٹر رئیس کمال)
ذرا سی عقل سلیقہ شعور کُچھ بھی نہیں
قریب جاکے جو دیکھا حضور کچھ بھی نہیں
(خرّم سلطان)
زمانے کی نمائش میں ہر ایک سامان بِکتا ہے
کہیں کردار بکتے ہیں کہیں انسان بِکتا ہے
(آصف شمسی)
وطن کی لاج ہمیں جان سے بھی پیاری ہے
ہمارا حوصلہ سارے جہاں پہ بھاری ہے
(سیّد راشد)
مٹا دو اپنے گلے شکوے بس ایک ہو جاؤ
سنواروں ہند کو اسکی چاہ میں کھو جاؤ
(افضال امیر)
میں برائی سے بھلائی کی طرح لڑتا رہا
ذمہ داری سے سپاہی کی طرح لڑتا رہا
(فراز احمد فراز)
پروگرام کے منتظم ڈاکٹر محمد احمد نے مہمانان کی ضیافت کے بہترین انتظامات انجام دیئے سامعین میں سلیم عثمانی،محمد شاہد، حسیب احمد ایڈوکیٹ، ڈاکٹر عبدل خالق چاند، شمشیر احمد، قاری مونس مظاہری، سیّد ساجد علی، دانش رئیس،آصف خان، اکرام علی،شارق خان جیسے اصحاب کے نام قابلِ ذکر ہے!
