راج شیکھرپاٹل اشٹور
قدیم زمانے سے ہی ’’ پدیاترا کلچر‘‘ کی پیروی میں ہم سب ہندوستانیلگے ہوئے ہیں۔ اپنی تعلیم کے دوران تاریخ پڑھتے ہوئیبہت کچھ سیکھاہے۔ اور اِن دِنوں بھی پدیاترا کو اکثرپڑھتے اور سنتے رہتے ہیں۔ ذیل میں کچھ ایسی پدیاتراؤں کاذکر ہے جو مجھے یاد ہیں (اورجو بھول گیاہوں، اس پر گرفت نہ کریں ) وہ پدیاترا لکھ رہاہوں ۔
۱۔ سب سے مشہورپدیاترا باپو(مہاتماگاندھی) کاڈانڈی مارچ تھا جو نمک پر ٹیکس لگانے کے خلاف کیاگیاتھا۔
۲ٍ۔ ونوبابھاوے کی ’’بھودان تحریک ‘‘جس میں انھوں نے بڑے زمینداروں کی زائد زمین طلب کرلی تاکہ وہ زمین ایسے کسانوں کودی جائے جن کے پاس کھیت کھلیان نہیں ہیں۔
۳۔ سابق وزیراعظم چندر شیکھر کی پدیاترا جو کنیاکماری سے دہلی تک سال 1983-84کے دوران کی گئی تھی۔ جس کامقصد وزیراعظم اندراگاندھی کی غلط حکمرانی کو سامنے لانا تھا۔
۴۔ لال کرشن اڈوانی کی 1989-90کی رتھ یاترا ہے ، جو گجرات کے سومناتھ مندر سے نکل کر اُترپردیش کے ایودھیا پر ختم ہوئی۔
۵۔آندھراپردیش کے سابق وزیراعلیٰ آنجہانی YSراج شیکھرریڈی نے اس وقت کے غیرمنقسم آندھرا میں اور تلنگانہ کی تشکیل سے پہلے تلگودیشم پارٹی کی بدانتظامی کے خلاف پدیاترا کی تھی۔
۶۔ وزیراعلیٰ سدرامیاکی بلاری پدیاترا جو بنگلور سے نکالی گئی تھی اور بلاری ضلع کی کان کنی مافیا کی اجارہ داری کے خلاف تھی۔
۷۔ راہو ل گاندھی کی ’’بھارت جوڑویاترا‘‘جو بی جے پی کی نام نہاد نفرت انگیز سیاست کے خلاف تھی
۸۔آندھراپردیش کے موجودہ وزیراعلیٰ چندرابابونائیڈو کے فرزند نارالوکیش کی پدیاترا جو آندھراپردیش میں پھیلی ہوئی جگن موہن ریڈی کی غلط حکمرانی کوسامنے لانے کے لئے نکالی گئی ۔
۹۔اور اب بی جے پی اور جنتادل (یس) کی طرف سے میسور چلو پدیاترا نکالی گئی جو موڈا (میسور ڈیولپمنٹ اتھارٹی) میں مبینہ اسکنڈل کواجاگر کرنے کے لئے رہی۔
اپنے اغراض و مقاصد میں کامیابی اورناکامی :۔
تمام پدیاترا اور ایک رتھ یاترا(اپنے مقصد میں) کامیاب رہی لیکن سابق وزیراعظم چند رشیکھر کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ان کی پدیاترا کو ناکامی کامنہ دیکھناپڑا۔ کیوں کہ ان کی پدیاترا اس وقت دہلی پہنچی جب ہندوستانی کرکٹ ٹیم جون 1983ء میں انگلینڈ سے پہلی دفعہ ورلڈ کپ کافائنل کھیل رہی تھی۔ اس لئے پدیاترا میں لوگوں کی حاضری کم رہی۔ اس وقت قسمت ان پر مہربان نہیں تھی۔ 1984ء میں اندراگاندھی کے قتل کے بعد ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں کانگریس پارٹی سے ہمدردی کی لہر کی بناپر چندرشیکھر یوپی کی اپنی سیٹ اور بہار کی نشست پر بھی (دونوں جگہ سے )انتخاب ہارگئے۔
سب سے بڑی متنازعہ یاترا:۔
لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا سب سے زیادہ متنازعہ اور پرتشد دتھی ۔ رام جنم بھومی اور بابری مسجد مسئلہ کی وجہ سے جان ومال کانقصان ہوا۔ بہار میں لال کرشن اڈوانی گرفتار کرلئے گئے اور مرکز میں وی پی سنگھ حکومت زوال کاشکار ہوگئی۔
تازہ ترین ۔ میسور چلو پدیاترا :۔
اس مضمون کے لکھنے تک کرناٹک کے گورنر (تھاور چند گہلوت)نے وزیراعلیٰ سدرامیاکے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے اپنی رضامندی دے دی ہے۔ میری رائے میں اس پدیاترا کو میسورپدیاترا ۔IIکہناچاہیے۔ کیوں کہ اس سے قبل میسور کے راجہ کے خلاف 1947ء میں میسورچلو پدیاترا نکالی گئی تھی۔ 15؍اگست 1947ء کے فوراً بعد ہندوستان کے ساتھ الحاق کے معاہدہ پر انھوں نے دستخط نہیں کئے تھے۔اس لئے یہ تحریک شروع کی گئی۔ جس کی قیادت میسور ریاستی کانگریس پارٹی نے کی تھی تاکہ مہاراجہ کومیسور کو یونین آف انڈیامیں ضم کرنے پر مجبور کیاجائے۔ اس پدیاتر امیںمنڈیا کے قریب واقع مدور میں پولیس فائرنگ بھی ہوئی جس میں بہت سی کانگریسیوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ ان شہیدوں کی یادگار اب بھی وہاں موجودہے۔بعدازاں مہاراجہ نے الحاق کے معاہدے پر دستخط کئے۔ جنہیں راج پرمکھ اور بعد میں ریاست میسور کاگورنر بنایاگیا۔اسی طرح ریاستی کانگریس کے صدرمسٹر کے سی ریڈی ریاست میسور کے پہلے وزیراعلیٰ بنے۔
آزادی سے قبل ہندوستان میں 500سے زیادہ شاہی ریاستیں تھیں ۔ جن میں سے کئی نے یونین آف انڈیا کے ساتھ الحاق(انضمام) پر اتفاق کرلیا لیکن کچھ ریاستیں الحاق کرنے سے ہچکچارہی تھیں، ان کے خلاف طاقت کااستعمال کیاگیا۔ جمکھنڈی کی شاہی ریاست(جواب کرناٹک میں ہے) نے سب سے پہلے ہندوستان سے معاہدے کااعلان کیا۔اور اس طرح دستخط کرنیو الی ریاستوں میں وہ پہلی ریاست تھی۔ پٹوردھن شاہی خاندان نامی ریاست کے دیوان اس وقت بی ڈی جٹی تھے۔ 1970ء کی دہائی کے آخر میں میسور ریاست کے وزیراعلیٰ اورآزاد ہندوستان کے نائب صدر بننے کے لئے سیاسی سیڑھیاں چڑھنے میں حکومت ہند سے الحاق کی پہل کے سبب مسٹر جٹی کو کافی مدد ملی۔
ریاست اور مرکز کے تعلقات ۔ کیاہم تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں۔ شاید کبھی ہمارے نظام ِ حکومت کاموازنہ امریکہ سے کیاجائے، جہاں صدارتی نظام ِ حکومت چل رہاہے۔ ہندوستان میں اِن دنوں ریاست اور مرکز کے تعلقات میں تناؤ دیکھاجارہاہے۔ گورنر کومرکز ی حکومت کاایجنٹ اور کٹھ پتلی وغیرہ کہاجاتاہے۔ میں سمجھتاہوںکہ ڈبل انجن سرکارکے طورپر استعمال ہونے والی سیاسی اصطلاح جمہوریت مخالف اور ہمارے وفاقی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
عزیز قارئین ! ہم 1957ء کے اوائل سے ہی بھارت میں دوسرے عام انتخابات کے دوران متضاد (Divergent) سیاست کے گواہ ہیں۔ کیرالہ ریاست نے دوسرے عام انتخابات میں کمیونسٹ حکومت کو منتخب کیا۔ EMSنمبودری پد وزیراعلیٰ بن گئے تھے۔ اس طرح کیرالہ کی کمیونسٹ پارٹی حکومت دنیاکی ایسی پہلی کمیونسٹ حکومت تھی جو بیالٹ پیپر کے ذریعہ برسراقتدار آئی۔ جب کہ دنیا میں جہاں کہیں کمیونسٹ اقتدار میں آئے خونریزی اور تشدد کے ذریعہ اقتدار میں آئے۔
ماضی کی غلطیاں اور اصلاح :۔
جمہوری طورپر منتخب اور مقبول آندھراپردیش کیNTRحکومت کوآندھراپردیش کے گورنر آنجہانی سری رام لال نے برطرف کردیاتھا۔ اس واقعہ نے قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی ۔ سماج کے تمام طبقات اور اپوزیشن پارٹیوں نے گورنر کے اس اقدام پر سخت تنقید کی ۔تمام اپوزیشن پارٹیاں حیدرآباد میں احتجاج کے لئے جمع ہوئیں۔ جب کہ ایم ایل ایز کو راشٹرپتی بھون میں صدرجمہوریہ کے سامنے پریڈ کرائی گئی۔ اس برطرف حکومت کو بحال کرنے کے لئے مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالاگیا۔ اس سارے کھیل میں اہم اور مثبت رول کس کاتھا؟
وہ شخصیت سابق صدر جمہوریہ جناب شنکردیاشرما کی تھی جو اس وقت اندراگاندھی حکومت میں راجیہ سبھا کے سینئر رکن تھے۔انھیں گورنر بناکر حیدرآباد بھیجا گیاتاکہ وہ اس بحران کو حل کرسکیں۔ ان دِنوں پارلیمنٹ میں بہت سے سینئر لیڈر تھے جو حکومت کاحصہ نہیں تھے ، جن سے حکومت نے مشورے مانگے تھے۔ شنکردیاشرما کے علاوہ ایک اور سینئر لیڈر پروفیسر این جی رنگاتھے۔
ریاستوں اور مرکز کے درمیان خوشگوار تعلقات کی مثال :۔
بہت سی مثالیں ہیں لیکن میں صرف ایک مثال کو بطور ِ حوالہ پیش کرتاہوں۔ کرناٹک کے سابق وزیراعلیٰ ایس ایم کرشنااور سابق وزیراعظم اے بی واجپائی ایک دوسرے کااحترام کرتے تھے۔ حالانکہ وہ دونوں دو مختلف پارٹیوں اور نظریات سے تعلق رکھتے تھے۔ کئی دفعہ واجپائی نے ریاست کرناٹک میں ہونے والی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بایو ٹیکنالوجی کی پیش رفت اور اس کی ترقی کی تعریف کی۔انھوں نے کہاتھاکئی غیرملکی معززین پہلے بنگلور اور پھر دہلی جاناچاہتے ہیں۔
ایک دفعہ ایس ایم کرشنا کو واجپائی کی حلف برداری تقریب کیلئے دہلی مدعو کیاگیاتھا۔ کرشنا کے وہاں پہنچنے سے پہلے ان کیلئے مختص کردہ نشست پر دوسروں نے قبضہ کرلیاتھا۔ اس لئے ایس ایم کرشنا کو واجپائی خاندان کے لئے مخصوص( نشستوں میں سے ایک )نشست پر بٹھایاگیا۔ اس کو واجپائی نے دیکھ لیا۔ اگلے دن کرشنا کو دفتر بلایاگیاتھا۔واجپائی نے یہ کہہ کر ایس ایم کرشنا کااستقبال کیا’’آپ میرے خاندان کے فرد ہیں، آپ کوخوش آمدید کہاجاتاہے‘‘ کرشنا کواس کی کوئی خبر نہیں تھی۔ واجپائی نے کل کاپوراواقعہ انہیں سنایا۔
اس محاورہ پر اپنی تحریر کا اختتام کرتاہوں’’اعتراض (اور مخالفت) کا مقصد(اپنی) جیت نہیں بلکہ (اجتماعی) ترقی ہونا چاہیے ‘‘۔
