محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
۱۔ مختصر کہانی ۔۔۔۔ پانچ نوجوان
’’ریپ کرنا ایک ہنر ہے ۔ ہر ایک ریپ پورے بھارت میں شہرت حاصل نہیں کرسکتا، جب قسمت خراب ہوتی ہے تو وہی ریپ پورے بھارت میں ایک Issue بن جاتاہے، اس ریپ کے اگینسٹ Candle March نکالے جاتے ہیں ‘‘وہ چند علیحدہ قسم کے نوجوان تھے اور ایک چائے کی ہوٹل میں بیٹھے گفتگو کررہے تھے۔ایلو شرٹ والے نے جواباً کہا’’literally، ریپ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ لڑکیوں کو اپنے بچاؤ کے ہنر آتے ہیں، ایسی ایسی لاتیں ماریں گی کہ نانی یاد آجائے ، شاید اسی لئے ان کا Murder بھی ہوجاتاہے ۔ مرڈر کے بیچ ریپ کرناآسان رہتاہوگا‘‘
سرپر بلیک ہیٹ پہنے ہوئے لڑکے نے تمسخر اڑاتے ہوئے کہا’’سالا ، اپناتجربہ بتارہاہوگا، دال میں کچھ کالا نظر آرہاہے ، ہاہا ہا ‘‘ پانچوں دوست ایک ساتھ ہنس پڑے ۔ایلو شرٹ والا پہلے خو دبھی ہنساپھر برا مان گیا۔ تب چھوٹے قدکے چھوٹے بھیم کی طرح لنگی باندھے ہوئے نوجوان نے کہا’’جب تک Politicianنہ چاہیں کوئی بھی کیس پورے بھارت میں مشہور نہیں ہوسکتا۔ کولکتہ لیڈی ڈاکٹر کاریپ بھی اسی کی کڑی ہے، I am Confident ‘‘لمبے قد کے وائٹ شرٹ والے نے چھوٹے قدوالے کی تائید کرتے ہوئے کہا’’I agree with Chotu ۔ ہوسکتاہے ، اس کے پیچھے کوئی گہری ساز ش ہو،کیوں کہ پوری دنیا کی طرح ہمارے بھارت میں بھی ہر دن ریپ ہوتے ہیں لیکن ان کو پبلسٹی نہیں ملتی۔اسی اسٹیٹ میں ریپ نیوز دفن کردی جاتی ہے جس اسٹیٹ میں ریپ ہوتاہے۔ Rape or Other Issues کو پبلسٹی دینا انڈین پالیٹکس کی کمزوری ہے ‘‘خاموش بیٹھے ہوئے گرین قمیض والے نے زیربحث ٹاپک کو ختم کرنے کے لئے کہااور بولا’’ایک اور چائے پیتے ہیں ، چھوڑو یا ر اس ریپ ویپ کےTopic کو ، Everyone see their own future۔ ریمبو کہہ رہاتھاکہ سات ماہ کی پٹرولیم فیلڈٹریننگ کے بعد دنیا کی کسی بھی Country میں جاب مل سکتی ہے، اس کوٹرائی کرتے ہیں ‘‘
ان ہی میں سے کوئی بولا’’وہ توٹھیک ہے یار ، مگر ٹریننگ کے لئے دولاکھ روپئے آئیں گے کہاں سے ۔۔۔۔؟‘‘ پانچوں دوست اب اپنے مستقبل کی فکر میں ڈوبے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے۔
۲۔ دودھ دھلائی سے دور شخص
جب ہر برے سے برا آدمی کرسی پر بیٹھ رہاہے تو مجھے بھی یقین ہے کہ کوئی نہ کوئی کرسی مل ہی جائے گی۔ کیوں کہ میں کہاں کا پرہیزگار اور دودھ کادھلا شخص ہوں ؟
۳۔ دیہی رپورٹر
وہ ایک دیہی رپورٹرتھا۔ شہر پہنچ کر اپنے استاد سے خبرنویسی کے طریقے سیکھتا۔صحافت کاباضابطہ کورس نہیں کرسکاتھا مگر وہ چاہتاتھاکہ اس کو صحافت سے متعلق سب کچھ پتہ ہو۔دوتین سال سے یہ سلسلہ جاری تھا۔ اس پر بریک تب لگاجب اس دیہی رپورٹر کی شادی اس گاؤں میں ہوئی جہاں پہلے سے ایک اور اخبار کادیہی رپورٹررہتا تھا۔ دونوں ایک طرح سے سالے بہنوئی بن گئے ۔ پھر اس بہنوئی رپورٹر کااپنے شہری استاد کے پاس آنا جانا بالکل ہی کم ہوگیا۔پتہ چلاکہ سالا کہلانے والے رپورٹر نے بہنوئی رپورٹر کوپٹی پڑھائی کہ ہم دیہی رپورٹر ہی اصل رپورٹر ہیں۔ شہر میں رہنے والے ہماری خبروں پرشیربن کر خود کوبڑا صحافی بتاتے ہیں۔
آج استاد کووزیراعلیٰ کی جانب سے میڈل دیاجارہاہے ۔ بہنوئی رپورٹر سوچ رہاہے کہ کاش ، رپورٹرسالے کی باتوں میں نہ آتاتو آج اپنے استاد کو مبارک باد دے رہاہوتا۔
۴۔ بزدلی ممالک کی
وہ ذرا جلدی میں تھے۔ دنیا کے حالات نازک موڑ پرتھے۔ ان سے ائربیس پرایک منہ لگے صحافی نے پوچھاکہ ’’آپ کمانڈر ہیں، لڑنابھڑنا آپ جانتے ہیں ، یہ بتائیں کے لڑائی کے دوران مختلف ممالک کے جانب سے سامنے آنے والی بزدلی کیاہوسکتی ہے ؟‘‘ وہ پوری طرح پلٹے ،صحافیوں کودیکھا ،مسکرائے اور جواب دیا ’’آج دنیابھر کے نازک ترین اور جنگی حالات میں بزدلی کی تعریف یہ ہوسکتی ہے کہ پہلے پہل بدلہ لینے کے لئے حملہ کرنے کااعلان کیاجائے اور پھر ایک مہینہ بعد چوتھا اعلان یہ کیاجائے کہ جوابی حملہ کے لئے مزید انتظار کرناپڑے گا‘‘
انھوں نے اپناہاتھ ہلایا اور ہوائی جہاز کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے جہاز کے اندر داخل ہوگئے۔جہاز کے دروازے بڑی تیزی سے بند کرلئے گئے۔
۵۔ کوئی کام ؟
ہاتھ ، جیب اور اکاؤنٹ میں پیسہ نہیں تھا۔ اس کے باوجود اللہ پربھروسے کایہ عالم تھاکہ دنیابھر سے لڑنے کے تیار ہوں ۔ اس نے کہاتو میں نے بتلایاکہ’’تم جو کچھ کہہ رہے ہووہ ایک طرح کی رہبانیت ہے لہٰذا کوشش کروکہ ہاتھ ، جیب اور اکاؤنٹ میں پیسے آجائیں، پیسہ رکھنے والے کو قرآن صاحب ِ خیر کہتاہے ‘‘
آج 50سال بعد وہ مجھ سے دوبارہ ملاہے۔ میری عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کی شناخت میرے لئے ناممکن ہے ۔ مگر وہ کہہ رہاہے کہ وہ میری نصیحت پرعمل کرتے ہوئے پیسہ کماچکاہے اور ایک بہت بڑا دولت مند آدمی بن چکاہے۔ کئی بڑی گاڑیاں اس کے پاس ہیں۔ دنیابھر کاسفر وہ ہوائی جہازوں میں کیاکرتاہے۔
میں نے گھرکے اندر والی گھنٹی بجائی تو میرا 20سالہ پوتا افنان نے ایک ٹرے میں بسکٹ لاکر تپائی پر رکھے اور کہا’’چائے آرہی ہے داداحضرت ‘‘ وہ پانچ روپئے والا پارلے جی بسکٹ کھارہاہے اور میرے ساتھ باتیں بھی کرتاجارہاہے ۔ میں سوچ رہاہوں کہ ہوائی جہازوں میں اڑنے والا ایک دولت مندآدمی کومجھ جیسے کم مالی حیثیت والے استاد سے کیاکام آن پڑاہے ؟
