محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
۱۔ نیازمندی
’’نیازمندی چھوڑچکاہوں‘‘ اس نے گویا جنگ کااعلان کیا، اس کالہجہ بتارہاتھا۔میں نے اس سے کہا’’یہ اعلان دراصل فتح کاہے جنگ کا نہیں ، بے نیازی ایک آقاوالوںکاشعار رہاہے ‘‘
وہ سرجھکائے میرے پاس سے اٹھ کرچلاگیا۔ شاید رو رہاتھا۔
۲۔ جنگل کا انتشار
انہیں اپنی جائیدادیں بچانی تھی۔ اسلئے سیاست دانوں کے درپر حاضری دیتے رہے۔ حضرت ابوالفقیر شاہ دولہا تک بات پہنچ گئی ۔ ان کی آنکھیں نم ہوگئیں ، کہاکہ ’’لگتاہے صاحب ِ مزار سے مایوس ہوگئے ہیں اور اب سیاست دانوں کے پلو سے بندھے بندھے گھوم رہے ہیں ‘‘ایک منہ لگے مرید نے کہا’’حضرت ، ہمیں ان کی مصروفیات سے کیالینادینا،رب نے ہمیں بچالیاہے ، کیایہ کافی نہیں ہے ؟‘‘ شاہ دولہا نے جواباًکہا’’کافی نہیں ہے، ہمیں سب کی بھلائی مقصود ہے ، خود کی بھلائی گدھے چاہتے ہیں۔ شیر سارے جنگل کی حفاظت پر مامورہوتاہے ‘‘کوئی کچھ نہ بولا۔ سب اپنے اپنے طورپرکچھ نہ کچھ سوچ رہے تھے۔
۳۔ مال روک انڈسٹری
’’وہ وقت چلاگیاجب بیچنے والے اپنی اپنی اشیاء بیچ رہے تھے۔ خریدنے والے کم تھے ۔مال بچ جاتاتھا، بچاہوا مال سڑ جاتاجس سے انھیں نقصان اٹھانا پڑتا۔ پھر یہ ترکیب اختیار کی گئی کہ بچ جانے والے مال کی کل تک کے لئے حفاظت شروع کی گئی۔
آج کاوقت یہ ہے کہ خریدنے والے ایک دن پہلے کامال بھی خرید رہے ہیں۔ فروخت کرنے والے کو نقصان نہیں ہورہاہے۔ البتہ ایک دن بعد کامال خریدکراستعمال کرنے سے صحت خراب ہورہی ہے اور اس صحت کو ٹھیک کرنے کیلئے شہر میں ملٹی سوپراسپیشالٹی اسپتال آہستہ آہستہ وجود میں آرہے ہیں۔ڈاکٹروں کی طلب میں اضافہ ہواہے۔ پہلے دوتین محلوں کے لئے ایک ڈاکٹر کافی تھا۔ اب ہر100 افراد پر ایک ڈاکٹر کی ضرورت ہے ‘‘
ڈاکٹر عابد معز یہ سروے سن کرعجیب طرح سے ہنس پڑے لیکن ڈاکٹر افسوس نہال نے کہہ دیاکہ’’ فریز کرنے کاسسٹم نقصان دہ ہوتاہے ۔ اس کو ختم کرتے ہوئے انسانی صحت کی بحالی عمل میں لائی جاسکتی ہے‘‘ یہ بات تو ہماری سمجھ میں بھی آگئی ہے لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے گاکون؟ کروڑہاارب ڈالر کی صحت انڈسٹری چل رہی ہے ، اس کوروکا نہیں جاسکتا۔الایہ کہ اوپر والا ایسا چاہے۔ یاپھر لوگ واقعی انسان بن جائیں۔
۴۔ کامیاب فائر
اخبار نکال کروہ تھک چکاتھا۔ لیکن ملت کی فلاح وبہبود کاراستہ اس کو صحافت ہی کے ذریعہ معلوم ہواتھا۔ دوسرا کوئی راستہ کا پتہ نہیں تھا۔ ریحانہ فائرنے اس سے کہا’’اخبار نکالنے سے پیٹ نہیں بھرتااور اخباروالا بھلے سیاست دانوں میں اپنی شناخت رکھتاہو، مگر ملت اس کونظر بھر کر دیکھتی تک نہیں ، اسلئے میری مانوتواخباربند کردو‘‘ اس کو غصہ تو بہت آیا لیکن ریحانہ فائر کاکوئی فائر قطع جانا ، ایسا نہیں ہوسکتاتھا۔ ایک دن اس نے اخباربند کردِیا۔ اس شہر کے سارے سیاست دان اس دن خوش تھے۔ خصوصاً اس کے طبقہ کے سیاست دانوں میں خوشی کی لہر تھی۔ اس کے گھر میں بیوی بچے بھی خوش ہی تھے۔ لیکن ریحانہ فائر چاہتی تھی کہ وہ اس کی بات نہ مانے لیکن وہ ریحانہ کی بات مان چکاتھا۔
۵۔ بارش کی ناقدری
جیسے ہی بارش ہونے لگی ، سبھی نے تشویش کااظہار شروع کردیا۔ ارے یہ کیا، بارش ہورہی ہے۔ انیل دیکھ ، ممتا دیکھ بارش ہورہی ہے۔ سبحان سے کہو جیکٹ اوڑھ لے بارش ہورہی ہے۔ ابھی گرمی تھی ابھی بارش ہے۔ ہائے ہائے بارش آگئی۔ سارے بچے بھیگ گئے۔ سنا ہے بارش کی وجہ سے کئی دیواریں بیٹھ گئی ہیں۔ بار ش نہ ہوئی آفت ہوگئی۔ کیا اس کو بھی اس قدر برسناتھا؟
بارش اس قطعہ کے لوگوں کی اس کے خلاف کی جانے والی جلی کٹی باتیں سن سن کرپک گئی۔ بارش کولگاکہ اس کے آنے پر کوئی خوش نہیں ہے۔ تواس نے بھی فیصلہ کرلیاکہ وہ واپس ہوجائے گی۔ اوروہ واپس ہوگئی۔ پچھلے پانچ سال سے اس علاقے میں بارش اپنی ناقدری پر غصہ میں ہے۔ دوچار قطرے آنسوتک نہیں بہاتی ۔بارش کیاجانا تو یکسر دور کی بات ہے۔
