سہارنپور 2 ستمبر،( احمد رضا): ملی تعلیمی ٹرسٹ کے زیر اہتمام جامعۃ الطیبات نسواں کالج حبیب گڑھ میں ڈاکٹر افتخار احمد جاوید چیئرمین اتر پردیش مدرسہ تعلیمی بورڈ لکھنؤ کی تشریف آوری پر ایک پر وقار استقبالیہ پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت جامعۃ الطیبات کے ناظم حضرت مولانا محمد یعقوب بلند شہری نے فرمائی!
پروگرام کے مہمان خصوصی ڈاکٹر افتخار احمد جاوید چیئرمین اترپردیش مدرسہ تعلیمی بورڈ لکھنؤ نے اپنے خطاب میں کہاکہ لڑکیوں کو تعلیم دلانا لڑکوں سے زیادہ ضروری ہے اس لیے کہ لڑکیوں کو دو گھر چلانے ہوتے ہیں ایک اپنی ماں کا گھر اور دوسرا اپنی سسرال کا گھر، انہوں نے کہا کہ لڑکیاں تعلیم یافتہ ہوں گی تو معاشرے میں پھیلی ناخواندگی کی خامی بھی دور ہوگی اور معاشرہ طرح طرح کی برائیوں سے محفوظ رہے گا، انہوں نے کہا کہ مجھے اس ادارے میں حاضر ہوکر بہت بڑی خوشی ہوئی کہ یہاں لڑکیاں عالمہ بننے کے ساتھ ساتھ عصری اعلی تعلیم بھی حاصل کر رہی ہیں۔
انہوں نے جامعۃ الطیبات کے ڈسپلن اور تعلیمی نظم و نسق کی بار بار تعریف کی اور عمدہ تعلیمی نظام کو گھر گھر پہنچانے کے لئے جامعہ کے ناظم مولانا محمد یعقوب بلند شہری کو بہت بہت مبارک باد پیش کی۔ ڈاکٹر نے کہا کہ ایسے ادارے ملک بھر کے ہر شہر میں ہر گاؤں میں قائم ہونے چاہئیں انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو دینی و عصری دونوں تعلیم سے آراستہ کریں تا کہ حالات حاضرہ میں ہر میدان میں سبقت حاصل کر سکیں انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ اپنے اندر خودداری پیدا کریں اور اپنے معاملات کو بھی درست کریں، انہوں نے مسلمانوں اور مدرسوں کے درپیش مسائل پربھی تبادلہ خیال کیا اور رہنما خطوط پیش کیے اور مسلمانوں کو اپنے اندر اتحاد اور اتفاق پیدا کرنے پر زور دیا اور بھو پیٹ رہ کر بھی اپنے بچوں اور بچیوں کو تعلیم دلانے پر زور دیا۔
اس موقعے پر عالمی شہرت یافتہ مدرسہ دارالعلوم دیوبند کے مبلغ اعلی مولانا محمد یامین قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج لڑکیوں کو تعلیم دلانا بے حد ضروری ہے لڑکی پڑھتی ہے تو خاندان پڑھ لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کو اچھی سے اچھی تعلیم دلائیں اور ان کی بہتر سے بہتر تربیت کریں تاکہ وہ معاشرے میں پھیلی برائیوں اور رسموں کو ختم کر سکیں، انہوں نے لڑکیوں کی مخلوط تعلیم سے پرہیز کرنے اور انہیں لڑکیوں کے ہی ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کی۔
شاندار تعلیمی اور استقبالیہ پروگرام کی صدارت فرماتے ہوئے عالم دین اسلامی تعلیمات کے مفکر جامعۃ الطیبات کے ناظم مولانا محمد یعقوب بلند شہری نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ یوپی حکومت مدرسوں کی بار بار جانچ کرارہی ہے اور جو ادارے حکومت سے منظور شدہ نہیں ہیں ان کے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخلہ دلانے کے لیے زور ڈال رہی ہے، انہوں نے کہا کہ یو پی حکومت نے مدرسہ بورڈ کی منظوری آٹھ دس سال سے بند کر رکھی ہے جبکہ مدارس کے ذمہ داران مدرسوں کی منظوری کرانے کے لیے بے چین ہیں اور مکمل تیاری کیے ہوئے ہیں تاکہ منظوری کا کام شروع ہوتے ہی ہم اپنے نئے مدرسوں کی فوری طور سے منظوری کرا سکیں۔

انہوں نے مدرسہ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر جاوید کے ذریعے یوپی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ مدرسوں کو حسب معمول سرکاری منظوری دینا شروع کریں تاکہ مسلمانوں کے اندر جو بے چینی اور پریشانی کا عالم ہے وہ دور ہو سکے، مولانا بلند شہری نے کہا کہ پچھلی حکومتوں میں جو اسکیمیں اور مراعات مدرسوں اورمسلمانوں کے لیے چل رہی تھیں موجودہ سرکار نے انہیں بند کر رکھا ہے مولانا بلندشہری نے مسلمانوں کی تمام اسکیمیں دوبارہ شروع کرنے کی مانگ کی تاکہ حکومت کا نعرہ سب کا ساتھ سب کا وکاس سب کے لئے برابر ثابت ہو سکے ڈاکٹر افتخار احمدجاوید چیئرمین اتر پردیش مدرسہ تعلیمی بورڈ لکھنؤ کا جامعۃالطیبات پہونچنے پر گلدستوں اور پھول مالاؤں سے پُر جوش استقبال کیا گیا آپکو بتاتے چلیں کہ آج کے اس کامیاب جلسے کا آغاز جامعہ کی طالبہ بشری نعمان نے قرآن پاک کی تلاوت سے کیا اور جامعہ کی طالبہ ثناء مستقیم نے بارگاہِ رسالت میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔
نظامت کے فرائض جامعہ کے استاد حدیث مفتی مجیب الرحمن مظاہری نے بحسن خوبی انجام دیے اس موقع پر محترمہ سمن گوتم ضلع اقلیتی فلاح و بہبود آفیسر سہارنپور، جامعۃ الشیخ عبدالستار نانکہ کے مہتمم مفتی عطاء الرحمن قاسمی،حافظ مظفر علی انصاری سی اے وغیرہ میں شريك رہے آپ نے بھی تقریب میں خطاب فرمایا تقریب میں شرکت کرنے والوں میں قاری محمد مقیم سرساوہ، قاری محمد راشد شمسپور کلاں، قاری محمد مکرم قاسمی چالاکپور چلکانہ، قاری محمد مستقیم حبیب گڑھ، قاری محمد یامین لال مسجد حبیب گڑھ، امجد علی خان ایڈووکیٹ نیشنل مسلم اکیڈمی سہارنپور، راؤ غیور عالم دون پبلک اسکول سہارنپور،مہتاب علی سڑک دودھلی، قاری مہتاب امام مسجد حسین بستی، قاری محمد عادل میرٹھ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں آج کے پروگرام کو کامیاب بنانے والوں میں قاری شاہ جہاں استاذ جامعہ ہذا، مولانا سعود الظفر مظاہری استاذ جامعہ ہذا، مولانا محمد ذاکر مظاہری استاذ جامعہ ہذا، مولانا مسعود الظفر مظاہری استاذ مدرسہ معارف القرآن سہارنپور، محمود الظفر ندوی، قاری عبد السبحان رحمانی وغیرہ کے نام لائق تحسین اور قابل ذکر ہیں !
