سہارنپور( احمد رضا): وقف املاک ہمارے بڑے بزرگوں اور اکابرین کی وہ جائدادیں ہیں کہ جو اللہ ربِ کائنات کے نام پر وقف کر دی گئی ہیں اور دین اسلام کے قوانین کے مطابق ان سبھی وقف املاک کا مالک صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے  انھی وقف املاک کو بچانا ہماری سب پہلی زمہ داری بنتی ہے اسی ضمن میں سوشل اور ملی رہبر جاوید احمد چیئرمین، وقف ویلفیئر فورم  نے 8 ستمبر کو وقف (ترمیمی) بل 2024 پر قومی کانفرنس  بلائی ہے جسکا مقصد وقف املاک کا ہر صورت تحفظ کرنا ہے وقف ویلفیئر فورم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بل کی مختلف شقوں پر غور کرنے اور پارلیمنٹ کی جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے سامنے وقف (ترمیمی) 2024 پر اپنی رائے پیش کرنے کے لیے ایک قومی کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے یہ اہم کانفرنس بروز اتوار 8 ستمبر 2024 کو دوپہر 2 بجے سے انڈین اسلامک کلچر سینٹر، نئی دہلی میں منعقد ہوگی! قابل احترام ہیں وہ ملی رہبر کہ جو اس پر فتن دور میں وقف املاک کے حقوق اور آزادی کے لئے كمر بستہ ہیں بھائی جاوید احمد کی جد وجہد کو بھی سلام کہ آپ بڑے پیمانے پر وقف املاک کے حقوق کی حفاظت کرنے کے لئے کانفرنس کا انعقاد کرکے اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں!
 آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ پر توکل اور ایمان لانے اور رکھنے والی قوم ہے کہ وقف املاک کی تباہی کسی بھی صورت برداشت نہیں کر یگی وقف املاک پر سرکاری مشینری کے نظریہ کو بھانپتے ہوئے راشٹریہ سماجک کاریہ کرتا تنظیم کے کنوینر محمد آفاق نے کہا کہ وقف املاک کو خرد برد کر نے کے لئے قانون بدلا جائے ایسا ہرگز  قابل قبول اور ممکن نہیں ہوسکتا،  وقف املاک کو خرد برد کر نے کی ہمارا آئین بھی اجازت نہیں دیتا ملی رہبر اور سنجیدہ مزاج سوشل رہبر محمد آفاق نے کہا کہ وقف بورڈ کے حقوق کو کم اور محدود کرنے کی سازش کو ملت اسلامیہ کے ذریعہ بالکل برداشت نہیں کیا چائیگا حکومت ہند وقف ایکٹ 2013 میں تقریباً 40 ترامیم کے ذریعے وقف املاک کی حیثیت اور نوعیت کو تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ ان پر قبضہ کرنا اور انہیں ہڑپنا آسان ہوجائے انہوں نے کہا کہ وقف املاک مسلم بزرگوں کے ذریعہ دئے گئے تحفے ہیں اور مذہبی اور خیراتی مقاصد کے لیے وقف ہیں۔ حکومت نے وقف ایکٹ صرف ان پر کنٹرول کرنے کےلئے بنایا ہے انہوں نے مزید کہا کہ وقف ایکٹ اور وقف املاک کو ہندوستانی آئین اور شریعت ایپلیکیشن ایکٹ 1937 کے ذریعے بھی تحفظ حاصل ہے اس لیے حکومت ہند اس قانون میں ایسی کوئی ترمیم نہ کرے، جس سے ان جائیدادوں کی نوعیت اور حیثیت بدل جائے۔
انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست طاقت اور آر ایس ایس کو معلوم ہے کہ جب تک مسلمانوں کے ہاتھوں سے وقف املاک کے اختیارات ختم نہیں کیے جائیں گے وہ ایک امتیازی شناخت کے ساتھ بھارت میں موجود رہیں گے نیز آر ایس ایس کے برہمنوں کی نظریں وقف کی بےشمار جائیدادوں پر بہت پہلے سے ہے ہندوتوا تنظیموں کو بہت پہلے سے اس بات پر مروڑ ہےکہ وقف کے نام پر مسلمانوں کے پاس اتنی ساری اراضی و عمارات اور جائیدادیں کیوں ہیں ہمارے پاس کیوں نہیں ؟ وقف میں کئی ایک تاریخی مقامات بھی ہیں۔ اگر مودی سرکار وقف میں گھس پیٹھ کرلیتی ہے تو سَنگھ اس ملک میں مسلمانوں کے خلاف ایک بڑے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا ۔مسلم قائدین کو اس ظالمانہ اور صریح غاصبانہ اقدام کے خلاف غیر معینہ مدت کے لیے آئن کے مطابق بڑا آندولن شروع کرنا ہوگا، سڑکوں پر اترنا ہوگا، جب سڑکیں اور آباد ہوں گی تو ایوانِ پارلیمنٹ سمیت انصاف کے محکمے بھی آپ کو سنجیدگی سے لیں گی آپ کا اثر قبول کریں گی ورنہ مذمتی لیٹر پیڈ اور خالی خولی عدالتی پیٹیشن سے آج تک آپ نے کیا حاصل کرلیا آپ خود تجزیہ کرسکتے ہیں۔
وقف املاک کو ہندووں کی ملکیت اور قبضے میں جانے سے ہر قیمت پر بچانا ہوگا۔آخر میں محمد آفاق نے کہا کہ آج جو کچھ بھی دشواریاں وقف سے متعلق سامنے آرہی ہیں ان کے ذمہ دار وقف کے چئرمین اور دوسرے ممبران ہی ہیں، کیونکہ وقف کی جائدادیں آج بھی غریب ،کمزور، بے گھر اور ضرورت مندوں کو مل جائے تو مسلمانوں کی ہندوستان میں آدھی سے زیادہ غربت ختم ہوسکتی ہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے