آج ماہ ربیع الاول کی ۱۲/تاریخ ہےاور دوشنبہ کا دن ہے،مشہور قول کے مطابق اسی تاریخ میں سرور کائنات محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی ہے، ہرچند کے تاریخ ولادت کے سلسلے میں ۹/اور ۸/ربیع الاول کی بھی روایات ہیں مگر دن کے حوالہ سے تمام مورخین وسیرت نگاروں کااس پر اتفاق ہے کہ بروز دوشنبہ ۲۰/اپریل ۵۷۱ء صبح صبح نبی آخر الزماں محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دنیا میں آمد ہوئی ہے۔اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری انسانیت کے لئے رحمت بناکر بھیجا ہے، قرآن کریم میں ارشاد باری تعالٰی ہے؛ اے پیغمبر ہم نےتمہیں سارے جہانوں کے لئے رحمت ہی رحمت بناکر بھیجا ہے،( سورة الأنبياء )۔
محسن انسانیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی ذات کے تعلق سے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ میری مثال اور لوگوں کی مثال ایک ایسے شخص کی ہے جس نے آگ لگائی جب اس کے چاروں طرف روشنی ہوگئی تو کیڑے مکوڑے اس میں گرنے لگے ۰۰۰۰میں تمہاری کمر پکڑ کر آگ سے نکالتا ہوں،( بخاری )
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی رحم کرم سے عبارت رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان پورے عالم انسانی پر ہے،انسانیت کی فلاح اور بھلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نصب العین رہا ہے، قران کریم میں اس بات کی شہادت موجود ہے: اے لوگو! تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں، جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہےاور تمہاری منفعت کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں (سورہ توبہ)۔
مذکورہ آیات میں تمام لوگوں سے خطاب کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہرفرد بشر کی منفعت کے خواہاں رہتے، اسی پر بس نہیں بلکہ ہر ذی روح کی تکلیف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فطری تکلیف پہونچتی ہے، چنانچہ احادیث کے ذخیرہ میں بکثرت ایسی روایتیں موجود ہیں جنمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بلی کو تکلیف دینے پر عذاب الہی سے ڈرایا ہے اور ایک پیاسے کتے کو پانی پلانے پر جنت کی خوشخبری دی ہے۔
آئے دنیا میں بہت پاک مکرم بنکر
مگر آیا نہ کوئی رحمت عالم بنکر
یہ ماہ ربیع الاول ہم سے تقاضہ ہے کہ ہم آپ صلی اللہ کی سیرت کو ہر عام وخاص تک پہونچانے کی سعی محمود کریں۔وطن عزیز میں اس وقت امت اسلامیہ کو چند ناگہانی مسائل کا سامنا ہوگیا ہے،انمیں ہمارے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ مسئلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا ہے، سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، کوئی کسی کمرے میں بیٹھ کر آقائے نامدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہذیان بکنے لگتا ہے، اس کے ردعمل میں مسلمانان ہند احتجاجی مظاہرہ کرتے ہیں، اس سے اختلاف نہیں ہے، احتجاج ضرور درج ہونا چاہیے مگر اس کے ساتھ کچھ سنجیدہ کوششیں بھی ہمیں آج کرنی ہوگی،اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو غیر مسلموں تک عملی طور پر پہونچانے کا یہ وقت تقاضہ کرتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیروں کے ساتھ کیا سلوک کئے ہیں، انہیں عام کرنے کی ضرورت ہے، اہل مکہ آپ کے جانی دشمن تھے اور وہ غیر مسلم تھے، وہ سبھی قحط سے دوچار ہوئے،نوبت یہاں تک پہونچ گئی کہ مردار کھانے پر مجبور ہوگئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے غیر مسلموں کے لئے پانچ سو دینار کی امداد روانہ فرمائی۔
وہی مکہ جہاں سے اپ کو نکالا گیا تھا، اپنا آبائی وطن چھوڑ کر مدینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پناہ گزیں ہوئے،پھر جب مکہ فتح ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام غیر مسلموں سے پوچھا کہ اج میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہوں تو ان لوگوں نے کہا کہ اپ کرم والے بھائی اور کرم والے باپ کے بیٹے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کریمانہ لہجے میں ارشاد فرمایا اج تم پر کوئی الزام نہیں جاؤ تم سب کے سب ازاد ہو۔(سیرت النبی)۔
آج برادران وطن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام بھی پہونچنا چاہیے کہ خطبہ حجتہ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑوسیوں کے بارے میں تاکید فرمائی کہ:میں تمہیں پڑوسی کے بارے میں تاکید کرتا ہو،راوی ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی بار دہرائی کہ میں یہ سمجھنے لگا کہ آپ شاید پڑوسی کو وراثت میں حصہ دار بنادیں گے (مسلم)۔
نوکروں کے حقوق کے تعلق سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:اپنے نوکر کا خیال رکھو۔جو تم کھاتے ہوانہیں بھی کھلاو، جو تم خود پہنتے ہو انہیں بھی پہناؤ (سیرت المصطفی)
اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تمہارا رب ایک ہے، اور تمہارا باپ ایک ہے، کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی سرخ کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ فضیلت کا معیار صرف تقوی ہے، اور تم میں سے اللہ کے نزدیک وہ ہے جوصاحب کردار ہے( سیرت ابن ہشام)
یہاں تک کہ اپ نے زہر دینے والی یہودی عورت کو بھی معاف فرمادیا ہے،اس کا نام زینب بنت الحارث ہے۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ؛ کھانے میں تو نے زہر ملا دیا تھا؟ اس نے عرض کیا ہاں میں نےملایا تھا ،اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے پتہ چلا؟ فرمایا! مجھے گوشت میں موجود ہڈی نے بتلا دیا تھا کہ میں زہر آلودہوں ۰۰۰۰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ نہیں کہا جانے دیا۔صحابہ نے عرض بھی کیا کہ اس کو سزا ملنی چاہیے مگر اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درگزر سے کام لیا یہ اپ کی شان ہے (طبقات ابن سعد)۔
اج اس بات کی بھی وضاحت ہونی چاہیے کہ مذہب اسلام کا مطلب امن والا مذہب اور معاف کر دینے والا مذہب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمیں یہی کہتی ہے۔ اج پیرو پیگنڈا کے ذریعے جہاد کی غلط تشریح برادران وطن کے ذہن و دماغ میں بٹھائی جارہی ہے۔ اس کو دور کرنے کی ذمہ داری ہم مسلمانوں کی بنتی ہے۔ سورہ حج کی ایت نمبر 39 میں مسلمانوں کو جہاد کی اجازت دی گئی اور اگے اس کا سبب یہ بیان کیا گیا کہ مسلمان مظلوم ہیں اور انہیں اپنے وطن سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جہاد کا حکم اس لیے نہیں ہے کہ غیر مسلموں کو زبردستی مسلمان بنایا جائے جیسا کہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، بلکہ اس لیے ہے کہ ظالم کو ظلم سے روکا جائے اور مظلوموں کی مدد کی جائے اور اللہ کی زمین پر امن قائم کیا جائے۔
ہمایوں اقبال ندوی ارریہ
۱۱/ربیع الاول ۱۴۴۶ھ
