مقالہ نگاری کے اصول و آداب پر شیخ راشد حسن مبارکپوری کا جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو میں توسیعی لکچر

تحریر: مفیض الرحمن مطیع فيضي

جامعہ فیض عام مئو

مشہور تاريخی اور قدیم جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو کے ششماہی امتحان کے بعد ذہنی و جسمانی تکان دور کرنے کی غرض سے کچھ بچے گھر جانے کے لیے اور کچھ ملک کے تاریخی مقامات کی سیر و سیاحت کے ارادے سے رخت سفر باندھ چکے تھے اور کچھ جانے کی تیاری میں مشغول تھے کہ اچانک جامعہ کے نوٹس بورڈ کے سامنے سفر میں نکل چکے طلبہ اور جانے کی تیاری میں مشغول طلبہ کا ہجوم آ کھڑا ہوا، سب نوٹس بورڈ میں لگے اعلان کو دیکھنے کے لیے بے چین ہو رہے تھے اور ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر ہی رہے تھے کہ کسی نے کہا کہ اس میں مسابقے کا اعلان لگا ہے، یہ سن کر وہاں ایک خوشگوار فضا قائم ہو گئی اور سب کا تجسس مزید بڑھ گیا کہ کیسا مسابقہ ہے؟ اسی دوران کسی کے کہنے پر ایک طالب علم نے بآواز بلند پورا اعلان پڑھا، جس سے معلوم ہوا کہ جامعہ نے بچوں کی خوابیدہ تحریری صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ایک عظیم قدم اٹھایا ہے، یعنی مضون نویسی و مقالہ نگاری کے مسابقے کا اعلان ہے ۔ ( نوٹ : جامعہ سے ماہانہ جداریہ اور سالانہ میگزین ” فیضان ” بھی شائع ہوتا ہے ) ۔ پھر امتحان کی چھٹی کے بعد اساتذۂ جامعہ کے ذہن میں یہ بات آئی کہ کیوں نہ مقالہ نگاری کے تعلق سے ایک علمی محاضرہ پیش کیا جاۓ، تاکہ طلبہ کے ذہن میں مقالہ کے تعلق سے جو سوالات و اشکالات ہے وہ دور ہو سکیں ۔ لہذا ایسا ہی ہوا اور بحکم شیخ الجامعہ شیخ مظہر علی مدنی حفظہ اللہ، محاضرے کا اعلان ہوا اور ہمارے مشفق و مربی استاد اور عالمی شخصیت جناب شیخ راشد حسن مبارکپوری حفظہ اللہ وتولاہ (أستاذ حدیث جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو) کو محاضرہ پیش کرنے کی ذمہ داری ملی ۔ پھر گزشتہ کل یعنی 30 ستمبر 2024 بروز سوموار کو علمی محاضرہ بعنوان ” کتابۃ البحوث و المقالات نصائح و توجیھات "کا اہتمام ہوا جس میں شیخ نے مختصر وقت میں بہت ہی جامع اور قیمتی محاضرہ پیش کیا، جس میں آپ نے بتایا کہ مقالہ نگاری کے لیے تین بنیادی چیزیں ضروری ہیں یا کہ لیں کہ تین طرح کی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

١ ۔ تخطيط بحث ، ٢۔ جمع مواد ، ٣۔ زبان پر قدرت ۔ پھر آپ نے بتایا کہ جمع المواد کے لیے بہت زیادہ مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے، کسی بھی موضوع پہ مقالہ لکھنے کے لیے اس تعلق سے جتنے بھی مضامین ملیں پڑھ ڈالئے ۔ پھر بتایا کہ زبان پر دسترس سب سے ضروری ہے، اس کے لیے بھی تین چیزیں ضروری ہیں ۔

١ الاستماع ( سننا ) ۔ ٢ القراءۃ ۔ ٣ الکتابہ ۔

جب زبان کی بات آئی تو مزید آپ نے زبان کے تعلق سے فرمایا کہ اگر آپ کو عربی زبان میں ماہر ہونا ہے تو قدیم و جدید ادیبوں کو پڑھنا نہایت ہی ضروری ہے قدیم ادباء میں سب سے نمایاں اور بڑا نام جاحظ کا ہے، جسے ہر باذوق آدمی پڑھنے کا مشورہ دے گا، اسی طرح جدید ادباء میں بھی بہت بڑے بڑے نام ہیں مثلاً مصطفی صادق الرافعی ، عباس محمود العقاد ، طہ حسین ، مصطفی لطفی منفلوطی ، سید رشید رضا ، احمد امین ، محمود محمد شاکر ، شکیب ارسلان ، علامہ تقی الدین الھلالی المراکشی ، علی الطنطاوی وغیرہ ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ ابتدائی مرحلے والوں کو علی الطنطاوی اور مصطفی لطفی منفلوطی کو خاص طور سے پڑھنا چاہئے ۔ اسی طرح اردو کے تعلق سے آپ نے بتایا کہ مولانا ابوالکلام آزاد ، مولانا سلیمان سلمان منصور پوری، شورش کاشمیری ، مولانا شبلی نعمانی ، مولانا عطاء اللہ بھوجیانی ، مولانا محمد اسماعیل سلفی گوجرانوالہ ، مولانا عبد الماجد دریابادی ، مولانا نذیر احمد املوی رحمانی ، شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ رحمانی مبارکپوری، ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری، موجودين ميں استاد محترم شيخ محمد ابوالقاسم فاروقي، ڈاکٹر اطہر افضال دہلی … ان حضرات کو پڑھ جائیں کیونکہ ان کو پڑھنے سے علم اور منہج میں نکھار بھی آۓ گا اور زبان بھی ۔ ساتھ ہی ساتھ آپ نے کچھ عربی اردو کتابوں کے اسماء بھی ذکر کیے مثلاً ۔ عربی میں ۔ رجال من التاریخ ، النظرات ، العبرات، وحی القلم ۔ اردو میں تذکرہ از مولانا آزاد، غبار خاطر، ترجمان القرآن، تحریک آزادی فکر اور شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی، اہل حدیث اور سیاست، انوار مصابیح بجواب رکعات تراویح از مولانا املوی، مولانا آزاد از شورش کاشمیری، خطبات بہاول پور، مقالات مولانا بھوجیانی، بزم ارجمنداں، نقوش عظمت رفتہ از اسحاق بھٹی وغیرہ ..

پھر آپ نے مقالے کی ترتیب کے سلسلے میں بتایا کہ مقالے کو تین حصوں میں منقسم کیا جاۓ پہلا مقدمہ ، دوسرا مختلف ابواب ہوں ، تیسرا خاتمہ ۔ پھر مقالے کی فہرست تیار کی جاۓ ۔ کتب احادیث کی متفق علیہ ترتیب کے حساب سے تخریج کی جاۓ ۔ کسی کتاب یا لغت کا حوالہ دینا ہو تو سن وفات کی ترتیب کے ساتھ کتابوں کے نام ذکر کیے جائیں ۔ اگر مذکورہ چیزوں کو ملحوظ خاطر نہ رکھے جائیں تو مقالے کی اہمیت کم ہو جاتی ہے ۔ پھر آپ نے مزید بتایا کہ حوالہ جات میں ہمیشہ امہات کتب کے حوالے دۓ جائیں ۔ پھر مزید بات آگے بڑھی تو لغت پر بات پہنچی تو سر دست آپ نے چار اہم عربی لغات کا نام بتا دیا۔ ١۔ تھذیب اللغۃ للازھری ، ٢۔ الصحاح للجوھری ، ٣۔ المحکم لابن سِیدۃ ، ٤۔ معجم مقائیس اللغۃ لابن فارس ۔ مزید دوران محاضرہ آپ نے اس بات پر بہت زور دیا کہ بغیر مطالعہ کے مقالہ نگاری ناممکن ہے ۔ اسی طرح اور بھی بہت سی علمی باتیں ہیں جن کو بیان کرنے سے راقم الحروف قاصر ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ ہمارے اساتذہ کرام کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔ آمین یارب العالمین ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے