بیدر۔ 16؍ستمبر (محمدیوسف رحیم بیدری): ہر سال کی طرح اِمسال بھی آج 16ستمبر مطابق 12؍ربیع الاول کو نبی خانہ بیدر سے میلادالنبی ﷺ کے جلوس کااہتمام پیدل چلتے ہوئے کیاگیا۔ جب کہ اس جلوس کے آگے آگے مسلم نوجوان موٹرسائیکلوں پربھی نظر آئے۔ میلادالنبی ﷺ کا پید ل جلوس نبی خانہ، گاوان چوک، ترکاری مارکیٹ، مرکز مسجد، چیتہ خانہ، سرکاری گرلزہائی اسکول ، شاہ گنج ، بیرون شاہ گنج، امبیڈکر سرکل، مہاویر سرکل، بسویشور سرکل، نئی کمان، راؤ تعلیم، تعلیم صدیق شاہ ، کلثوم گلی سے ہوتے ہوئے چوبارہ پہنچااور جامع مسجد بید رپر اختتام پذیر ہوا۔
میلاد جلوس میں بڑے بڑے جھنڈے نوجوان اٹھائے ہوئے تھے اور نعرے لگاتے ہوئے جارہے تھے۔ اس جلوس میں بچوں کی کثیرتعداد دیکھی گئی جو لاریوں میں سوار تھے اور ٹووہیلر پر بھی تھے اور کچھ بچے پیدل چل رہے تھے۔ ان کے ہاتھ میں رنگ برنگی جھنڈے تھے لیکن ان تمام جھنڈوں کا تعلق میلادالنبیﷺ سے رہا۔ بچیوں کی بھی شمولیت کم تعداد میں سہی دیکھنے کوملے۔ بچیاں اور چھوٹے چھوٹے بچے اپنے گالوں پر چاند تار ااور دوسری چیزیں چپکائے ہوئے تھے۔ دوسری طرف گاوان چوک، ترکاری مارکیٹ سے آگے تک کاراستہ بقعہ ء نور بناہواتھا۔ چترالیکھا کارنر سے شاہ گنج تک ہرے رنگ کے پھرارے اور لائٹنگ لگائی گئی تھی۔ ہرسال کی طرح اس سال بھی علی باغ ، قدوائی روڈ ، آستانہ روڈ پھراروں ، لائٹنگ اور بڑے بڑے کپڑے کے بیانروں سے سجائے گئے تھے۔ قاضی پورہ ، گولہ خانہ ، تعلیم صدیق شاہ ، پنسال تعلیم ، منیارتعلیم وغیرہ کی سج دھج دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ بہرحال آج کے جلوس میں پولیس کامعقول بندوبست تھا جب کہ ہوم گارڈ س بھی بڑی تعداد میں دیکھے گئے۔
واضح رہے کہ میلادالنبی ﷺ کے حوالے سے کسی نے بھی اردواخبارات کو اشتہا رنہیں دیاتھا۔ حالانکہ بیدرمیں مسلم سیاست دانوں کی بڑی دھاک ہے بلکہ یہاں کے مسلم ایم ایل اے وزیر بلدیہ اور حج بھی بن چکے ہیں ۔ اس کے باوجود اردو اخبارات میں کوئی اشتہار میلادالنبی ﷺ کی مبارک باد یا میلادالنبی کے پیغام کے حوالے سے شائع نہیں ہوا۔ اشتہار نہ دینے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اردو صحافت کمزور ہوجائے گی۔ اردوصحافت کی کمزوری کے نتیجہ میں مسلم قیاد ت بھی کمزور بنیادوں پرکھڑی رہے گی۔ بہت کم مقامات پر میلادالنبی کی مبارک باد کے بیانر لگائے گئے تھے جس میں غیرمسلم سیاست دانوں کی کمی محسوس کی گئی ۔ اور جو جلوس نکالا گیا اس میں وہ آن بان شان دیکھنے کونہیں ملی جس کا خاصہ ہوا کرتی ہے۔ جب کہ اس جلوس میں مسلم وزیر، ایم ایل اے، کونسلر س، زیڈپی اورٹی کے سابق اراکین بھی موجودتھے۔ کسی قسم کاکوئی ناخوشگوار واقعہ اس تحریر کے لکھے جانے تک سامنے نہیں آیا تھا۔
