رشحات قلم:………محمد رضوان گوہر ندوی
خدیجہ نسیم پبلک اسکول نانپارہ بہرائچ
آج انسانیت سسک رہی ہے ، بیمار ہے ، بلکہ اپنے وجود پر نالاں ہے شرمسار ہے ، جدھر نظر ڈالئے ہر طرف فتنہ ہے انتشار ہے ، ہمارا بزرگ طبقہ بے انتہا سستی اور بے بسی کاشکار ہے ، بے حیائی اور بے پردگی بہت عام ہے بلکہ سر بازار ہے ،دنیا گویا عیش و عشرت کا اڈہ ہے بازار ہے ،بے حسی کا دور دورہ ہے ، جمود ہے ، انکار ہے ،انسانی خون بہت ارزاں ہوگیا ، ہر ہاتھ میں تیر ہے تلوار ہے، ہماری زبانیں جھوٹ اور غیبت سے آلودہ ہیں ، ہمارا باطن ناپاک ہے ، داغ دار ہے ۔
نئی نسل تقلیدِ یورپ میں گرفتار ہے ،ستاروں پر کمندیں ڈالنے والانوجوان بے سود ہے بے کار ہے ، نہ کردار میں بلندی ہے نہ ہی پاکیزگیٔ گفتار ہے ، لذت طلبی نے اسے غافل کردیا ہے وہ مقاصد جلیلہ سے بے زار ہے ، وہ مادہ پرستی اور مغرب زدگی کا گرویدہ ہے طرف دار ہے ، حالاں کہ مغرب نہ نوع انسانیت کا دوست ہے نہ غم خوار ہے ، وہ تو نہایت فریبی ہے ، دھوکہ باز ہے ،عیار ہے ،اس نے ہمیشہ انصاف کا خون کیا ہے،جانب دار ہے ، مکار ہے ،اس کی پیش کردہ تہذیبی ڈگر پُر فتن ہے پُر خار ہے،اس کا عنصر و خمیرسراسر سیاہ کار ہے، بدکارہے، اخلا ق و عقائد پر خدا بے زاری کا وار اور یلغار ہے ،اس کی سرشت و طبیعت میں افتراق ہے ، خلفشار ہے ،ہمارے نوجوانوں نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے وہ بہت گرہ دار ہے پیچ دار ہے ، ایسے راستے پر چل کر منزل تک پہونچ پانا نہایت مشکل ہے دشوار ہے ۔
ہزار مایوسی اور گہری تاریکی کے بعد بھی امید کا دیا تابانی بکھیرنےکے لئے تیار ہے، ماحول تو بہت بگڑ چکاہے،پھر بھی بہت کچھ سازگارہے ، ہموار ہے ، اسلام کے سایہ میں آجائیے ، یہ درخت بہت گھنا ہے پھل دار ہے ،اس کے پھلوں میں تسکین بخش لذت ہے ،بے پناہ شیرینی ہے مزے دار ہے ، اس کی ہوا صحت مندی کی ضامن ہے ،شاداب ہے پُر بہار ہے ،اسلام کی مٹی زرخیز ہے ، خزاں کا گزر نہیں بہار ہی بہار ہے ، ہمارے نوجوانوں کا مستقبل ابھی تاریک نہیں ہوا،روشن ہے ضیابار ہے،ان کی امیدوں کا محل بہت بلند ہے شان دار ہے ،ان کی ہمت کا دریا طلاطم خیز ہے ، ناپیدا کنار ہے، لیکن ساحل مراد سے پہلے خوف ناک منجھدار ہے ، مادیت کے سیلاب میں بہنے سے بچنا ہوگا ، اس کے لئے پختہ ارادہ اور مضبوط حوصلہ درکارہے ۔
حالات کیسے بھی دگرگوں اور نا گفتہ بہ ہوں، علاج نبوی ہی درد کا درماں اورحقیقی غم گسار ہے،دیکھئے دور نبوت کی دنیا کتنی بگڑی ہوئی ہے ، ہر طرف چوری چماری ہے، لوٹ مار ہے ، معمولی معمولی بات پر جنگ چھڑ جاتی ہے ، ہر شخص باہم دست وگریباں اور آمادۂ پیکار ہے ،لغو اور لایعنی چیزوں میں قیمتی زندگی ضائع کر رہا ہے ، نابکار ہے نا ہنجار ہے، قتل و غارت گری اور بے حیائی کے مظاہر سے انسانیت نادم ہے ،شرم سار ہے،عورتوں کی سرعام نیلامی ہوتی ہے ،ان کا دامنِ عفت تار تار ہے ،توہم پرستی ، بت پرستی اور انا پرستی کا ہر جگہ ڈیرہ ہے ، بھر مار ہے ،اخلاق و عقائد میں پوری قوم پستی اور زوال کے بے مہار گھوڑے پر سوارہے ،شراب و کباب ، عیش و عشرت میں بدمست ہے ، اس کی قسمت میں تحقیر ہے ، ادبار ہے ،ہر ذی نفس پرتعلّی ، تکبراور تمسخر کا نشہ اور خمار ہے ،سرداری اور شہرت کا بھوت اترتا ہی نہیں، ہر شخص اپنے گھر اور خاندان کا سردار ہے،دنیا کے معاملات میں ہر شخص بیدار ہے ،ہوشیار ہے ، تیار ہے ، لیکن دین کے معاملات میں غفلت کا پتلا ہے ، نادان ہے ، لاچار ہے،جدھر نظر ڈالئے ،بدی کا دور دورہ ہے، برائیوں کا انبار ہے ، شرافت ،امانت اور سچائی سے ازلی دشمنی ہے، سرکشی اور شیطنت سے پیار ہے ،وہ قوم تاریخ انسانیت کی سب سے محروم ، منحوس ،سرتا پا ذلت اورباعث ننگ و عار ہے ۔
یکایک حالات کا رخ بدلا،وہ دیکھئے نبوت کے چہرے پر کتنا نکھار ہے، آفتاب ہدایت نکل چکا ہے ، ہر سو روشنی کا مینار ہے،ہمارےآخری نبی پر سب نبیوں سے زیادہ بوجھ اور بار ہے،لیکن وہ سب سے زیادہ ممتاز ہے ، باکمال ہے،باکردار ہے،سچائی ، امانت اور وفاداری کا خوگر ہے ،آئینہ دار ہے ،مثالی اخلاق اورامتیازی اطوار و عادات کا شاہ کار ہے ، وہ دانائے سبل ، ختم الرسل اوریکتائے روز گار ہے ،وہ کریم الشیم ، عدیم النظیر، صاحب جمال اور عالی وقار ہے،عالی نسب ہے ، اعلی ظرف ہے ،گوہر آب دار ہے ، در شہوا ر ہے ، اخلاص کا پیکر ہے ،سادہ طبیعت کا مالک ہے ، نیک خو ہے، خوب رو ہے، پُر انوار ہے ،خوب صورتی اور خوب سیرتی کے ساتھ شجاعت و سخاوت کا مظہر ہے ، حیا دار ہے ،وہ امام الانبیاء ہے، ختم نبوت کا تاج دار ہے، جو معاشرہ بد عہدی میں مشہور تھا ، اسی میں رہ کر اس نے ثابت کردیا کہ وہ کتنا امین ہے ،قابل اعتبار ہے ، وہ امت محمدیہ کے لئے قیمتی انعام اور عطاء پروردگار ہے، اس نے دکھایا کہ حکمت اور تدبیر سےکایا پلٹ ممکن ہے ، وہ کتنا سمجھ دار ہے ،چند سالوں میں گمراہوں کو راہ بر بنادیا ، یہ بڑا کرشمہ ہے ، انمول یادگار ہے ،جس پر بھی نظر عنایت ہوئی وہ سمجھو زندگی بھر کے لئے وفادار ہے ، جاں نثار ہے،اس کا ہر صحابی صحبتِ بااثر کی وجہ سے تا عمر فرمابردار ہے ، اطاعت شعار ہے، گلشن اسلام کی آبیاری میں ہمہ تن مصروف ہے ، محافظ ہے ، پاسبان ہے ، پاس دار ہے ،تاریخ کا سب سے مضبوط اور با حوصلہ انسان بلکہ انسان کامل اور راہ ہدایت کا سب سے عظیم شہ سوار ہے ، اس کا سہما ہوا بچپن ،بے سہارا جوانی اور ہجرت کے بعد کی زندگی حیرت سے بھرپور ہے ، پُر اسرار ہے ،پوری انسانیت پر اس کا احسان ناقابل فراموش ہے ، انمٹ ہے ، ناقابل انکار ہے ، اس کی پوری زندگی بے داغ ہے ، پاک و صاف ہے ، حق کی ترجمان ہے ،پائیدار ہے ، اس کا وجود پوری کائنات کے لئے باعث رحمت ہے ،سرمایہ افتخار ہے ، ظالم دنیا نے سب سے زیادہ اسی کی کردار کشی کی لیکن پھر بھی سب سے کامیاب ہستی میں اس کا شمار ہے ،ہم سب اور ہماری نسل اسی نبی کی سچی تقلید کرلے اسی کا انتظار ہے ، اسی کی تاکید و تائید میں پوری شریعت اتاری گئی ، اسی کا تذکرہ بار بار ہے ،اگر ایسا ہوا تو پوری انسانیت کا بیڑہ پار ہے ، اللہ تعالی ہماری مددفرمائے کیوں کہ وہی حقیقی مدد گار ہے ۔
وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادیٔ سینا
نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں ، وہی فرقاں ، وہی یاسین ،وہی طہ
