سہارنپور (احمد رضا):   جس کے منھ میں جو بھی آرہا ہے وہ سانپ کی مانند مسلم افراد کے خلاف زہر آلودہ پھنکار لگا رہا ہے کبھی قرآن مجید کی بے حرمتی کبھی پیارے نبی اکرم کے خلاف  بد بختی والے جملہ کبھی مسجد تو کبھی مدارس سے نفرت اب تو ٹرین اور بس تک میں مسلم افراد کو نفرت کا شکار بنایا جا رہا ہے سادھو سنت زہر اگل رہے ہیں ہندو شدت پسند افراد مسلم آبادی پر حملہ کر رہے ہیں  جھوٹی پوسٹ کے علاوہ جگہ جگہ جھوٹی اور فرضی شکایت پر مسلم آبادی کے خلاف سرکاری مشینری ایکشن لینا بہت بہادری سمجھ رہی ہےسرکار بھی بھگوا جھنڈے کی طرف جھکتی نظر آرہی ہے مسلم آبادی، مدارس اسلامیہ اور مساجد کے خلاف اٹھنے والے زہريلے طوفان پر مرکزی حکومت کچھ نہیں بولنے والی کیونکہ بی جے پی کی تمام ریاستی سرکا ریں آج مرکزی سرکار کی سرپرستی میں ہی چل رہی ہیں اس بھی سبھی دل ہیدل میںخوش وخرم ہیں، جہاں تک آج بات اپوزيشن جماعتوں کی ہے توان جماعتوں کو صرف اور صرف مسلم ووٹوں سے ہی غرض ہے مسلمانوں کے مسائل اور دکھ دردوں سے ان کو کچھ بھی لینا دینا نہیں صرف خد غرضی اور مفاد پرستی کے علاوہ ان کے جھولے میں مسلم آبادی کے لئے کچھہ بھی اچھا نہیں!
مسلم آبادی کو نیست و نابود کرنے کا مدھیہ پردیش میں یہ غیر جمہوری اور غیر آئینی عمل گزشتہ حکومت سے چلا آ رہا ہے یہاں ہزاروں مسلمانوں کو اجاڑا گیا ہے اور پیسہ سے محتاج کر دیا گیا ہے بھاجپا سرکاروں کا اور کوئی مقصد نہیں صرف ایک ہی مقصد کہ مسلم افراد کو کس طرح سے اجاڑا جاۓ اس سے بھی خطرناک کھیل نفرت پھیلانے کا آج سرکاری مشینری کی مدد سے یتی نر سمہا آنند ، ممبر اسمبلی راہنے  اور نونيت رانا کے ساتھ ساتھ کاجل ہندوستانی کے ذریعہ اعلانیہ کھیلا جا رہا ہے آپکو بتاتے چلیں کہ آج اتراکھنڈ ، گجرات ،مدھیہ پردیش اور ہماچل پردیش میں مسلمانوں کے تجارتی ادارتوں کے خلاف مسجدوں مدرسوں کے خلاف ، آزان کی آوازوں کے خلاف اور ٹوپی کرتا کے خلاف ایک خطرناک مہم زور و شعور سے جاری ہے اتراکھنڈ میں بھگوا دہشت پسند افراد مسجد اور مدارس کے کاغذاتِ مانگ کر منتظمین کو وارننگ دے رہے ہیں کہ یہاں سے سامان اٹھاؤ اور بھاگو یہ ہماری زمین ہے سرکاری مشینری اور سیاست داں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اگر حکومت نے سخت اقدامات ان شدت پسند افراد کے خلاف نہی اٹھائے تو ماحول کے بگڑنے کے لئے سرکاری مشینری خد ہی زمہ دار ہوگی!

سال 2014 کے  بعد سے اتر پردیش ، مدھیہ پردیش ، گجرات ، ہریانہ اور راجستھان کے 40 فیصد مسلم افراد بلڈوزر کی زد میں آکر پستی کا شکار ہو کر روزی روٹی اور رہنے کے مکانات کو ترسنے لگے ہیں۔ بلڈوزر بابا کے نام سے معروف یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدینہ ناتھ کے بلڈوزر کلچر نے جہاں یوپی میں آتنک مچا رکھا ہے وہیں مدھیہ پردیش اتراکھنڈ اور راجستھان میں بھی بلڈوزر چلاکر بیقصور اور بے گناہ مسلمانوں کے گھروں، بنگلوں، کمپلیکس اسکول کالجوں، مدارس اسلامیہ، مزارات اور مساجد کے ساتھ ساتھ دس دس کروڑ کی کوٹھیوں اور پچاس پچاس لاکھ کی قیمتی کاروں کو بھی مٹی میں ملا دیا گیا ہے آخر کیوں؟ اس پر جواب یہ ملتا ہے کہ کہ ہم نے دہشت گردوں کے مکانات پر بلڈوزر چلوا دئے ہیں مسلم افراد کو مٹی میں ملا دیا ہے بندو شدت پسند افراد کا یہ اتنا زہریلا بیان ہے کہ اس طرح کے زہر پھیلانے اور نفرت پھیلانے والے عمل سے آج نہی توکل پورے ملک میں فرقہ پرستی اور دو طبقوں کے درمیاں بڑی خلیج پیدا ہو جائے گی اللہ تعالیٰ کرم فرمائے اگر ایسا ہوتا ہے تو ملک کمزور ہو جائے گا اور خانہ جنگی شروع ہو جائیگی مفاد پرست اور موقع پرست جماعت کے رہنما اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں گے اور لڑیگا صرف اور صرف ہندو مسلم آخر انکو عقل سلیم کب آئیگی یہ مسلم دشمنی میں ملک کا امن چین کیوں تباہ اور برباد کرنے پر بضد ہیں!
واضع رہے کہ کسی شاعر نے خوب ہی کہا ہے کہ * لگے گی آگ تو آئیں گے سبھی کے گھر زد میں * جب کسی ریاست کا سربراہ اتنا بڑا متعصب ہوتے ہوئے مسلمانوں کا دشمن ہو جائے تو اس ریاست کا امن و امان کیسے باقی رہے گا ؟ مگر یاد رکھیں کہ ایسی ریاست میں نقص امن کا خطرہ ہمیشہ رہے گا یوگی نے اپنے زہریلے بیانات و اعلات سے یہ ظاہر کردیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے زبرست مخالف ہیں یوگی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ نےبھی مسلمانوں کے کئی بنگلوں اور گھروں کو مسمار کروا دیا ہے اور مہنگی گاڑیوں کو بھی توڑ پھوڑ کروایا ہے ایسا گھنونہ ایکشن ملک کی مختلف ریاستوں میں بار بار لیا جانا دستور سا بن گیا ہے آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ملکدستور سا بن گیا ہے آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ملک میں دس سالوں سے بھاجپا قیادت والی ریاستوں میں مسلم آبادی پر زندگی دشوار سے دشوار کردی گئی مسلم آبادی پر مسلسل ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ہزاروں مکانات ، دکانات اور قیمتی سے قیمتی بلڈ گیں زمین میں ملا دی گئی مگر عدالتیں بھی خاموش اور اپوزیشن جماعتوں کی بھی زبانیں بند ہیں دین اسلام کی ہر بات میں شاید ان ہندو شدت پسند افراد کو اپنی ہلاکت نظر آرہی ہے تبھی تو یہ اذان، نماز قرآن مجید، مساجد اور مدارس برادشت ہی نہیں کر پا رہے ہیں جگہ جگہ مسلم آبادی کے خلاف نفرت حسد اور پرانی دشمنی جیسا نظارہ دکھائی دے رہا ہے پتہ نہیں ہم سے کون سا بدلہ لیا جا رہا ہے سامنے آکر لڑنے کی ہمت اور حوصلہ نہی صرف اور صرف پولیس کی موجودگی میں پولیس کی طاقت پر پچھلے دس سالوں سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف حد سے زیادہ ظلم اور فرعونیت کے ساتھ حملہ کئے جاتے ہیں، پورا ملک مسلم افراد کی بربادی اور لاشوں پر آنکھیں بند کئے رہتا ہے؟
مگر ہم مسلمان بھی قرآن مجید اور پیارے نبی کے بتائے ہوئے راستہ پر چلتے ہوئے صبر کر رہے ہیں جب حکم رب کائنات آئے گا تبدیلیاں خود به خود رونما ہونے لگے گی، باطل انشاء اللہ مٹ کررہے گا آج ملک کی کتنی ہی ریاستوں کے وزیر اعلیٰ نے زہر پھیلایا ہے جس سے ریاستوں میں نفرت، تعصب دشمنی تنگ نظری کے ساتھ ساتھ ہندو مسلم میں زبرست خلیج پیدا ہوگئی ہے، یہ دوریاں یہ تعصب، دشمنی ملک کو جلاکر راکھ کردیں گی! کہ مدھیہ پردیش کے چھتر پور میں مسلمانوں کی عالیشان کوٹھی، مکانوں اور مہنگی کاروں کو بلڈوزر کی بھینٹ چڑھا دیا گیا! یہ ساری کارروائی وہاں کے وزیر اعلیٰ موہن یادو کی ہدایت پر کی گئی ۔ الزام یہ لگایا گیا کہ مسلمانوں نے چھتر پور تھانہ گھیرا تھا، اس پر پتھراؤ کیا تھا، جس میں کئی پولیس والے زخمی ہوئے لیکن چھتر پور کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے توہین رسالتﷺ کے ایک ملزم رام گیری مہاراج کے خلاف پولیس کو میمورینڈم دینے کی کوشش کی تھی، جس کے نتیجے میں یہ ظالمانہ کارروائی کی گئی ۔ الزام ہے کہ مسلمان تین چار سو کی تعداد میں تھانہ پہنچے تھے اب پولیس ویڈیو دیکھ دیکھ کر سب کی شناخت کر رہی ہے تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے ۔ سو ڈیڑھ سو افراد پرمقدمہ تو پہلے ہی بنا دیا گیا ہے ۔
کیا مدھیہ پردیش کی موہن یادو حکومت کی مذکوره کارروائی قانوناً جائز ہے؟ کیا گرفتاریاں کرکے انہیں عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا جانا چاہیے تھا؟ کیا سارے معاملات کو عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا جانا چاہئے تھا؟ کیا سارے معاملے کی تفتیش لازمی نہیں تھی؟ کیا یہ عمل چھتر پور کے مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی نہیں ہے؟ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ مسلمانوں نے پتھراؤ کیا تھا حالانکہ چھتر پور کی ایک مسلم جماعت انجمن اسلامیہ اور مقامی مسلمانوں نے پتھراؤ کی سختی کے ساتھ تردید بھی کر دی تھی سبھی جانتے ہیں کہ ہندو شدت پسند افراد نے یہ پتھراؤ کا عمل مسلمانوں کو پھنسانے کے لئے منصوبہ بند  طور سے کیا تھا تب بھی کیا یہ کوئی ایسا جرم نہی تھا کہ مسلمانوں کے مکانوں اور ان کی قیمتی گاڑیوں پر بلڈوزر چڑھا دیا جائے؟
یقیناً اس سوال کا جواب یہی ہوگا کہ یہ عمل جائز نہیں ہے ، قانون میں پتھراؤ کرنے والوں کے خلاف ایسی کارروائی کی کوئی شق نہیں ہے  لیکن کوئی کیا کرسکتا ہے، اب معمولی باتوں پر مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چڑھا دینا بی جے پی کی ریاستی حکومتوں کا پسندیدہ کھیل بن گیا ہے  اور بھگوا سرکاریں آنکھ موند کر کسی بھی مسلمان کے مکان اور دکان پر بلڈوزر چڑھا دیتی ہیں کیونکہ ان سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں ہے عدالتیں بشمول کچھ علاقائی عدالتیں ایسے ہر ناجائز اورغیر آئینی عمل سے آنکھیں موندے ہوئے  رہتی ہیں کیونکہ آج ججوں پر بھی سیاست داں طرح طرح سے دباؤ بناتے رہتے ہیں اپنی عزت اور وقار سبھی کو پیارا لگتا ہے اس لئے ہی جج اور اعلی درجہ کے افسران دشمنی لینے سے خوف کھاتے ہیں اور اسی ڈھیل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندو شدت پسند افراد نے ملک میں مسلم افراد کا جینا بہت مشکل کر دیا ہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے