سہارنپور( احمد رضا):  ملک میں بسنے اور ملک کو بنانے اور ظا لم گوروں سے وطن عزیز کو آزادی دلا نے والے 30 کروڑ سے زائد مسلمانوں کو اپنے ہی ملک میں ذلیل و خوار کرکے کوئی بھی سکون سے رہ نہی سکتا یہ ملک جانی اور مالی قربانیاں ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے صرف کرنے والے افراد کا ملک ہے اس ملک پر ہندو شدت پسند افراد کا قبضہ ہر گز نہیں ہو نے دیں گے غلط فہمی کا شکار نہ بنیں مسلمانوں کا یہ اپنا ملک ہے یہاں مل جل کر ساتھ ساتھ رہنا ہے تو خیر مقدم ہے اگر ظلم و جبر پر قائم رہے تو آپ خد سمجھ لیں کہ ملک کا 85 فیصد عوام آپ کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کرسکتا! اگر آپ غور کریں تو یوں تو دس بیس سال میں کوئی پاگل قرآن کریم یا پیارے نبی اکرم کی شان میں گستاخی کر دیتا تو ہنگامہ کھڑا ہو جاتا لیکن یہاں تو پاگل ہندو شدت پسند افراد مسلسل دس سالوں سے دین اسلام کے بانی اور ہم سب کے لئے سب سے زیادہ عزیر اور ہماری زندگیوں کے اصل سربراہ نبی کریم کی شان میں گستاخیاں کر کر کے ہمارے صبر کا امتحان لینے پر بضد ہیں اعلانیہ مسلم افراد کو ہلاک کیا جا رہا ہے مدارس اور مساجد کو بلڈوزر سے گرایا جا رہا ہے ہمارے بزرگوں کی وقف املاک کو بیچا جا نے لگا ہے ان پر قبضہ کئے جانے لگے ہیں یاد رکھیں کل جو حق اور انصاف کے لئے جو جلسہ ممبئی میں ہوا ایسے لاکھوں جلسہ ہر دن پورے ملک میں ظلم و جابر گستاخ رسول اکرم کے خلاف ہوں گے، ہم صرف امن و سلامتی کے چاہنے والے ہیں مگر حد سے بڑھ کر ہماری زندگیوں سے کھلواڑ ہم کسی بھی صورت برداشت نہیں کر سکتے!

واضع ہو کہ پہلے بھی درجن بھر بھا جا شدت پسند سنت  مہاراج کہلانے والے رام گری جیسا گھٹیا آدمی بار بار نبی کریم کی عظمت پر حملہ کرے اور  بار بار جاہل نتیش رانے  کہتا ہے کہ مسجدوں میں گھس کر مسلم افراد کو ہلاک کر دیا جائیگا مسلم افراد کو اب مساجد چھوڑ کر بھاگ جانا چاہئے آپ غور کریں کہ آج کل ملک بھر میں یعنی کہ اس عظیم الشان جمہوری نظام والے ملک کے پیشتر حصوں میں نبی کریم کی عظمت کے خلاف ، مساجد  کے خلاف مدارس کے خلاف اور مسلم آبادی کے خلاف اس طرح کے نا قابل قبول الفاظ لگاتار بولے جاتے ہیں سرکار اور افسران تما شائی بنے رہتے ہیں ملی رہبر محمد آفاق کا کہنا ہے کہ اس طرح کے نفرتی الفاظوں اور نعروں کے خلاف آواز بلند کی جانی بیحد ضروری ہے ہم اس دہشت گرد گروہ کے خلاف کارروائی کی جائے یہی ہمارا مطالبہ ہے!

سینئر سوشل رہبر اور سماجی کارکنان تنظیم کے سربراہ محمد آفاق نے کہا کہ ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں جس طرح مساجد اور مدارس کے ساتھ ساتھ مسلم آبادی کو گھر چھوڑنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں شدت پسند افراد کی تعداد اور طاقت خوب بڑھ گئی ہے اس لئے یہ شدت پسند سپریم کورٹ اور ملک کے دستور کو درکنار کرتے ہوئے اپنی نفرتی مہم کو کامیاب بنانے میں مصروف ہیں ہم اس شرمناک مہم کی مذمت کرتے ہیں اور آج کل جگہ جگہ مسلم افراد پر جا نليوا حملوں نے دستور ہند کی عظمت کو شرمسار کر دیا ہے انکو قانون کا احترام نہی دستور ہند سے محبت نہی انکا  مقصد یہ ہے کہ ملک سے مسلم آبادی کو بھگایا جائے اور انکے املاک کو لوٹ لیا جائے صرف اسی مقصد کے لئے پورے ملک میں مسلم آبادی کے خلاف جنگی پیمانہ پر تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے ہندو شدت پسند افراد کا یہ عمل بھی قابل مذمت ہے! سینئر سوشل رہبر اور سماجی کارکنان تنظیم کے سربراہ محمد آفاق نےصاف صاف کہا کہ موصولہ رپورٹوں کے مطابق گزشتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔    "دس سالوں سے بھاجپا قیادت والی ریاستوں میں مسلم آبادی کا جینا دشوار سے دشوار کردیا گیا ہے مسلم آبادی پر مسلسل ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ہزاروں مکانات ، دکانات اور قیمتی سے قیمتی بلڈ گیں زمین میں ملا دی گئی مگر عدالتیں بھی خاموش اور اپوزیشن جماعتوں کی بھی زبانیں بند ہیں دین اسلام کی ہر بات میں شاید ان ہندو شدت پسند افراد کو اپنی ہلاکت نظر آرہی ہے تبھی تو یہ اذان، نماز، قرآن مجید ،مساجد اور مدارس برادشت ہی نہیں کر پا رہے ہیں جگہ جگہ مسلم آبادی کے خلاف نفرت حسد اور پرانی دشمنی جیسا نظارہ دکھائی دے رہا ہے پتہ نہیں ہم سے کون سا بدلہ لیا جا رہا ہے سامنے آکر لڑنے کی ہمت اور حوصلہ نہی صرفِ اور صرفِ پولیس کی موجودگی میں پولیس کی طاقت پر پچھلے دس سالوں سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف حد سے زیادہ ظلم اور فرعونیت کے ساتھ حمله ہو رہے ہیں! سوشل رہبر اور سنجیدہ مزاج رہنما محمد آفاق نے کہا کہ ہم سبھی آپس میں مل جل کر ساتھ ساتھ رہتے آئے ہیں  مگردس سالوں سے ہندو مسلم افراد کے درمیاں ایک خاص پلاننگ کے تحت نفرت اور جھوٹ پھیلایا گیا جس سے کچھہ ریاستوں میں نفرت کا زہر خوب پنپ گیا ہے مگر ہم مسلمان اہل ایمان اور اہل قرآن ہیں اس لِئے ہم مسلمان بھی قرآن مجید اور پیارے نبی کے بتائے ہوئے راستہ پر چلتے ہوئے صبر کر رہے ہیں جب حکم ربِ کائنات آئیگا تدیلیاں خد بہ خد رونما ہونے لگے گی باطل انشاء اللہ مٹ کر رہیگا” !

سوشل رہنما محمد آفاق نے بیباک لہجہ میں کہا کہ اب حالات ایسے بنادیئے گئے  کہ کوئی بھی ہندو اگر پولیس میں یہ شکایت کرد ے کہ مسلمان یہ کہ رہے ہیں یا گالیاں دے رہے ہیں یا ہم پر پتھر  پھینک رہے ہیں تو اب انکے قائدین کا سیدھا پولیس کو یہ حکم ہے کہ مسلم افراد کے خلاف فوری طور سے سخت ترین کارروائی کرتے ہوئے انکے گھروں میں کہرام۔ مچا دو انکے گھروں کو گراد و  اور دفعات لگا کر سبھی کو جیل میں ڈال دیں اتر پردیش میں یوگی سرکار نے 2017 سے اقتدار سنبھالا اور تبھی سے مسلم دشمنی کی شکایات موصول ہونے لگی مگر جبر ہونے پر کوئی بھی آواز اٹھا نی کی ہمت نہیں کر سکا نتیجہ کے طور پر بھاجا کی دیگر ریاستیں بھی بلڈوزر چلاکر مسلم آبادی کو نیست و نابود کرنے لگی آج کہیں بھی معمولی باتوں پر مسلمانوں کے گھروں پر  بلڈوزر چڑھا دینا بی جے پی کی ریاستی حکومتوں کا پسندیدہ کھیل بن گیا ہے  اتراکھنڈ ، اور مہاراشٹرا کے ساتھ ساتھ راجستھان میں سپریم کورٹ کی مناہی کے بعد بھی بلڈوزر چلاکر مساجد کو توڑا جا رہا ہے صاف ہو گیا ہے کہ اب بھگوا سرکاریں آنکھ موند کر کسی بھی مسلمان کے مکان اور دکان پر بلڈوزر چڑھا دیتی ہیں کیونکہ ان سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں ہے  قابل احترام سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی مقامی عدالتیں ایسے ہر ناجائز اور غیر آئینی عمل سے آنکھیں موندے ہوئے ہیں پتہ نہیں عدلیہ چپ کیوں ہے مرکزی حکومت کچھ نہیں بولنے والی کیونکہ بی جے پی کی تمام ریاستی حکومتیں اسی کی زیر نگرانی چلتی ہیں بات رہی رہی اپوزیشن کی تو اسے صرف مسلم ووٹوں سے غرض ہے ، مسلمانوں کے مسائل سے نہیں ہماچل پردیش کے بیشتر علاقوں میں لگاتار پندرہ دنوں سے جاری مسلم بھگاؤ اور مساجد گراؤ مہم شدت پر ہے مساجد میں نماز پڑھنا بہت مشکل کر دیا گیا ہے مسلم افراد سے سامان خریدنے پر پابندیاں لگا دی گئی ہیں مسلم طبقہ کے خلاف نفرت عروج پر پہنچ گئی ہے ، مدھیہ پردیش میں یہ غیر جمہوری اور غیر آئینی عمل گزشتہ دس برسوں سے چلا آ رہا ہے یہاں سیکڑوں مسلمانوں کو اجاڑا گیا ہے،  بھاجپا کا اصل مقصد ہی صرفِ اور صرفِ مسلم آبادی کو اجاڑنا ہی ہے یوگی نے اپنے زہریلے بیانات و اعلا نا ت سے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے زبرست مخالف ہیں یوگی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مدھیہ پر دیش کے وزیر اعلیٰ نے بھی مسلمانوں کے سیکڑوں بنگلوں اور گھروں کو مسمار کروا دیا ہے اور مہنگی گاڑیوں کو بھی توڑ پھوڑ کروایا ہے ایسا گھنونہ ایکشن ملک کی مختلف ریاستوں میں بار بار لیا جا نا دستور سا بن گیا ہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے