راج بھاشا، دریا پریم کا، داستان گوئی اور شامِ غزل میں شاندارو فنکارانہ پیشکش دیکھنے کو ملی

بیدر۔ 21؍ستمبر(محمدیوسف رحیم بیدری): بھوپال میں ساہتیہ اُتسو ،جشنِ ادب، ثقافتی کارواں وراثت کا پہلا دن خوبصورت غزلوں اور شاندار پیشکش سے جگمگا اٹھا۔ یہ دو روزہ ثقافتی تقریب 22 ستمبر 2024 اتوارکو اختتام پذیر ہوگی۔ وزارت ثقافت (حکومت ہند)، وزارت سیاحت (حکومت ہند) اور محکمہ انکم ٹیکس، بھوپال کے اشتراک سے پرانے رویندر بھون آڈیٹوریم میں ساہتیہ اُتسو کی عظیم الشان تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ پہلے دن، ہندوستان بھر سے نامور فنکاروں نے اپنی موجودگی کا نشان ِ امتیاز بتلانے میں کامیابی دکھائی اورمختلف فنکارانہ پیشکش سے سامعین کو محظوظ فرمایا۔ اس تقریب میں سامعین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جنہوں نے مکمل طور پر مفت داخلہ کا فائدہ اٹھایا اور ہندوستانی فن، ثقافت اور ادب کے اس جشن کا بھرپور لطف اٹھایا۔

پہلے دن کے پروگرام کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ساہتیہ اُتسو کے بانی کنور رنجیت چوہان نے کہا، 21؍ستمبر کو دوپہر 2 بجے افتتاحی تقریب کے ساتھ شروع ہوا، جہاں پروگرام راج بھاشا، دریا پریم کا نے سبھی کو نہال کردیا۔ سید ساحل آغا کی ‘داستان گوئی’ نے سب کا دل جیت لیا ۔ ان کا فن واقعی منفرد ہے، اس کے بعد ڈاکٹر اوم نِسچل، اندو سریواستو اوررچت ڈکشٹ ، انم اکشر اور مشہور کتھک ڈانسر ودھا لال نے اپنی شاندار پیش کش سے سماں باندھ دیا۔ شام کو پدم شری استاد احمد حسین اور پدم شری استاد محمد حسین نے اپنی غزلوں سے ماحول میں چار چاند لگادئے۔ جس نے ہر کسی کو مبہوت کرکے رکھ دیا۔ اب 22؍ ستمبر کے دوسرے دن کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔

دوسرے دن کا آغاز ایک بجے دن ایک دلچسپ بیت بازی پروگرام سے ہوگا۔ اس کے بعد ڈاکٹر اوم نسچل ’’ہندی سرکاری زبان کے 75 سال‘‘ پر اپنے خیالات پیش کریں گے۔ اس کے بعد پروفیسر دانش اقبال کا تحریر کردہ اور انیل شرما کی ہدایت کاری میں بننے والا ڈرامہ ’’کٹ گھرے میں غالب‘‘ پیش کیا جائے گا۔ اس کے بعد معروف اداکارہ میگھنا ملک، سنیتا راجوار، اداکار جمیل خان اور کنور رنجیت کے ذریعہ ’’ OTT اور سنیما کا لسانی اور سماجی سروکار‘‘پر خصوصی پینل ڈسکشن ہوگا۔ دن کا اختتام ‘شبد رنگ: مشاعرہ اورکوی سمیلن’ کے ساتھ ہوگا، جس میں پروفیسر وسیم بریلوی، عقیل نعمانی، رمیش شرما، کنور رنجیت چوہان، کرنل گوتم راجرشی، نینا سوئن کپل آئی آر ایس، جاوید مشیری، شاکر دہلوی اور انس فیضی جیسے مشہور شاعر شرکت کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ ساہتیہ اُتسو جشنِ ادب ثقافتی کارواں وراثت ہندوستانی فن، ثقافت اور ادب کا ایک متحرک جشن ہے۔ یہ پروگرام ہندوستانی فن اور ثقافت کے تحفظ اور فروغ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ جس کو ادبی میلہ کہہ سکتے ہیں،یہ ایک ایسا پلیٹ فارم بن گیا ہے جہاں ہندوستانی ثقافت کے تنوع اور اس کے مثبت اثرات کا احترام کیا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے