(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر: اگر بیٹے پڑھے لکھے ہوں تو صرف ایک گھر گھر تعلیم یافتہ ہوتا ہے اور بیٹیاں تعلیم یافتہ ہوں تو پورا خاندان اور قبیلہ تعلیم یافتہ ہوتا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم پر زور دیتے ہوئے مہاراج گنج کے لکشمی پور سے آئے مہمان خصوصی مولانا حافظ اور قاری شبیر احمد نے اتوار کی صبح 11 بجے ہیڈ کوارٹر سے تقریباً 5 کلومیٹر مشرق میں واقع جامعہ کنیزان فاطمۃ الزہرہ نسواں گرلس کالج مہریہ میں عید میلادالنبی کے تقریب کے دوران کہی۔
انہوں نے سیرت مصطفی اور اقوال مصطفیٰ کے حوالے سے بہت سی احادیث بیان کیے جن میں انہوں نے بنیادی طور پر دین کی تعلیم پر زور دیا اور کہا کہ دین کی تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان، عاقل، بالغ مرد اور عورت پر فرض ہے۔ دین کی تعلیم حاصل کیے بغیر حرام اور حلال کے درمیان تمیز پیدا نہیں ہوسکتی۔ مردوں اور عورتوں کے حقوق، بچوں اور بزرگوں کی پرورش، یتیم، بے سہارا، لا چار،مجبور، ہے بس، ہے کس اور بیواؤں کے ساتھ کیسا سلوک ہونا چاہیے، ملک و ملت سے بے پناہ محبت و الفت ہونی چاہیے، یہ سب دین اسلام میں بہت اچھے طریقے سے سمجھا دیے گئے ہیں۔ ایسے میں ہر شخص دینی تعلیم کے بغیر کسی کام کا نہیں ہے۔ جس میں لڑکیوں کی تعلیم بہت ضروری ہے۔
انہوں نے آج بیٹیوں کے عالمی دن کی بھی سب کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں بچیوں کو دینی تعلیم دینا بہت ضروری ہے۔ بیٹیاں تعلیم یافتہ ہوں گی تو پورا معاشرہ تعلیم یافتہ ہو گا۔ ایک پڑھا لکھا مرد صرف ایک قبیلہ کو روشن کرتا ہے جبکہ ایک پڑھی لکھی عورت کئی خاندان اور معاشرے کو روشن کرتی ہے۔ اس لیے بیٹیوں کو تعلیم دینا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے ساتھ مولانا مہدی حسن سالم فیضی نے مہریہ میں جامعہ کنیزان فاطمۃ الزہرہ نسواں کالج کا قیام عمل میں لایا گیا جو آج بہت تیز رفتاری سے ترقی کی جانب گامزن نظر آرہا ہے۔ یقیناً تمام حاضرین اور ملت کے ہمدردانہ قوم و ملت کے ہونہار سپاہیوں نے اس کے ہاتھ اور قدم مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیے ہیں۔
مولانا ارشاد احمد نے کلام پاک کی تلاوت سے پروگرام کا آغاز کیا۔ اس کے بعد نعت شریف کا مرحلہ شروع ہوا۔ آخر میں درود و سلام کا ورد اور ملک و ملت کے حق میں دعا کر کے پروگرام کا اختتام ہوا۔
اس پروگرام میں آس پاس اور علاقے کے بہت سے لوگوں نے اپنی موجودگی درج کروائی۔ جس میں بنیادی طور پر الحاج ڈاکٹر جاوید کمال، عابد علی، محمد زید خان خیر پبلک اسکول، عبدالمبین، محمد ریاض، محمد شعیب احمد، وصی اللہ، جاوید خان، محمد خلیل احمد، شمشاد عرف ببلو بھائی، محمد عمران بسم اللہ جیولرس، راشد بھائی، انعام اللہ بھٹہ مالک دمدموا، سلطان بھائی، مقیم بھائی، شاہد بھائی، عبداللہ بھائی، الحاج بدرے عالم دیولہواں، افروز احمد شیخ، محمد اشتیاق احمد بنیکا سمیت درجنوں افراد کی موجودگی رہی۔ آخر میں مولانا مہدی حسن نے تقریب میں شرکت کرنے والے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور ان لوگوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی ہر طرح سے مدد کی اور بتایا کہ جامعہ میں معلمہ، فضیلہ، قاریہ نزہت فاطمہ، مسکان فاطمہ، معدیہ فاطمہ، مشکت الفیضی اور فلک تحسین استاد اور ملازم کے طور پر تعینات ہیں۔ جامعہ میں تقریباً 100 لڑکیاں پڑھتی ہیں، جن کے خورد و نوش ،رہائش، ناشتے وغیرہ کا انتظام جامعہ کی جانب سے ایک معمولی سی امدادیہ فیس کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ پروگرام کی کامیابی میں مولانا ثناء المصطفیٰ فیضی، مولانا الطاف الرحمن اور مولانا ارشاد کی شرکت قابل ستائش رہی۔
