مہمان خواتین کا خطاب اور طالبات میں انعامات اور توصیفی سند کی تقسیم 
بیدر۔ 30؍ستمبر (پریس نوٹ): بیدر میں جماعت اسلامی ہند شعبہ ء خواتین کی ایک ماہی مہم ’’اخلاقی محاسن ، آزادی کے ضامن ‘‘ ٓکااختتامی پروگرام 30؍ستمبر کو شہر کے ڈیسنٹ فنکشن ہال بیدر میں منعقد ہوا۔ تقریب کی کنوینر بشریٰ ایمن ممبر GIO رہیں۔ تذکیر باالقرآن ،’’سورہ القلم‘‘ شائستہ ناز کارکن جماعت نے پیش کیا اور کہاکہ سورہ القلم کو سورہ ن بھی کہاجاتاہے۔ مکہ معظمہ کے ابتدائی حالات میں یہ سورت نازل ہوئی جب کہ مشرکین کے ذریعہ حضور اکرم  ﷺ کی مخالفت زوروں پر تھی۔ آپ  ﷺ نے جب کفار ِمکہ کے سامنے قرآن پیش کیاتو انھوں نے آپ  ﷺ کو دیوانہ کہا۔مگر قرآن ایک فصیح وبلیغ جامع کلام ہے۔اس امر کی دلیل ہے کہ یہ قرآن اس دعویٰ کی تردید کرتاہے۔ خلق خدا کے لئے تکالیف کو آپ  ﷺ نے برداشت کیا ۔ یہ کام عظیم کام ہے۔ اس کام کو کمزور اخلاق والا نہیں کرسکتا۔ جب کہ آپ  ﷺ پرتہمتیں بھی لگائی جارہی تھیں ۔
پروگرام کے افتتاحی کلمات محترمہ توحیدہ سندھے ضلعی ناظمہ شعبہ ء خواتین JIHبیدر نے پیش کیںاور کہاکہ اخلاق کے معاملے میں معیاردن بدن گرتاجارہاہے۔ سچائی ،بڑوں کاادب،اور اچھے اخلاق میںمسلسل کمی آرہی ہے۔ اسی لئے جماعت اسلامی ہند شعبہ ء خواتین نے ایک ماہی مہم چلائی ہے۔ اس میں ملاقاتیں ، کالجس کا دورہ ، ٹی پارٹی ، فیملی گیٹ دوگیدراور دیگر پروگرام رکھے گئے۔ مہمان مقرر محترمہ ناظمہ حسین صاحبہ ناظمہ ملے پلی وومنس ونگ JIHحیدرآباد نے ’’صالح معاشرہ کی تعمیر میں عفت وحیاکا نمایاں کردار ‘‘ عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’انسان کوملی آزادی ایک نعمت ہے ۔ مسئلہ جب شروع ہوتاہے جب اپنی آزادی کانام لے کر دوسروں پر حملہ، طنز، تعریض، اور یہاں تک کہ اس کے مذہب اور اس کی پہناوے کو قانون کے ذریعہ کالعدم قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آج کل لڑکے لڑکیاں کہہ رہی ہیں کہ آزادی میراحق ہے۔ جب کہ اس آزادی کااثر دوسروں پر بھی پڑتاہے۔ اگر ایک لڑکا ڈرگس لیتا ہے، اس کو دیکھ کردوسرے لڑکے بھی ڈرگس لینا شروع کردیتے ہیں۔ یہ دراصل اپنی آزادی کے نام پر دوسروں کو نقصان پہنچانا ہوا۔ایسی آزادی سے بچنا لازمی ہے۔ اسلام نے جوآزادی دی ہے اس میں دوسرے ادیان ، طبقات اور خصوصاً کمزوروں کاکافی خیال رکھاگیاہے۔ نبی کریم  ﷺ نے عرب کے غلاموں کوغلامی سے نجات دلانے کی اخلاقیات اسلام کوماننے والوں میں پیش کی۔ حضور ﷺ نے بیٹیوں کوباعث رحمت کہا۔ جو بچیاں زندہ گاڑھ دی جاتی تھیں وہ قابل احترام قرار دی گئیں۔ آج دنیا اگر اسلام کو پڑھ لے ، جان لے تو عین ممکن ہے کہ اسلام کے خلاف چلائے جانے والے ہر منفی کام سے باز آجائے۔
محترمہ وملہ چالک ریٹائرڈ لیکچرر میتھوڈسٹ ڈگری کالج بیدر نے کہاکہ ’’یہ منچ سجانے والوں کومبارک باد دیتی ہوں ۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ ایسی محفل دیکھی ہے۔ پہلے خواتین کوگھروں میں بند کرکے رکھاجاتاتھا۔ ستی کی رسم، بچپن کی شادی اور پڑھنے کاحق نہیں دیاجاتاتھا۔ آج اس کوآزادی ہے ۔ وہ انجینئر بن سکتی ہے۔وہ چاہے تو پائلٹ بن سکتی ہے۔ آج ناری کاسمان بڑھ گیاہے۔ ناری دنیا بناتی ہے۔ ماتا ہے ، دیوی ہے ۔ دوسروں کوسکھ دینے والی ہے۔ پہلی ٹیچر ہے۔ انیک رشتے والی ہے۔ جگ کی آنکھ ہے۔ جس ملک میں عورت کو عزت دی جاتی ہے وہ ملک کامیاب ہوتاہے۔انھوں نے اپنی ایک کویتا بھی پیش کی۔ جو عورت پر لکھی ہوئی تھی۔ جی آئی او کی لڑکیوں نے ترانہ’’رخ بدل دو‘‘ پیش کیا۔’’اخلاقی محاسن آزادی کے ضامن ‘‘ عنوان پر تقریری ، تحریری اور کوئیز مقابلوں میں حصہ لینے والی لڑکیوں اور خواتین کو انعامات سے نوازاگیا۔کتابیں بطور ِ انعام دی گئیں اور توصیفی سند سے نوازاگیا۔
اختتامی خطاب ناظمہ شعبہ خواتین JIHبیدرمحترمہ ام حبیبہ نے پیش کیا۔اورکہاکہ ’’ہماری مہم اختتام تک پہنچی ہے لیکن یہ مہم پوری طرح ختم نہیں ہوئی بلکہ تاقیامت اس کو جاری رہناہے۔مہم کیلئے جن افراد اور خواتین نے ،خواتین کی تنظیموں نے ساتھ دیاہے ان سب کا میں شکریہ اداکرتی ہوں۔اللہ کے فضل سے سبھی نے ساتھ دیا اس لئے یہ کام ہوسکا۔ اب یہ مہم اپنے اپنے گھروں میں جاری رہے گی ۔ سورہ نور کی تلاوت گھروں میںکریں ۔ اور اپنے گھر کو ہدف بناکر کام ہوتارہے‘‘ شکریہ اور دعا پر اجتماع اپنے اختتام کوپہنچا۔ اس بات کی اطلاع مہم کی میڈیا انچارج محترمہ وائفہ اشرف نے دی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے